Al-Risala · January 1991

دوطرفہ مشکل

Al-Risala, January 1991, pp. 32–35

By Maulana Wahiduddin Khan

دین دیال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (نئی دہلی) کے تحت ۱۵ اگست ۱۹۹۰ء کو ایک سمپوزیم ہوا۔ میں اعلیٰ ہندود دانشوروں نے حصہ لیا۔ اس کی مکمل کارروائی انسٹی ٹیوٹ کے منتقلی جرنل منتهن (Manthan) کے شمارہ ستمبر ۱۹۹۰ء میں چھپی ہے۔

سمپوزیم کے ایک مقرر ٹائمس آف انڈیا کے سابق ایڈیٹر شری گری لال جین تھے۔ اپنی تقریر میں کہا کہ عام تصور کے خلاف، ملک کے سامنے بنیادی مسئلہ، جیسا کہ میرا خیال ہے، ہندو مسلم مسئلہ نہیں ہے اور نہ کبھی تھا۔ بنیادی مسئلہ دراصل ہندو ہندو مسئلہ ہے۔ یہی پہلے بھی تھا، اور یہی مستقبل بعید تک باقی رہے گا۔ ہند وسماج ، جیسا کہ سب کو معلوم ہے ، نہایت گہرائی کے ساتھ ذات کی بنیاد پر بٹا ہوا ہے۔ آزادی کے بعد سے ملک کے با اختیار طبقے کی ہر کوشش جو اس کی اصلاح کے لئے کی گئی اس نے صرف اس کش کش میں اضافہ کیا۔

اس کا آخری مرحلہ یہ ہے کہ ہم وشو نا تھ پرتاپ سنگھ کی عظیم قیادت کے تحت ملک میں خانہ جنگی کے حالات دیکھ رہے ہیں۔ ہندوستان کی آزادی خونی حالات میں آئی۔ آزادی بار بار خون میں نہلائی گئی ہے۔ میں یہ اندوہ ناک احساس رکھتا ہوں کہ جو کچھ ہم نے ماضی میں دیکھا ہے Contrary to the popular perception, the central issue before the country, as I see it, is not, and has not been, the Hindu-Muslim problem. The central issue has been, and is going to remain for the foreseeable future, the Hindu-Hindu problem. The Hindu society, it is a commonplace, is deeply fragmented along caste lines, and since independence every 'care' has been taken by many of those in charge of the country's affairs to see to it that those conflicts get aggra- vated. Finally, under the 'great' leadership of Vishwanath Pratap Singh, we face conditions of near civil war. I view the future of India - I am sorry to say on Independence Day with deep misgivings. Independence itself, you will recall, was born in bloodshed. Inde- pendence has since then been bathed in blood again and again. I have the ter- rible feeling that what we have seen in the past will pale into insignificance in comparsion with what awaits us in the future. I do not believe that anything like sensible political order is likely to emerge in this country in the near future, or indeed forseeable future. The Muslim problem is only one expression of this failure of the Hindus to create and sustain a political order which conforms to their genius and needs.

وہ اس کے مقابلہ میں بہت ہلکا ہے جو مستقبل میں ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ میرا یقین نہیں ہے کہ ملک میں آئندہ کوئی ایسی چیز ظاہر ہونے والی ہے جس کو معقول سیاسی نظام کہا جا سکے۔ ہندوؤں کی اس ناکامی کا صرف ایک اظہار ہے کہ وہ ملک میں ایسا سیاسی نظام قائم نہ کر سکے جو ان کی اہلیت اور ملکی ضرورتوں کے مطابق ہو۔ (صفحہ ۲۶ - ۲۷)

مسٹر گری لال جین نے جو بات یہاں کہی وہ بے حد قابل غور ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندو سماج کی بنیاد چار ورن (caste system) پر ہے۔ کاسٹ سسٹم ہندو ازم کا لازمی جزء ہے۔ کی نفی کی قیمت پر ہی تقسیم انسانیت کے اس اصول کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ ہندو ازم کو مانتے ہوئے اس اصول کا انکار ممکن نہیں۔ کیوں کہ یہ اصول ہندو ازم کی مقدس کتابوں میں واضح طور پر درج ہے۔ مثال کے طور پر رگ وید میں سماج کو چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اور اس کی وجہ ان کا نیچا اور اونچا ہونا ہے۔ اس کے مطابق برہمن، کشتری، وشیش اور شدر، بالترتیب خدا کے منہ، بازو، ران اور پاؤں سے پیدا ہوئے ہیں۔

