Al-Risala · July 1991

ایک سنت

Al-Risala, July 1991, pp. 16–18

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اہل اسلام کے لئے ایک معیاری نمونہ ہے۔ کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے، خواہ وہ مسواک جیسا انفرادی معاملہ ہو یا جہاد جیسا اجتماعی خواہ وہ آج کا مسئلہ ہو یا ہزاروں برس بعد کا کوئی مسئلہ۔

سنت کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک سنت وہ ہے جو اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے مطلوب مثلاً آپ نے فرمایا کہ صلوٰ کما رأیتمونی أصلی (مشکوٰة المصابیح ، ۱ / ۲۱۵) اس حدیث کا تعلق اصلًا نماز کی ظاہری صورت (form) سے ہے۔ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور خود بھی اسی طرح نماز ادا کی۔ اسی طرح اس کے بعد صحابہ کو دیکھ کر تابعین نے اور تابعین کو دیکھ کر تبع تابعین نے نماز پڑھی۔ یہ سلسلہ نسل در نسل امت میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ آج ہم جو نماز پڑھتے ہیں ، وہ بھی بالواسطہ طور پر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی نقل ہوتی ہے۔

اسی طرح حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے اونٹ پر بیٹھ کر حج کے مراسم ادا کئے تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ اے لوگو ، مجھ کو حج کرتے ہوئے دیکھو اور اسی کے مطابق تم حج کے مناسک ادا کرو ( خذوا عنی مناسکم )

یہ سنت کی پہلی قسم ہے۔ اس میں یہ مطلوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی فعل کو جس شکل میں کیا ہے ، عین اسی شکل میں اس کو ادا کیا جائے ۔ اس کو سنت ظاہری کہا جاتا ہے۔ دوسری سنت سنت معنوی ہے۔ یعنی وہ سنت جو اپنی روح (Spirit) کے اعتبار سے مطلوب ہوتی ہے۔ اس دوسری سنت میں ظاہری شکل اضافی ہے ، اور اس کی معنوی روح حقیقی اور اصل مطلوب کی حیثیت رکھتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن ۲۳ سال کے عرصہ میں اترا۔ جب بھی قرآن کا کوئی حصہ اترتا تو اسی وقت آپ کسی کاتب کو بلا کر اس کو لکھواتے۔ آپ کی خدمت میں ہر وقت کوئی نہ کوئی کاتب موجود اس طرح کاتبان وحی کی تعداد ۴۰ سے زیادہ شمار کی گئی ہے۔ آپ کو اس کا اتنا زیادہ اہتمام

تھا کہ ہجرت کے نازک سفر میں بھی مسلم اور کا غذ آپ کے ہمراہ تھا اور ایک کاتب وحی (ابوبکر صدیق) آپ کے ساتھ چل رہے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پورا قرآن اس زمانہ کے اوراق اور کا غذات پر لکھا جا چکا تھا۔ بہت سے صحابہ مثلاً زید بن ثابت انصاری، پورے قرآن کے حافظ تھے۔ میں آپ نے ایک بار پورے قرآن کو سلسلہ وار پڑھا اور صحابہ کی ایک جماعت نے اس کو براہ راست آپ سے سنا۔ اس کو حدیث کی کتابوں میں العرضۃ الاخیرہ کہا گیا ہے۔

اس طرح کے مختلف اہتمام کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو ایک جلد کی صورت میں جمع نہیں فرمایا۔ آپ کی وفات کے وقت قرآن یا تو لوگوں کے سینہ میں تھا، یا متفرق ٹکڑوں اور اوراق پر لکھا ہوا تھا۔ وہ ایک واحد کتاب کی صورت میں مرتب نہیں ہوا تھا جیسا کہ آج وہ ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقینی طور پر اس سے باخبر تھے کہ اس صورت حال کو بعد کے لوگ کتاب اللہ کے بارے میں شوشے بنائیں گے۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں مستشرقین نے اس واقعہ کولے کر طرح طرح کے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر مستشرقین کی مرتب کردہ دائرۃ المعارف الاسلامیہ (انسائیکلو پیڈیا آف اسلام) کی پانچویں جلد میں اس مسئلہ کو اٹھایا گیا ہے اور اس کی مختلف توجیہیں کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک توجیہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کا خیال تھا کہ قیامت کا وقت قریب آگیا ہے اور جلد ہی یہ دنیا ختم ہو جائے گی، اس لئے قرآن کو ایک جلد میں مرتب کرنے کا جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہوا :

ان الرسول كان يتوقع قرب قيام الساعة ونهاية العالم فى زمن قريب ۔ له داعى الى جمع القرآن (الوعى الاسلامی، کویت ، رمضان ۱۴۱۰ھ) )

ان امکانی خطرات کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل کہ آپ نے قرآن کو ایک صحیفہ کی صورت میں مجلد نہیں کرایا، یہ کوئی بھول یا غلطی کی بات نہیں ہے، یہ خود آپ کی ایک سنت ہے۔ ایسا آپ نے قصد و ارادہ کے تحت کیا۔ کیوں کہ اس سے ایک اہم دینی فائدہ وابستہ تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دین کو کامل کرنا تھا، اس لئے نا ممکن تھا کہ آپ کسی دینی کام کو غیر کامل حالت میں

یہ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معنوی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو موجودہ زمانہ میں ضرورت تھی کہ اس سنت نبوی پر عمل کیا جاتا۔ مثلاً اس کی ایک صورت یہ تھی کہ موجودہ زمانہ میں پریس کی ایجاد اور مواصلات کے جدید ذرائع کے ظہور نے اس کا امکان پیدا کر دیا تھا کہ قرآن کو بآسانی تمام قوموں کے سامنے پیش کیا جاسکے۔ اب اگر ہمارے رہنماؤں نے اس سنت کو زندہ کیا ہوتا۔ اور وہ قوم کو ابھارتے کہ قرآن کا ہر زبان میں مستند ترجمہ کرو۔ اس کو چھپواؤ۔ کو ساری دنیا میں پہنچاؤ تو یہ اتنا بڑا کام ہوتا کہ امت پوری کی پوری اس کام میں مشغول ہو جاتی۔ اس رخ پر عمل شروع کرنے کے بعد اس کے بے شمار پہلو نکلتے۔ ہر آدمی اس میں اپنے لئے کرنے کا

اس طرح گویا مسلمان قرآن کو موجودہ زمانہ کے لحاظ سے از سر نو دریافت (Rediscover) قرآن دوبارہ ان کے لئے ایک زندہ کتاب بن جاتا جو ان کی پوری زندگی میں دینی بھونچال پیدا مگر بروقت اس قسم کی رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے پوری ملت سیاست کی چٹان پر بے فائدہ طور پر اپنا سر پٹک رہی ہے اور نتیجہ دین سے بھی محروم ہے اور دنیا سے بھی۔ رجالِ امت کے ایمان افروز واقعات جنوری ۱۹۹۲ کا الرسالة انشاء اللہ خصوصی نمبر کے طور پر شائع کیا جائے گا۔ کا عنوان ”شخصیات اسلام“ ہوگا۔ اس میں تابعین کے دور سے لے کر اب تک کی اسلامی شخصیتوں کے ایمان افروز واقعات درج ہوں گے۔

صاحبانِ ایکنسی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیں تو پیشگی طور پر مطلع فرمائیں۔ (قیمت ۵ روپیہ)

Printed page