Al-Risala · July 1991

عید الاضحیٰ

Al-Risala, July 1991, pp. 24–27

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی شریعت میں سال کے اندر دو تیوہار مقرر کئے گئے ہیں۔ ایک عید الفطر۔ دوسرے عید الاضحیٰ۔ اصل اسلامی تیوہار یہی دو ہیں۔ ان کے علاوہ اور جو تیوہار مسلمانوں میں رائج ہیں اور جن کو وہ مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں، وہ سب مسلمانوں کے اپنے قومی رواج ہیں۔ ان کا اسلام کی اصل تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔

عید الفطر کا تیوہار روزہ کا مہینہ ختم ہونے کے فوراً بعد شوال کی پہلی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے افطار کی عید۔ یعنی مہینہ بھر کا روزہ رکھنے کے بعد کھانے پینے کی عید۔ روزہ رکھنا حرام ہے۔ مسلمان اس دن شکرانہ کی دو رکعت نماز پڑھتے ہیں۔ آپس میں مل کر خوشی مناتے ہیں۔ کھانے پینے اور ملنے جلنے کے پروگرام کرتے ہیں۔

عید الاضحیٰ کا مطلب ہے قربانی کی عید۔ عوام میں اس دوسری عید کو بقر عید کہا جاتا ہے۔ یہ نام غلط ہے۔ اس تیوہار کا نام بقر عید نہیں ہے۔ اس کا صحیح اسلامی نام عید الاضحیٰ ہے۔ مطلب ہے قربانی کی عید۔ یہ دوسری عید قمری سال کے آخری مہینہ میں ذوالحجہ کی دس تاریخ کو منائی اس دن مسلمان دو رکعت اجتماعی نماز پڑھتے ہیں۔ قربانی کرتے ہیں اور کھاتے اور کھلاتے اور اللہ کی بڑائی کا چرچا کرتے ہیں۔

اسلامی اصول کے مطابق، ان دونوں تیوہاروں میں سے کوئی بھی تیوہار کھیل تماشے یا قومی ہنگاموں کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ دونوں تیوہار انتہائی سنجیدہ عمل کی یاد دہانی کے لئے ہیں۔ مہینہ صبر اور برداشت کی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس پر مشقت تربیتی کورس سے گزرنے کے بعد عید الفطر آتی ہے جو گویا اس بات کی خوشی کے لئے ہے کہ مسلمانوں نے صبر و برداشت کی تربیت کا مہینہ کامیابی کے ساتھ گزار لیا۔ عید الفطر کا دن صابرانہ زندگی گزارنے کے عہد کا دن ہے نہ کہ بے صبری کے مظاہرے کرنے کا دن۔

عید الاضحیٰ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ عید الاضحیٰ دراصل قربانی کا سبق ہے۔ یہ عید مسلمانوں کو یہ بتاتی ہے کہ تمہیں زندگی کے امتحان میں اپنی ذات کی قربانی کا ثبوت دینا ہوگا۔ قربانی کے بغیر تم اپنی زندگی

کی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتے۔ قربانی کے بغیر تم اللہ کے مطلوب بندے نہیں بن سکتے۔ عید الاضحیٰ یا عید قرباں حضرت ابراہیم کی زندگی کی یادگار ہے۔ وہ آپ کے ایک تاریخی عمل کی علامتی یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ عید الاضحیٰ کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے حضرت ابراہیم کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ حضرت ابراہیم نے وہ عمل آخری مثالی صورت میں کیا جس کو اپنی زندگی میں دہرانے کا عہد عید الاضحیٰ کے دن ہر سال کیا جاتا ہے۔