برہمن کا کام مذہبی رسوم ادا کرنا ہے، کشتری کا کام فوجی ذمہ داریوں کو نبھانا ہے۔ کام زراعت کرنا اور شدر کا کام خدمت کرنا ہے۔

ہندو سماج میں یہ تصور کتنی گہرائی کے ساتھ جما ہوا ہے، اس کا ایک مظاہرہ ۱۹۹۰ء میں منڈل کمیشن کے خلاف تحریک کی صورت میں ہوا۔ یہ تحریک اتنی شدید تھی کہ تقریباً ۱۰۰ ہندو نوجوانوں نے خود سوزی کا انتہائی اقدام کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ منڈل کمیشن نے پست طبقہ کے لوگوں کے لئے سرکاری ملازمتوں میں ۲۷ فیصد رزرویشن دے دیا تھا۔ اوپر کا ہندو طبقہ اس کو دیکھ نہیں سکتا تھا کہ پست طبقہ کے افراد اس طرح سرکاری سروسوں میں ان کے برابر پہنچ جائیں۔ اونچے طبقہ کے ہندو نوجوانوں نے اس کے خلاف اتنی زبردست تحریک چلائی کہ سابق وزیراعظم وی پی سنگھ کی حکومت ہل گئی۔ یہاں تک کہ ۲ نومبر ۱۹۹۰ء کو مسٹر سنگھ نے اپنے عہدہ سے استعفادے دیا جس نے منڈل کمیشن کی تجاویز کو رائج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کاسٹ سسٹم ہندو قوم کے اتحاد میں ایک ابدی رکاوٹ ہے۔ اس سسٹم کے ہوتے ہوئے ہندو قوم کبھی متحد نہیں ہوسکتی۔ اور جہاں اتحاد نہ ہو وہاں طاقت کا وجود بھی نہیں۔

پھر ہند و قوم میں اتحاد دلانے کا طریقہ کیا ہو۔ صف اول کے ایک ہند و جرنلسٹ (گرمی لال جین) نے اس پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہند و قوم کے پاس متحد ہونے کی کوئی مثبت بنیاد موجود نہیں ۔ وہ صرف منفی جذبہ کی بنیاد پر متحد ہو سکتی ہے ۔ اور یہ منفی جذ بہ موجودہ حالات میں صرف مسلم دشمنی ہے۔ موصوف نے لکھا ہے کہ ہم اینٹی مسلم احساس کو بھڑکا کر ہی ہند وؤں کو متحد کر سکتے مگر منفی بنیاد پر پیدا کیا جانے والا اتحاد کبھی مثبت فائدہ کا سبب نہیں ہو سکتا۔ اس طرح کا اتحاد تخریبی نتیجہ دکھا سکتا ہے مگر وہ تعمیری کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔

مسٹر گرمی لال جین نے ہند و سماج کی اس مشکل کا ذکر (ٹائمز آف انڈیا ۲۳ جولائی ۱۹۸۷) کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس طرح ہم دو طرفہ مشکل میں مبتلا ہیں۔ کیوں کہ جو چیز ممکن ہے وہ مطلوب نہیں اور جو چیز مطلوب ہے وہ ممکن نہیں:

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہند و سماج کتنی زیادہ بے بسی کی حالت میں ہے۔ وہ خود اپنی بنیاد پر کھڑا نہیں ہو سکتا ۔ اس کو کھڑا ہونے کے لئے لازمی طور پر ایک خارجی سہارا درکار ہے۔ اگر یہ خارجی سہارا موجود نہ ہو تو اس کی دیوار اپنے آپ گر پڑے گی، بغیر اس کے کسی نے براہ راست طور پر اس کو گرانے کی کوشش کی ہو۔

