The ultimate concern of a Muslim is Allah.
Al-Risala, July 1991, pp. 39–43
By Maulana Wahiduddin Khan
صفی قریشی صاحب نہایت ذہین اور اسی کے ساتھ نہایت سنجیدہ آدمی ہیں۔ گفتگو کرنا میرے جیسے آدمی کے لئے ایک نہایت خوش گوار تجربہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ نہ زیادہ بولتے اور نہ غیر ضروری بات کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو ہمیشہ منطقی حدود کی پابند اور ایسے آدمی ہمیشہ بہت کم پائے جاتے ہیں۔
صفی قریشی صاحب نے ایک ملاقات میں ایک انگریزی کتاب کا تذکرہ کیا۔ کہا کہ میں اس کتاب کو پڑھ کر بہت متاثر ہوا، اور اس کتاب کے کئی نسخے خرید کر میں نے مختلف لوگوں کو بطور تحفہ دیا :
Islam and the Destiny of Man, by Gai Eaton George Allen & Unwin, London 1985, pp-242 میں نے اس کتاب سے دلچسپی ظاہر کی تو انھوں نے اس کا ایک نسخہ مجھے بھی دیا۔ گائی ایٹن ایک انگریز ہیں ۔ وہ برٹش ڈ پلومیٹک سروس میں تھے۔ اس سلسلہ میں وہ دوسرے ملکوں کے علاوہ مصر اور ہندوستان میں بھی رہے ہیں۔ ٹی ایس ایسٹ (T.S. Eliot) کی فرمائش پر انھوں نے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کا موضوع یہ تھا :
Eastern religions and their influence upon Western Thinkers.
اس کتاب کے مطالعے کے دوران وہ اسلام سے متاثر ہوئے۔ یہاں تک کہ ۱۹۵۱ میں انھوں نے مصر میں اسلام قبول کر لیا۔
اس کتاب کو میں نے دیکھا۔ میں اس کے تمام مندرجات سے اتفاق نہیں کر سکتا۔ تاہم کتاب میں ایک نیا پن ہے اور وہ قابل مطالعہ ہے۔ مصنف کے نزدیک، اسلام کا خلاصہ دو چیزیں ہیں : حق اور رحمت (Truth and Mercy) تقویٰ کی تشریح انھوں نے ان الفاظ میں کی ہے :
...the awe-struck consciousness of God as the supreme Reality (p. 202) ۲ دسمبر کی صبح کو ایک صاحب کے یہاں ناشتہ پر کئی آدمی جمع تھے۔ نے خلیج کے مسئلہ کے بارہ میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ میں میری وہی رائے ہے جو عام طور پر علماءء کی رائے ہے۔ علما کی رائے نہایت تفصیل کے ساتھ آچکی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ہم لوگ تذکیری باتوں پر گفتگو کریں جن کے بارہ میں بہت کم گفتگو کی
پھر میں نے کہا کہ ابھی ہم لوگوں نے ایک کھانا ختم کیا ہے۔ کھانے کے بعد کے لئے ہمیں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ الحمد لله الذی اطعمنی و سقانی وجعلنی من المسلمین ( اس اللہ کا شکر اور تعریف ہے جس نے مجھے کھانا کھلایا اور جس نے مجھے پانی پلایا اور جس نے مجھے مسلمانوں میں سے بنایا )
اس دعا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اس کے الفاظ کو یاد کرلے اور کھانے کے بعد اسے اپنی زبان سے دہرا دے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعا اپنے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب ہے نہ کہ محض اپنے الفاظ کے اعتبار سے۔ آپ اگر کسی سے کہیں کہ میرا فلاں ٹیلی فون نمبر ہے، تم اس نمبر پر مجھے کال کر لینا، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ وہ اس گنتی کو یاد کر کے اسے اپنی زبان سے دہراتا رہے۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ ٹیلی فون کے اوپر اس نمبر کو ڈائل کر کے آپ سے ربط قائم کرے۔
یہی دعا کا معاملہ ہے۔ آپ کو چاہئے کہ جب آپ دعا کے یہ الفاظ پڑھیں تو آپ کا ذہن
ان کے معانی کی طرف چلا جائے۔ آپ سوچیں کہ خدا نے کس طرح وہ کھانا اور پانی بنایا جو میری بھوک اور پیاس کو مٹائے اور میری زندگی کی طاقت بنے۔ جب آپ اس طرح سوچیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ ایک عظیم تخلیق کا معاملہ ہے۔ خدا نے کائناتی انتظام کے تحت نان فوڈ کو فوڈ میں کنورٹ کیا، اس نے نان واٹر کو واٹر میں کنورٹ کیا، اس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ آپ اس کو کھائیں اور پئیں اور وہ آپ کے جسم میں داخل ہو کر آپ کا گوشت اور خون بنے۔
