Our brand of secularism needs a second look.
Al-Risala, July 1991, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آرٹیکل میں موصوف یہ شکایت کرتے ہیں کہ اس ملک کے ہندو و تقسیم کے بعد سیکولرزم کے اصولوں پر مگر مسلمان اس پر قائم رہنے کا ثبوت نہ دے سکے۔ اس ذیل میں وہ کہتے ہیں کہ یقیناً مسلمانوں میں کچھ ایسے افراد موجود ہیں جو واقعی سیکولر احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر وہ اپنے آپ کو اپنے فرقہ میں تقریبا غیر مؤثر اور مکمل طور پر علیحدہ پارہے ہیں :
Of coarse there are some well-meaning Muslim friends who display genuine secular feelings, but they find themselves almost ineffective and totally isolated within their own community (p. 10)
ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں مذکورہ ریمارک سے مجھے اختلاف نہیں۔ مگر میں کہوں گا کہ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ، یہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترک مسئلہ ہے ۔ اس ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی اکثریت کا مسئلہ ان کی بے شعوری ہے۔ اس بے شعوری کی بنا پر ایسا ہو رہا ہے کہ جو شخص جوش و جذبات کی باتیں کرے وہ دونوں فرقوں میں مقبولیت حاصل کر لیتا ہے ۔ اور جو شخص سنجیدگی اور حقیقت پسندی کی بات کرے ، وہ دونوں فرقوں میں غیر مقبول ہو کر رہ جاتا ہے ۔
ہندوؤں کی اسی کمزوری کا یہ نتیجہ تھا کہ آزادی کے بعد سردار پٹیل کو ملکی سیاست میں بڑا مقام مگر راج گوپال اچاری جیسا لائق آدمی ان کے درمیان عام قبولیت حاصل نہ کر سکا ۔ آج دونوں فرقوں کی یہی سب سے بڑی کمزوری ہے ۔ اس کمزوری کو دور کرنے ہی پر ملک کی ترقی کا انحصار ہے، اور اگر یہ کمزوری دور نہ ہوئی تو ملک کو بربادی سے بچانے کی ہر کوشش ناکام ثابت ہوگی۔