مسلمانوں کے نادان لیڈر بابری مسجد تحریک کو حد تناسب سے باہر لے گئے۔ انھوں نے بابری مسجد کے نام پر دھواں دھار تحریک چلا کر ہند وؤں کو یہی سہارا فراہم کر دیا۔ ہند وؤں کے انتہا پسند لیڈروں نے مسلمانوں کے پر جوش قائدین کے لفظی طوفان کو بھر پور طور پر استعمال کیا۔ انھوں نے اس کے ذریعہ سے اپنی قوم میں اینٹی مسلم فیلنگ پیدا کر دی۔ وہ چیز جس کو ہند و لہر (Hindu wave) اور ہند و اتحاد کہا جاتا ہے، وہ تمام تر اسی اندھی اینٹی مسلم فیلنگ پر کھڑا ہوا ہے جس کا موقع خود ہمارے نادان لیڈروں نے ۱۹۸۶ اور ۱۹۹۰ کے درمیان اپنی سطحی کار روائیوں کے ذریعہ فراہم کیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر مسٹر لال کرشن آڈوانی کی رتھ یاترا یکم اکتوبر ۱۹۹۰ کو سومناتھ سے شروع

اس کو دس ہزار کلومیٹر کا سفر کر کے اجودھیا پہنچنا تھا ۔ ۱۶ اکتوبر کو وہ دہلی میں داخل ہوئے ۔ یہاں انھوں نے زبردست میٹنگ کی ۔ اس میں انھوں نے اعلان کیا کہ ہمارا " رام رتھ " ضرور اجودھیا پہنچے گا اور ہم جنم بھومی پر رام مندر بنا کر رہیں گے ۔ کوئی طاقت ہم کو اس سے روک نہیں سکتی ۔ دہلی کے انگریزی اخبار اسٹیٹس مین ( ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۰ ) میں اس میٹنگ کی پوری تفصیل چھپی ہے۔ مسٹر آڈوانی نے جو کچھ کہا ، اس میں سے ایک بات یہ تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے وشو ہندو پریشد کے ساتھ اپنا وزن صرف اس وقت ڈالا جب کہ ۱۹۸۶ میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی بنائی گئی اور اس کمیٹی نے اس مسئلہ کو ایک عوامی مسئلہ بنا دیا :

BJP had thrown its weight behind the Vishwa Hindu Parishad only when the Babri Masjid Action Committee had been formed in 1986 and made it a public issue. (p.9)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ بابری مسجد کے نام پر آل انڈیا سطح کی ایکشن کمیٹی بنانا اور اس مسئلہ کو عوامی مسئلہ کی حیثیت سے چاروں طرف پھیلانا ، یہ اصل مسئلہ کے حل میں صرف ایک رکاوٹ تھا ۔ کیوں کہ اس نے ہندوؤں میں جوابی تحریک پیدا کی اور ہندو زیادہ بڑی تعداد میں رام جنم بھومی کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اس تحریک نے مسلمانوں کو تو کچھ نہیں دیا۔ البتہ اس نے ہندو قوم کے لئے اتحاد کی بنیاد فراہم کر دی۔

یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ نفرت دو طرفہ بنیاد پر پیدا ہوتی ہے ۔ یہ تالی ہمیشہ دو ہاتھ سے بجتی ہے ۔ فریقین میں سے ایک شخص اگر اپنا ہاتھ ہٹا لے تو تالی کا بجنا اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ ہندو اتحاد نفرت کی زمین پر قائم ہے ، اور یہ نفرت کی زمین اس کو مسلمانوں کی طرف سے مل رہی ہے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لئے بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ وہ اپنے " ہاتھ " کو یک طرفہ طور پر سامنے سے ہٹا دیں ۔ اس کے بعد تالی کا بجنا اپنے آپ بند ہو جائے گا ۔ اس کے بعد نفرت کے غبارہ کی ہوا خود بخود نکل جائے گی ، اور پھر جو فضا بنے گی وہ عین اسلام اور مسلمانوں کے حق میں ہوگی ۔

Printed page