اسی طرح خدا نے آپ کو یہ توفیق دی کہ آپ اپنے نان اسلام کو اسلام میں کنورٹ کریں، اس کے بعد ہی یہ واقعہ پیش آیا کہ آپ کے اندر ایک اسلامی شخصیت ایمرج کرے۔ ان عظیم انعامات کا احساس جب لفظوں میں ڈھلتا ہے تو وہ مذکورہ کلمہ کی صورت میں ظاہر
لاس اینجلیز میں افرو امریکی مسلمانوں کی ایک تنظیم ہے۔ اس کا نام مسجد السلام ہے۔ اس کی طرف سے لاس اینجلیز میں ۲۳ - ۲۵ نومبر ۱۹۹۰ کو بڑے پیمانے پر ایک کانفرنس اس کانفرنس کی تھیم یہ تھی _ مسلم خاندان کس طرح بنایا جائے : The making of a Muslim family اس کانفرنس کے شرکاء میں امریکہ کے علاوہ دوسرے ملکوں کے ممتاز افراد کے نام بھی شامل مثلاً امام وارث دین محمد، پرنس محمد بن فیصل، ڈاکٹر جمال بدوی، وغیرہ۔ میں بھی اس کانفرنس میں مدعو تھا۔ اس سلسلہ میں دو دن (۲۴ - ۲۵ نومبر) لاس اینجلیز میں قیام رہا۔ قیام کا انتظام اور کانفرنس کا اجلاس دونوں کا نظم یہاں کے مشہور ہوٹل اسٹوفریس میں کیا گیا تھا۔
اپنے کمرہ نمبر ۳۷۴ میں ایک روز میں نے خبریں سننے کے لئے ٹی وی کھولا۔ صدر بش کی خلیج سے واپسی کی تھی۔ مسٹر بش اور مسز بش ہوائی جہاز سے ہنستے ہوئے اترے تو ان کے ساتھ ایک کتا بھی اتر اہو ان کے پیچھے چلنے لگا۔ مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آئی جس میں بتایا گیا ہے کہ انسان تجارت اور لہو میں مشغول رہتا ہے، اور خدا کی یاد کو چھوڑ دیتا
ہے (الجمعة) آج کا انسان اس کا مکمل مصداق ہے۔ آج کے انسان کی دلچسپی کی چیز صرف دو ہے، مفاد یا تفریح۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنے خالق اور مالک کی یاد میں مشغول ہو، مگر اس اصل مشغولیت کے لئے کسی کے پاس کوئی وقت نہیں۔
پروگرام کے مطابق ۲۵ نومبر کی شام کو میری تقریر ہوئی۔ میں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ امریکہ کی مسلم نسلوں کے لئے تہذیبی ارتداد (cultural conversion) کا مسئلہ درپیش ہے۔ ترکی اور ہندوستان اور روس میں بھی یہی مسئلہ پیدا ہوا، لیکن وہاں عملاً ایسا نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں یہ مسئلہ جارحانہ چیلنج کی صورت میں اور جب کسی کو جارحانہ انداز میں چیلنج کیا جائے تو اس کے اندر مدافعانہ جذبات جاگ اٹھتے ہیں جو اس کی حفاظت کی ضمانت بن جاتے ہیں۔ امریکہ میں یہ مسئلہ اس لئے شدید ہے کہ یہاں کا چیلنج جارحانہ چیلنج نہیں۔ جارحانہ چیلنج بظاہر ایک تکلیف کی چیز ہے۔ مگر وہ زحمت میں رحمت (blessing in disguise)
میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا حل وہی ہے جس کا مشورہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ اسی قسم کی صورت حال میں بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا : اجعلوا بیوتکم قبلة یعنی اپنے گھروں کو دینی مرکز بنا لو، جو کچھ ملکی سطح پر حاصل نہیں ہے، اس کو اپنے گھر کی سطح پر حاصل کرو۔ میں نے کہا کہ اس خداوندی تدبیر کا فائدہ آپ کو صرف اس وقت مل سکتا ہے جب کہ آپ اپنا زیادہ وقت اپنے گھر اور اپنے بچوں کو دیں۔ مسلم والدین عام طور پر اپنے بچوں کو ضروری وقت نہیں دے پاتے، اس لئے ان کے بچے یہاں کے کلچر میں گم ہورہے ہیں۔ آپ کو اپنی آؤٹنگ میں کمی کرنا ہوگا۔ اور اگر آپ دو شفٹ میں کام کرتے ہوں تو ایک شفٹ میں کام کرنا ہوگا تا کہ آپ اپنی اگلی نسلوں کو بچا سکیں ۔
اس وقت امریکہ کی عام صورت حال یہ ہے کہ ماں باپ اپنا زیادہ وقت گھر کے باہر گزارتے وہ کام میں مصروف ہوتے ہیں یا تفریح میں۔ بچوں کے لئے ان کے پاس وقت نہیں۔ سلسلہ میں جو اعداد و شمار جمع کئے گئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی باپ اپنے بچوں کے
لئے جو وقت دے پاتا ہے وہ ۲۴ گھنٹہ میں صرف سات منٹ ہوتا ہے۔ اور امریکی ماں جو وقت دیتی ہے وہ ۲۴ گھنٹہ میں صرف تیس منٹ بچے بڑے ہونے کے بعد خود بھی اپنا وقت باہر گزارنے لگتے ہیں اور چھوٹے بچے گھر میں ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں ، کیوں کہ ایک امریکی کے الفاظ میں ، ٹی وی ان کے لئے کبھی اتنا زیادہ مصروف نہیں ہوتا :