Al-Risala · July 1991

Is Washington in Japan's Pocket?

Al-Risala, July 1991, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک معلوماتی کتاب ہے۔ اس میں بہت سے اعداد و شمار جمع کئے گئے ہیں۔ اور یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ امریکہ میں جاپان کی تجارتی کامیابی کا خاص راز جاپان کی تجارتی لابی ہے۔ جاپان کی تجارتی کمپنیاں امریکہ کے بڑے بڑے سابق افسران کو بھاری قیمت دے کر خرید لیتی ہیں اور ان کے ذریعہ امریکہ میں اپنے تجارتی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ جاپان تقریباً ایک سو ملین ڈالر ($ 100 million) سالانہ خرچ کرتا ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن کو جاپان بلایا گیا تاکہ وہ وہاں لکچر دیں۔ اس کے لئے ریگن کو ۲ ملین ڈالر ادا کئے گئے۔

اس قسم کے اعداد و شمار بظاہر صحیح ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ ایک مبالغہ آمیز بات ہے کہ صرف اس چیز کو جاپان کی اقتصادی کامیابی کا سبب بتایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جاپان کے اندر اگر ذاتی صلاحیت نہ ہوتی تو محض " لابی " کی تدبیر اختیار کر کے وہ کبھی کامیابی کا مقام حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کی بیشتر تعداد وہ ہے جس کی دلچسپیوں کا مرکز صرف " ڈالر " ہے۔ تاہم ایک تعداد وہ ہے جو اسلام کے بارے میں لکھتی اور بولتی ہے۔ ان لوگوں سے آپ بات کریں تو وہ متفقہ طور پر کہیں گے کہ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن امریکہ ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح ہمارے بزرگ رہنما ۱۹۴۷ء سے پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ برطانیہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔

میں دونوں ہی گروہوں کو نادان سمجھتا ہوں۔ یہ ایک سطحی طرزفکر ہے کہ کسی شخص یا کسی قوم کو نامزد کرکے کہا جائے کہ بس یہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ تاہم دونوں گروہوں میں ایک فرق ہے۔ ماضی کے ہزارہ گوں جسے جس برطانیہ کو اسلام کا دشمن سمجھا، اس سے انھوں نے مکمل طور پر قطع تعلق کر لیا، مگر حال کے اسلام پسند جس امریکہ کو دشمن بتاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو ڈالر کے عوض عین اسی دشمن کے ہاتھ فروخت کئے ہوئے ہیں۔

ہماری قیادت کا دوسرا طبقہ وہ تھا جس نے " ہندو دشمن " سے بچنے کے لئے پاکستان بنایا مگر جب پاکستان بن گیا تو معلوم ہوا کہ ترقی کے تمام اعلی ذرائع باہر کے " اسلام دشمن " ملکوں میں ہیں۔ چنانچہ پاکستان بننے کے بعد وہاں کے تمام بہترین دماغ مملکت خدا داد سے نکل کر امریکہ جیسے ملکوں میں آج پاکستان کے پاس اپنی قوم کا صرف " بھس " ہے۔ اس کا " گندم " تقریبا سب کا سب امریکہ کی سرزمین میں اتر چکا ہے اور اسی طرح دوسرے مغربی ملکوں میں۔

امریکی آدمی اگر آپ کو کسی پارک میں، ہوائی جہاز میں، ایر پورٹ پر یا اور کسی مقام پر ملے تو بظاہر وہ آپ سے بالکل غیر متعلق دکھائی دے گا۔ لیکن اگر آپ اس سے کہیں کہ " معاف کیجئے، کیا میں آپ سے ایک بات پوچھ سکتا ہوں " تو وہ فوراً آپ کی طرف متوجہ ہو جائے گا اور پوری دلچسپی کے ساتھ آپ کے سوال کا جواب

ایک امریکی سے میں نے پوچھا کہ کیا امریکی لوگوں کا کیس کھوئی ہوئی روح (Lost souls) کا کیس ہے۔ اس نے کہا کہ مشرق کے لوگ ہمارے بارے میں ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقۃ ایسا میں نے کہا کہ مگر حال میں نیو واشنگٹن پوسٹ نے اے بی سی (ABC) کے ذریعہ جو اوپی نین پول کرایا ہے، اس کی رپورٹ بتاتی ہے کہ امریکہ اس وقت بڑے پیمانے پر ایک قومی مایوسی (national pessimism) میں مبتلا ہے۔ اس پول کے مطابق، ستر فی صد، یعنی ہر پانچ میں سے چار امریکی یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا ملک غلط راستہ پر چلا گیا ہے :

Printed page