Al-Risala · July 1991

سفر نامہ امریکہ۔ ۲

Al-Risala, July 1991, pp. 31–35

By Maulana Wahiduddin Khan

اتوار کی صبح کو میں اور صغیر اسلم صاحب فجر کی نماز پڑھ کر مسجد سے واپس آئے تو ان کے مکان کے گیٹ پر اخباروں کا ایک بڑا بنڈل پڑا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ کیسا اخبار ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک اخبار ہے۔ اتوار کو خاص طور پر وہ لوگ بہت زیادہ صفحات شامل کرتے ہیں۔ پھر انھوں نے لطیفہ بنایا کہ میرے بھائی وطن سے آئے۔ صبح کو اسی طرح انھوں نے اخبار کا بنڈل دیکھا تو کہنے لگے غلطی سے وہ سارے محلہ کا اخبار یہیں چھوڑ گیا۔

ایک سفید فام امریکی نے بتایا کہ وہ ایک جاب کے سلسلے میں کچھ دنوں مصر میں رہا ہے۔ نے کہا کہ وہاں مسلمانوں کو مجھے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مجھ کو اسلام کا طریقہ بہت اچھا لگا۔ کی کون سی بات آپ کو اچھی لگی۔ اس سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ وہاں میں نے دیکھا کہ مسلمان اپنے والدین کو عزت کے ساتھ ابی (میرے باپ) اور أمّی (میری ماں) کہتے ہیں۔ ہم لوگ امریکہ میں اپنے والدین کو عام آدمیوں کی طرح صرف ان کے نام سے پکارتے ہیں۔ مجھ کو امریکی طریقہ کے مقابلہ میں اسلام کا طریقہ زیادہ پسند ہے۔

امریکہ میں آزادانہ تہذیب کے نتیجہ میں وہ رشتہ بالکل ٹوٹ گیا ہے جو فطری طور پر والدین کے ساتھ اولاد کا ہوتا ہے۔ انسان اب بھی اپنی سابقہ فطرت پر پیدا ہو رہے ہیں، مگر عملی ماحول فطرت کی اس آواز کے مطابق نہیں۔ اس طرح فطرت اور معاشرتی ماحول کے درمیان عدم مطابقت پیدا ہو گئی انسان اپنے آپ کو ایک مصنوعی قید میں محسوس کرنے لگا ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کی دعوت کے زبردست مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔ مگر یہ مواقع اسلام کی دعوت کو روحانی انداز میں پیش کرنے کے لئے ہیں نہ کہ اسلام کی دعوت کو سیاسی انداز میں پیش کرنے کے لئے۔ ۲۱ جون ۱۹۹۰ کو شمالی ایران میں جو زلزلہ آیا تھا اس کا مرکز دیلم تھا، مگر اس کے ہلکے جھٹکے سوویت یونین کے اندر آذر بائیجان تک محسوس کئے گئے۔ اس زلزلہ میں تقریباً ۶۰ ہزار آدمی اور اس سے کئی گنا زیادہ تعداد میں زخمی ہوئے۔ اس طرح کے زلزلوں میں موت کا زیادہ بڑا سبب مکانوں کا گرنا ہوتا ہے۔ اگر مکانات نہ گریں تو بہت کم موتیں واقع ہوں۔ امریکہ میں بھی زلزلے مگر یہاں اتنا زیادہ جانی نقصان نہیں ہوتا جتنا ایران اور روس میں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ

یہاں مکانات بالکل دوسرے سے بنائے جاتے ہیں۔

ارضیاتی سائنس میں غیر معمولی ترقیوں کے باوجود، زلزلہ کی پیشین گوئی ابھی تک ایک مایوس کن شعبۂ (Frustrating Science) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے اس کا امکان نہیں کہ لوگوں کو زلزلہ کی آمد کی پیشگی اطلاع دے دی جائے اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئیں ۔ البتہ ایک چیز بڑی حد تک ممکن ہے، اور وہ ہے مکانات کو اس طرح بنا نا کہ وہ زلزلہ کے جھٹکے کو سہ لیں اور گرنے سے بچ