حضرت ابراہیم ایک پیغمبر وہ چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے لوگوں کو خدا پرستی اور انسانیت کی طرف پکارا۔ مگر آپ کے بھتیجے کے سوا کسی نے آپ کی بات نہ مانی۔ کی وجہ یہ تھی کہ تمدن کی مصنوعی زندگی نے لوگوں سے فطری انسانی اوصاف چھین لئے تھے۔ باتوں میں مشغول ہو گئے تھے اور گہری باتوں سے انھیں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی تھی۔ اس وقت اللہ کی ہدایت پر حضرت ابراہیم نے ایک نئی نسل تیار کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے جا کر بسادیا۔ وہاں اس وقت انسانی آبادی نہ تھی۔ صرف فطرت کا سادہ ماحول تھا۔ پہاڑ ، صحرا ، کھلے میدان ، سورج ، چاند ، آسمان ، رات اور دن بس اسی قسم کے فطری مناظر تھے جن کے درمیان اسماعیل کو اور ان کی اولاد کو رہنا پڑا۔ اس صحرائی زندگی میں رہنا اپنے آپ کو ذبح کرنے کے ہم معنی تھا۔ کیوں کہ اس وقت وہاں ہر طرف موت کا منظر تھا۔ وہاں اس وقت زندگی کا کوئی سامان موجود نہ تھا۔ حضرت ابراہیم نے بے آب و گیاہ صحرا میں اس طرح بسا کر اپنے بیٹے کو ذبح کیا۔ وہاں کے مشکل ترین ماحول میں دو ہزار سال تک توالد و تناسل کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ ایک نئی نسل بن کر تیار ہوگئی جس کو تاریخ میں بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ یہ نسل تمدن سے کٹ کر خالص فطرت کے ماحول میں تیار ہوئی تھی۔ بنو اسماعیل اس زمانہ میں بالکل نئے قسم کے انسان تھے ۔ مورخین کے بیان کے مطابق، ان میں سے ہر شخص گویا ہیرو تھا۔ ان کے اندر تمام فطری انسانی اوصاف پوری طرح زندہ تھے۔ بولتے تھے، وہ جھوٹ بولنا نہیں جانتے تھے ۔ وہ وعدہ پورا کرتے تھے ، وعدہ خلافی ان کے لئے ناقابل تصور چیز تھی۔ وہ فیاض تھے ، بخیلی کو وہ سخت ناپسند کرتے تھے۔ وہ کمزور کی مدد کرتے تھے ، کمزور کو ستانا یا لوٹنا ان کے نزدیک بہت بڑا جرم تھا۔ وہ جو کچھ کہتے وہی کرتے ، اور وہی کرتے جو انھوں

نے اپنی زبان سے کہا ہے ۔

ی وہ اعلیٰ انسانی گروہ تھا جس نے بعد کو پیغمبرِ اسلام کا ساتھ دیا۔ اسی سے وہ انسانی ٹیم بنی، جس نے دنیا میں پہلی بار آ زادی اور مساوات کا انقلاب برپا کر دیا۔ سوامی ویویکانند نے اپنے لیٹرز میں لکھا ہے انسانی برابری (equality) کا نظام اگر کبھی قابلِ لحاظ درجہ میں کسی مذہب نے قائم کیا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے :

Mr experience is that if ever any religion approached to this equality, it is Islam and Islam alone. (p.379). اسلام نے انسانی مساوات کا جو نظام اپنے دورِ اول میں قائم کیا ، وہ اس نے اسی مذکورہ نسل کے ذریعہ قائم کیا جو عرب کے صحرا میں عظیم الشان قربانی کے ذریعہ تیار کی گئی تھی۔ اس کے اندر فطری انسانی اوصاف زندہ تھے، اسی لئے وہ اس قابل بنی کہ وہ اعلیٰ مقصد کو اپئے اور قربانی دے کر اس کو عملاً قائم کرے۔ یہ تاریخی کارنامہ ایک عظیم قربانی کا کرشمہ تھا۔

