Al-Risala · July 1991

Keep Distance

Al-Risala, July 1991, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے اس کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ ان دو لفظوں میں نہایت دانائی کی بات کہی گئی ہے۔ مکمل حکمت ہے۔ اس کا تعلق سڑک کے سفر سے بھی ہے اور زندگی کے عام سفر سے بھی۔ موجودہ دنیا میں کوئی آدمی اکیلا نہیں ہے ۔ ہر آدمی کو دوسرے بہت سے انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے اپنا کام کرنا پڑتا ہے۔ ہر آدمی کے سامنے اس کا ذاتی انٹرسٹ ہے۔ ہر آدمی اپنے اندر ایک انا لیے ہوئے ہے۔ ہر آدمی دوسرے کو پیچھے کر کے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ہم زندگی کے سفر میں ” فاصلہ پر رہو “ کے اصول کو ہمیشہ پکڑے ہم دوسرے سے اتنی دوری پر رہیں کہ اس سے ٹکراؤ کا خطرہ مول لیے بغیر ہم اپنا سفر جاری رکھ سکیں ۔ اسی حکمت کو قرآن میں اعراض کہا گیا ہے۔ اگر آپ اعراض کی اس حکمت کو ملحوظ نہ رکھیں تو کہیں آپ کا فائدہ دوسرے کے فائدے سے ٹکرا جائے گا۔ کہیں آپ کا ایک سخت لفظ دوسرے کو مشتعل کرنے کا سبب بن جائے گا۔ کہیں آپ کی بے احتیاطی آپ کو غیر ضروری طور پر دوسروں سے الجھا دے گی۔ اس کے بعد وہی ہو گا جو سڑک پر ہوتا ہے۔ یعنی حادثہ (accident) سڑک کا حادثہ آدمی کے سفر کو روک دیتا ہے۔ بعض اوقات خود مسافر کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اسی طرح زندگی میں مذکورہ اصول کو ملحوظ نہ رکھنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کی ترقی کا سفر رک جائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ خود اپنی زندگی سے محروم ہو جائیں ۔ آپ تاریخ کے صفحہ سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیے جائیں۔

Printed page