اس مقصد کے لئے موجودہ زمانہ میں ارتھ کوئیک انجینئرنگ وجود میں آئی ہے۔ اس کے مطابق اب ترقی یافتہ ملکوں میں ایسے مکانات بنائے جاتے ہیں جن کا ڈھانچہ (Floating foundations) فلوٹنگ فاؤنڈیشن کے اصول پر بنایا جاتا ہے۔ زلزلہ کے جھٹکے آتے ہیں تو یہ مکا نات زیادہ رہتے ہیں ، وہ گر نہیں پڑتے ۔

امریکہ میں سان فرانسسکو بھی اسی طرح زلزلہ کا علاقہ ہے جس طرح ایران کا شمالی حصہ زلزلہ کا علاقہ ۱۹۸۹ میں سان فرانسسکو میں تقریباً اسی شدت کا زلزلہ آيا جیسا کہ ایران کا مذکورہ زلزلہ تھا ، مگر سان فرانسسکو کے اس زلزلہ میں صرف ۵۷۲ موتیں ہوئیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ سان فرانسسکو کے مکانات جدید تکنیک کے مطابق بنائے گئے ہیں۔

ایران کے زلزلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک اخبار نے لکھا تھا کہ ایران ایک زلزلہ والے علاقہ میں اس کو چاہئے کہ وہ اپنے تیل کی دولت کا ایک حصہ خطرہ والے مقامات پر زلزلہ روک مکانات کی تعمیر پر لگائے جو فطرت کے غضب کا شکار ہوتے تر ہلتےہیں، :

Iran, sitting on a veritable seismic volcano, must divert part of its oil- rich economy to building quake-resistant structures at places which have been subjected to nature's fury. ایران کا نام نہاد اسلامی انقلاب امریکہ سے نفرت کی بنیاد پر آیا ۔ ایران کی طاقت کا سب سے بڑا حصہ یہ ثابت کرنے پر صرف ہورہا ہے کہ امریکہ شیطان اکبر ہے، ایسی حالت میں اگر وہ امریکہ سے کوئی مفید سبق نہ لے سکا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کا

حال عام طور پر یہی ہے۔ موجودہ زمانہ کا مسلمان اقوام غیر کی نفرت میں جیتا ہے، اس لئے وہ ان سے تعمیری سبق نہیں لے پاتا۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ اصلاً ہندوستانی ہیں، مگر عرصہ سے امریکہ میں رہ رہے میں نے پوچھا کہ کیوں آپ نے انڈیا کو چھوڑ کر امریکہ میں رہنا پسند کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں پیس (امن) ہے، جبکہ انڈیا میں پیس نہیں۔

میں نے کہا کہ بات یوں نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ آپ لوگ امریکہ میں پیس کی قیمت ادا کر رہے ہیں، اس لئے یہاں آپ لوگوں کو پیس حاصل ہے۔ انڈیا میں آپ پیس کی قیمت دینے کے لئے تیار نہیں، اس لئے وہاں آپ کو پیس بھی حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کا کیا مطلب۔ میں نے ان کو منارہ (The Minaret) کا شماره (1989 Fall) دکھایا۔ یہ امریکہ کا ایک اسلامک میگزین ہے جو لاس اینجلیس سے شائع ہوتا ہے۔ شمارہ میں ایک مسلمان کا انٹرویو چھپا ہے۔ وہ کیلی فورنیا کے اسلامک سنٹر کے ترجمان ہیں۔ نیز امریکہ کی مسلم پبلک افیئرس کے اکزیکیٹو ڈائرکٹر ہیں۔ انٹرویو کا ایک سوال و جواب یہ تھا : Q. What about cases of discrimination and violence against Muslims during the decade? A. Such incidents multiplied in the 80's. Mosques were the target of vandalism. Muslim leaders were attacked verbally and physically. People like Ismail Farooqi and Yusuf Bilal were killed. In a pluralistic society where several interest groups work to outdo each other, these kinds of brutal acts are not uncommon. What was sad was that the Muslim community did not pursue these cases vigor- ously. Farooqi is almost forgotten. So is Bilal. سوال : پچھلے دہے میں امریکی مسلمانوں کے خلاف امتیاز اور تشدد کی حالت کیسی رہی۔ جواب : اس دہے کے دوران ہر قسم کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ امریکہ میں مسجدیں غارت گری کا وہاں مسلم رہنماؤں پر زبانی اور جسمانی حملے کئے گئے۔ اسماعیل فاروقی اور یوسف بلال جیسے لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔ مشترک سماج جس میں مفادات رکھنے والے گروہ ایک دوسرے کے خلاف سرگرم ہوں، وہاں اس قسم کے وحشیانہ واقعات غیر معمولی نہیں ہیں۔ مگر جو بات رنج کی ہے وہ یہ کہ یہاں کے مسلمانوں نے ان کے لئے زور دار طور پر کچھ نہیں کیا۔ فاروقی کو تقریباً بھلا دیا گیا ہے، اور اسی طرح بلال کو بھی۔