عیدِ اضحیٰ کے موقع پر جانور کی جو قربانی کی جاتی ہے، وہ مذکورہ ابراہیمی واقعہ کی یادگار ہے ۔ حضرت ابراہیم نے ایک نئی جاند ارنسل تیار کرنے کے لئے اپنے بیٹے کو قربان کیا۔ عیدِ اضحی کا دن اسی قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ عیدِ اضحیٰ کا دن بتاتا ہے کہ زندگی میں کوئی بڑا کام قربانی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ایک نسل تیار کرنا، ایک سماج بنانا، ایک ملک کو آگے بڑھانا، ہر کام اس وقت انجام پاتا ہے جب کہ کچھ لوگ اُس کو اس طرح اپنا مقصد بنائیں کہ اس کے لئے وہ ہر قربانی دینے پر آمادہ ہو جائیں ۔ عیدِ اضحیٰ کے موقع پر جانور کا ذبح کرنا نا اسی ذاتی قربانی کا فدیہ ہے۔ اصل قربانی تو اپنی ذات کی ہے۔ عیدِ اضحیٰ کے دن جو جانور ذبح کیا جاتا ہے وہ ذاتی قربانی کی علامت ہے۔ وہ ذاتی قربانی کا عملی یا علامتی عہد ہے۔ چنانچہ قربانی کرنے والا اگرچہ بظا ہر جانور ذبح کر رہا ہوتا ہے مگر اس وقت وہ اپنی زبان سے جو دعا پڑھتا ہے اس کے الفاظ یہ ہوتے ہیں :

"بے شک میری عبادت اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا سب کا سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ خدایا تو نے ہی دیا ہے اور تجھی کو میں لوٹاتا ہوں ۔ جانور کی قربانی دراصل ذاتی قربانی کا سبق ہے۔ یہ ذاتی قربانی حضرت ابراہیم نے ایک خاص صورت میں دی۔ حالات کے اعتبار سے وہ مختلف صورتوں میں ہر زمانہ میں مطلوب ہوتی ہے۔

ایک لیڈر کو قوم کی ترقی کی خاطر ذاتی مقبولیت کو قربان کرنا ہوتا ہے۔ کبھی کچھ افراد کو سماج کی مجموعی بہتری کے لئے ذاتی تقاضوں کو دبانا پڑتا ہے۔ کبھی کسی قوم کی حال کی نسل کو قربان ہونا پڑتا ہے تاکہ اس کی مستقبل کی نسل کامیابی کی منزل تک پہنچ سکے۔ کبھی ایک گروہ کو اپنی خوشیوں سے محروم ہونا پڑتا ہے تاکہ وسیع تر انسانیت کو خوشیوں کی نعمت مل سکے۔

عید اضحی کا پیغام یہ ہے کہ _________ قربانی کے لئے تیار رہو۔ جب کبھی کسی بڑے مقصد کے لئے اپنے آپ کو قربان کرنے کا موقع آئے تو فوراً اپنے آپ کو اس کے لئے قربان کر دو جس طرح آج تم نے ایک جانور کو قربان کیا ہے۔ جانور کی قربانی حقیقتاً ذاتی قربانی کا ایک مقدس عہد ہے۔ اور اللہ کے یہاں قربانی دینے والا وہ ہے جو اپنے اس عہد کو اپنی زندگی میں پورا کر دکھائے۔ عید اضحی دراصل حج کی عظیم عبادت کا ایک جزو ہے۔ حج کی صورت میں ہر سال جو مراسم عرب میں ادا کئے جاتے ہیں وہ سب کے سب حضرت ابراہیم کی تاریخ کا علامتی اعادہ ہیں۔ کو ایک خدا پرستانہ انقلاب لانا تھا۔ اس کے لئے انھوں نے اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں دے دیا۔ عمل کے دوران ان پر یا ان کے اہلِ خانہ پر جو احوال گزرے، انھیں کو حاجی دہراتا ہے۔ حضرت ابراہیم کے حقیقی واقعات کا علامتی اعادہ ہے۔

اسی حج کے عمل کا ایک جزو نماز اور قربانی ہے جس کو انھیں دنوں میں ساری دنیا کے مسلمان معروف حج بڑا حج ہے اور عید اضحی گو یا چھوٹا حج۔

Printed page