جاپان میں دعوت
Al-Risala, July 1991, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۶ اپریل ۱۹۹۱ کو جناب عبدالقادر خاں صاحب ( پیدائش ۱۹۳۶ ) سے ملاقات ہوئی وہ بمبئی میں رہتے ہیں (2615016 .Tel) انھوں نے بتایا کہ وہ بین اقوامی نمائش (70 Expo) کو دیکھنے کے لئے ۱۹۷۰ء میں جاپان (ٹوکیو) گئے تھے۔ وہاں وہ ایک ہفتہ تک رہے۔ وہ اپنے گروپ کے ساتھ ٹوکیو ائیر پورٹ پر اترے تو وہاں کچھ جاپانی باشندے پہلے سے موجود انھوں نے پیش کش کی کہ آپ میں سے جو صاحب ہمارے ساتھ قیام کرنا پسند کریں، ان کو ہم اپنے گھر لے جانے کے لئے تیار ہیں۔ عبدالقادر خاں صاحب جاپانیوں کو قریب سے دیکھنا چاہتے تھے۔ اس پیش کش کو قبول کرتے ہوئے وہ ایک جاپانی کے ساتھ چلے گئے۔
عبدالقادر صاحب کو ایک ہفتہ تک اس جاپانی خاندان کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ بیشتر وقت باہر نمائش وغیرہ دیکھنے میں گزرتا۔ شام کو وہ جاپانی کے گھر آجاتے اور رات اس کے یہاں گزارتے چوں کہ جاپانی نے اپنے گھر ٹھہرانے کے لئے کوئی معاوضہ نہیں لیا تھا، ان کو خیال ہوا کہ وہ انھیں کوئی چنانچہ انھوں نے ٹوکیو میں جاپانی ساخت کا ایک کیمرہ خریدا اور اس کو اپنے میزبان کے بچہ کو بطور تحفہ پیش کیا۔
جاپانی میزبان نے تحفہ قبول کر لیا۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ یہ کیمرہ آپ نے جہاں سے خریدا ہے، اس نے آپ کو اس کی رسید دی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ جاپانی نے بہت نرمی اور شرمندگی کے ساتھ کہا کہ بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ وہ رسید ہم کو دے دیں۔ چنانچہ عبد القادر صاحب نے وہ رسید انھیں دے دی۔
تاہم عبدالقادر صاحب کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ جاپانی نے کیوں ایسا کیا۔ کو لے کر وہ اس کو کیا کرے گا۔ انھوں نے معافی مانگتے ہوئے اپنے جاپانی میزبان سے کہا کہ اگر کوئی ہرج نہ ہو تو آپ مجھے یہ بتانے کی زحمت گوارا کریں کہ کیمرہ کی رسید کیوں آپ نے طلب فرمائی۔ جاپانی نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ آپ یہاں ٹورسٹ (سیاح) کے طور پر آئے ہیں۔ میں یہ قاعدہ ہے کہ ٹورسٹ لوگوں کو جاپانی مصنوعات خصوصی رعایت پر دی جاتی ہیں۔ مثلاً یہ کیمرہ جولائی ۱۹۹۱ | رسالہ 21
آپ کو چالیس فی صد کم قیمت پر دیا گیا ہوگا۔ یہ اس صورت میں ہے جب کہ کیمرہ ملک کے باہر جارہا ہو۔ اب یہ کیمرہ ملک کے اندر رہے گا اس لئے اب اس پر رعایت کا حق باقی نہیں رہتا۔ آپ سے یہ رسید ہم نے اس لئے لی ہے کہ ہم اس کولے کر دکان پر جائیں گے اور وہاں اس کی بقیہ قیمت ادا کریں گے، تاکہ ہماری وجہ سے جاپان کا قومی نقصان نہ ہونے پائے۔
اس قسم کے واقعات بار بار الرسالہ میں آتے رہے ہیں۔ وہ جاپانیوں کے قومی کیریکٹر کو بتاتے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جاپانی لوگ کتنے زیادہ با اصول اور باکردار ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جاپان کے باشندے اپنی فطرت پر ہیں۔ وہ اپنے فطری اوصاف پر قائم اور فطری اوصاف جب شرعی اوصاف کی صورت اختیار کر لیں تو اسی کا نام اسلام ہے۔ مطلب ہے اس حدیث کا جس میں فرمایا گیا ہے کہ جاہلیت میں جو لوگ بہتر ہوں وہی اسلام میں بھی بہتر ہوتے ہیں خیاركم في الجاهلية خياركم في الاسلام۔
ایک سفر میں میری ملاقات ایک جاپانی نومسلم سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ جاپانی لوگ اپنی فطری استعداد کی بنا پر اسلام سے بہت قریب ہیں۔ جاپانی قوم بالقوہ طور پر مسلمان ہی ہے: Japanese people are potentially Muslims. آج سخت ترین ضرورت ہے کہ جاپانیوں تک اسلام کی دعوت پہنچائی جائے۔ مگر اس کے لئے جاپانی زبان کو جاننا بہت ضروری ہے۔ کاش ہمارے کچھ نوجوان اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو وقف کر سکیں۔ وہ جاپانی زبان سیکھ کر اس میں بخوبی واقفیت حاصل کریں اور پھر جاپان جا کر وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت پہنچائیں۔
اسلام دین فطرت ہے۔ وہ ان لوگوں کو فوراً اپیل کرتا ہے ہو،جنہوں نے اپنی فطرت کو بچایا ہو، جنھوں نے اپنی فطرت کو بگڑنے سے محفوظ رکھا ہو۔
پونہ میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لیے مندرجہ ذیل پتہ پر رابطہ قائم کریں:
ISLAMIC BOOK CENTRE 1050 Raviwarpet PUNE 411 002 Phone: 448330.