میں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات انڈیا میں ہوتے ہیں تو وہاں کے مسلمان ان کے خلاف جلوس و ے ہنگامے کھڑے کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کش مکش بڑھتی ہے جو عمومی فساد تک پہنچ جاتی ہے۔ کے برعکس امریکہ کے مسلمان، ان واقعات کو نظر انداز کرتے ہیں، اس لئے یہاں عمومی فساد کی نوبت

اشالی و رایک ہندوستانی نوجوان ہیں۔ وہ پچھلے ایک سال سے امریکہ میں رہتے ہیں۔ میں انھوں نے انگلش اسکول میں تعلیم پائی۔ انگریزی لٹریچر کا کثرت سے مطالعہ کیا۔ اب وہ کافی اچھی انگریزی انھوں نے بتایا کہ امریکی ان کی باتیں سن کر کہتے ہیں کہ تم تو ابھی ایک سال سے امریکہ میں ہو اور تم اتنی اچھی انگریزی بول رہے ہو :

You've only been here a year and you speak English so well!

انھوں نے کہا کہ عام امریکی بیرونی دنیا کے بارہ میں بہت کم جانتا ہے۔ مجھے یہ جان کر سخت دھکا لگا کہ اگر چہ ہم امریکہ کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں، مگر خود امریکی بقیہ دنیا کے بارہ میں کچھ نہیں جانتے: It came as a shock to me that, though we knew everything about America, the Americans knew next to nothing about the rest of the world. امریکیوں کا یہی حال اسلام کے بارہ میں ہے۔ عام امریکی اسلام کے بارہ میں کچھ نہیں جانتا۔ ایک امریکی نے گفتگو کے دوران کہا کہ ہم نے اسلام کے بارہ میں پہلی بار اس وقت جانا جب ہم نے سنا کہ ایران میں اسلامک ریولیوشن آگیا ہے اور وہاں کی اسلامی گورنمنٹ نے امریکی سفارت خانہ میں کام کرنے والے امریکیوں کو یرغمال (hostage) بنالیا ہے، اور جو لوگ ان کے مخالف ہیں ان کو پکڑ پکڑ کر انہیں گولی ماری جارہی ہے۔

مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ مغربی میڈیا مسلم دنیا کے صرف برے واقعات کو نمایاں کرتا ہے۔ مگر یہ شکایت بالکل بے معنی ہے کیوں کہ موجودہ دنیا میں ہمیشہ یہی ہوگا ۔ خود مسلمانوں کے اخبار اور رسالے اور کتابوں میں مغربی دنیا کے صرف برے واقعات کو بیان کیا جاتا ہے ۔ پھر ایسی شکایت سے کیا فائدہ۔

اس مسئلہ کا حل شکایت نہیں۔ اس کا حل صرف دو میں سے ایک ہے۔ یا تو مسلمان ایک

عالمی میڈیا پیدا کریں اور اس کو اتنا ترقی یافتہ بنائیں کہ دوسری قومیں اس کو دیکھنے اور پڑھنے پر مجبور ہو جائیں۔ اور اگر مسلمان ایسا نہیں کر سکتے تو دوسری ممکن صورت یہ ہے کہ وہ ان واقعات سے آخری حد تک اپنے آپ کو بچائیں جن کو مغربی میڈیا " دہشت گردی " کا عنوان دے کر اپنے یہاں پیش اس کے سوا کوئی اور صورت اس بدنامی سے بچنے کی نہیں ہو سکتی۔

امریکہ میں حال ہی میں ایک کتاب جاپان کے بارہ میں چھپی ہے۔ اس کے مصنف ۵۰ سالہ امریکی عالم معاشیات پیٹ کوٹ ہیں اور اس کا نام ہے اثر و رسوخ کے ایجنٹ :

Printed page