Seventy per cent, or four out of five Americans,
Al-Risala, July 1991, pp. 36–39
By Maulana Wahiduddin Khan
feels that their country has gone off on the wrong track. یہ سن کر وہ دیر تک چپ رہا۔ پھر سنجیدگی کے ساتھ بولا کہ ________۔ اس مادی دنیا میں خوشی ہمیشہ
ایک نہ ملنے والی چیز بنی رہے گی۔ مگر اس کی تلاش کی خوشی بھی بہت قیمتی ہے جس میں آدمی ساری عمر لگا اکثر امریکیوں کا یہی خیال ہے:
Happiness must ultimately remain an elusive commodity in this mortal world but the pleasures of its pursuit are well worth spending a lifetime on. Most Americans seem to believe this. یہ مجبوری بھی کیسی عجیب ہے کہ آدمی خوشی کو تلاش کرنے پر مجبور ہو مگر وہ خوشی کو کبھی پا نہ سکے۔ ۳۰ نومبر کو صغیر اسلم صاحب کے گھر والے نہیں تھے۔ دوپہر کو انھوں نے خود کھانے کا انتظام کیا۔ جدید طرز کے باورچی خانہ میں کھانے کی میز کے سامنے بیٹھ گیا۔ انھوں نے فریج سے سالن نکال کر اس کو پلیٹ میں رکھا اور اس کو گرم کرنے کے لئے مائیکرو ویو اووین (Microwave Oven) کے خانہ میں ڈال کو بند کر دیا۔ اس کے بعد ۶۰ سیکنڈ پر ایڈجسٹ کر کے اس کا سوئچ دبا دیا۔ اب اووین کے اوپر روشن حروف میں الٹا شمار (count down) ہونے لگا۔ ۶۰، ۵۹، ۵۸، ۵۷، ۵۶، ۵۵، اس طرح ایک ایک سیکنڈ گھٹتا رہا۔ یہاں تک کہ زیرو پر پہنچ کر خاص آواز میں ایک سیٹی بجی اور پھر وہاں روشن حروف میں ختم (end) لکھ اٹھا۔
میں نے کہا کہ اسی طرح اللہ تعالی نے انتہائی قطعیت کے ساتھ دنیا کی عمر مقرر کر کے اس کا سوئچ دبا دیا ہے۔ اب ہر لمحہ اس کا کاؤنٹ ڈاؤن ہو رہا ہے ۔ جیسے ہی یہ کاؤنٹ ڈاؤن اپنی آخری گنتی پر پہنچے گا فوراً صور کا خدائی بگل بج جائے گا۔ یہ موجودہ دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہوگا۔ اس کے بعد آخرت کی دنیا شروع اور پھر خدا کے وفادار بندے کامیاب قرار دئے جائیں گے اور جن لوگوں نے سرکشی کی وہ ناکامیوں کے غار میں دھکیل دئے جائیں گے تاکہ ابد تک اس میں حسرت والم کے ساتھ پڑے رہیں۔ صغیر اسلم صاحب (پیدائش ۱۹۵۱) اس بات کی مثال ہیں کہ ایک شخص اپنے کردار سے اغیار کی نظر میں بھی کتنا زیادہ قابل قدر بن سکتا ہے۔ یہاں میں نے صغیر اسلم صاحب کی ایک فائل دیکھی۔ اس سے ایک بڑی سبق آموز بات معلوم ہوئی۔ اس کا خلاصہ یہاں درج کرتا ہوں۔
امریکہ میں کپڑے کی ایک بہت بڑی ریٹیل کمپنی ہے۔ اس کے بہت سے اسٹور ہیں۔ اس کا نام مروین اس کو ملک میں پھیلے ہوئے اپنے اسٹوروں کو کپڑا فراہم کرنے کے لئے بڑے پیمانہ
پر کپڑے کی خریداری کرنی پڑتی ہے۔ یہ خریداری امریکہ کے علاوہ بہت سے باہر کے ملکوں سے بھی ہوتی اس کام کے لئے اس کمپنی کو ایک بائر (Fabric Buyer) درکار تھا۔ مروین نے لائق آدمی کی تلاش کے لئے کیلی فورنیا کے ایک بڑے کنسلٹنٹ (Jack H. Lane Agency) کو ہائر کیا۔ اس کمپنی نے ملک بھر میں تحقیق کرکے معلوم کیا کہ کون شخص ہے جو اس کام کے لئے موزوں ہے۔ معلوم ہوا کہ صغیر اسلم صاحب اس کام کے لئے موزوں ترین آدمی ہیں۔ اس کے بعد اس نے ان کمپنیوں کے پتے معلوم کئے جن سے صغیر اسلم کا اپنے کپڑے کی بزنس کے سلسلہ میں بار بار سابقہ پیش آتا ہے۔ لین نے ان کمپنیوں سے ربط قائم کر کے ان کی رائے صغیر اسلم صاحب کے بارہ میں معلوم کی ۔ جو ابات کی فوٹو کاپی صغیر اسلم صاحب کو بھیجتے ہوئے ، جیک لین نے صغیر اسلم صاحب کو یہ پیش کش کی کہ وہ مروین کمپنی کے اس عہدہ کو قبول کر لیں۔ امریکی تاجروں نے صغیر اسلم صاحب کے بارہ میں جو رائیں دیں ، ان میں سے چودہ رایوں کو میں نے پڑھا۔ چند خطوط کے بعض الفاظ یہاں نقل کئے جاتے ہیں : 1. One of the most astute buyers. Integrity without question. Works hard and intelligently. Far above average. Well organized. World recommend him 101%. 2. Aslam is the Number one buyer in the country. 3. He is knowledgeable, well informed and most important - uncorrup- 4. He is fair and honest. He gets the last drop of blood for his company. 5. If he says something, you can believe him. 6. Never in my experience in the agency business have I had references that were as outstanding as the ones I received on you. آخری ریمارک جیک لین کا ہے جس نے مختلف لوگوں سے رائیں طلب کی تھیں ۔ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک شخص اگر لیاقت کا ثبوت دے تو وہ کس طرح ہر ملک اور ہر قوم میں اپنے لئے اعلیٰ مقام حاصل کر سکتا ہے۔ لائق آدمی کے لئے اس دنیا میں کوئی بھی دروازہ
نومبر کے آخری دو جمعہ کی نمازیں اسلامک سوسائٹی آرنج کاؤنٹی کی مسجد میں پڑھیں۔ میں وہاں پہنچا
تو لوگ منتشر نظر آرہے تھے۔ اذان ہوتے ہی تمام لوگ باقاعدہ صف کی صورت میں جمع ہو گئے۔ صف بندی کے ساتھ انھوں نے سنتیں پڑھیں۔ خطبہ کے بعد جب جماعت کھڑی ہوئی تو ہر آدمی اپنی اپنی جگہ کھڑا ہو گیا اور کسی انتشار کے بغیر اپنے آپ صفیں قائم ہو گئیں۔ صف بندی کا یہ طریقہ مجھے پسند آیا۔ دونوں جمعہ میں ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی صاحب پیدا ئش (۱۹۲۳) نے انگریزی میں خطبہ دیا۔ جمعہ کی امامت انھیں سے متعلق ہے۔ مزاج اور علمی لیاقت دونوں اعتبار سے وہ اس عہدہ کے لئے نہایت پہلے خطبہ میں انھوں نے آخرت کی جواب دہی کے موضوع پر تقریر کی۔ دوسرے جمعہ کے خطبہ میں ان کی تقریر کا موضوع توحید تھا۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان کے نزدیک سب سے زیادہ قابل لحاظ چیز صرف اللہ ہے :