Al-Risala · July 1991

Because the T.V. is never too busy for them.

Al-Risala, July 1991, pp. 43–45

By Maulana Wahiduddin Khan

بچوں کی تربیت کا فطری طریقہ یہ ہے کہ گھر کے اندر اس کا نظام موجود ہو۔ لیکن گھر کے اندر بچوں کہ یہاں اس کا نظام موجود نہیں ، اس لئے تجارتی لوگ اس کے نام پر ادارے قائم کر رہے ہیں۔ امریکہ کے ایک میگزین میں ایک اشتہار تھا۔ یہ یوٹا (Utah) کا ایک تربیتی اس کا نام ہیریٹیج اسکول (The Heritage School) ہے۔ اس کا عنوان پریشان بچوں کی مدد کرو (Help for troubled teens) اس اسکول کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خاندانی زندگی کا ہنر (family living skills) سکھاتا ہے۔ مذاہب کی انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس) تقریباً ۶۰ سال پہلے تیار کی وہ اگر چہ کافی مستند ہے۔ مگر اب وہ قدیم ہو چکی تھی، نیز بہت باریک لیٹر میں ہونے کی وجہ سے اس کو پڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ اب مذاہب پر ایک نئی اور ہر لحاظ سے بہتر انسائیکلو پیڈیا تیار ہو گئی ہے :

The Encyclopadia of Religion, edited by Mircea Eliade Macmillan pub- lishing company, New York, 1987, 16 volumes. یہ انسائیکلو پیڈیا یہاں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ مذاہب کے میدان میں تحقیقی کام کرنے والوں کے لئے نہایت مفید ہے۔

۲۷ نومبر کو بعد دوپہر میں اپنی قیام گاہ دولیسٹ منسٹر (کیلی فورنیا) سے ٹہلنے کے لئے قیام گاہ اس وقت خالی تھی۔ کیوں کہ عورت اور مرد اپنے کام پر گئے ہوئے تھے اور بچے اسکول میں تھے۔ خالی سڑک سے تنہا گزرتے ہوئے میں ایک پارک (فارسٹ الیوینو) پہنچا۔ وسیع پارک میں کچھ بڑے اور کچھ بچے دکھائی دئے۔ یہاں کوئی انسانی آواز سننے کے لئے موجود

دور کے کسی مکان سے کتا بھونکنے کی آواز آ رہی تھی اور کبھی کبھی کوئی کار قریبی سڑک سے گزر جاتی تھی۔

پارک نہایت خوبصورت تھا۔ ہندوستان کے پارکوں سے وہ اتنا ہی مختلف تھا جتنا خود امریکہ ہندوستان سے۔ اس کو دیکھ کر مجھے وہ خوب صورت تر پارک یاد آیا جو پچھلے دن میں نے ٹی وی میں دیکھا تھا۔ صدر امریکہ مسٹر جارج بش یہاں کا خصوصی تیوہار تھینکس گونگ (Thanksgiving) اپنے فوجیوں کے ساتھ منانے کے لئے خلیج عرب گئے تھے۔ واپسی میں ان کا خصوصی جہاز واشنگٹن میں اترا۔ جہاز سے نکل کر وہ ایک نہایت خوب صورت پارک سے خراماں خراماں چلتے ہوئے ایک شاندار مکان میں داخل ہو گئے۔

ٹی وی پر یہ منظر دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ موت کا فرشتہ اسی طرح ایک روز آدمی کے پاس اس کے ساتھ ایک سواری ہوگی۔ وہ آدمی کو سواری پر بٹھا کر دنیا سے آخرت کی طرف روانہ ہوگا۔ عالم آخرت میں یہ سواری یا تو ایک سر سبز پارک کے کنارے اترے گی۔ آدمی سواری سے نکلے گا اور خوشی خوشی اس پارک سے گزرتا ہوا اپنے جنتی مکان میں داخل ہو جائے گا۔ یا پھر اس کی سواری ایک خشک بیابان میں اترے گی، وہ سواری سے باہر آئے گا تو وہ پائے گا کہ وہاں اندھیروں اور خاردار وادیوں کے سوا کوئی اور چیز اس کا استقبال کرنے کے لئے موجود نہیں۔

اس وقت آسمان مکمل طور پر صاف تھا۔ سورج کی سنہری روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ پارک کے چاروں طرف سر سبز درختوں سے ڈھکے ہوئے خوبصورت مکانات دلکش منظر پیش کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ یہ دنیا بے حقیقت ہونے کے باوجود اتنی زیادہ حسین ہے کہ خدا کی خاص توفیق ہی سے کوئی شخص اس کے مسحور کن فتنے سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس وقت مجھے بے ساختہ فانی بدایونی کا یہ شعر یاد آگیا:

فریب جلوہ اور کتنا مکمل اے معاذ اللہ بڑی مشکل سے دل کو بزم عالم سے اٹھاپایا اس کے بعد میں تقریباً روزانہ پارک میں جانے لگا۔ یہاں مختلف قسم کے سبق آموز تجربے ۲۸ نومبر کی سہ پہر کو میں ایک پارک میں کھڑا ہوا تھا۔ اس کے ایک حصہ میں بچوں کے کھیل

کا سامان لگا ہوا ہے۔ ایک سفید فام بچہ تقریبا تین سال کا، آیا اور ایک جھولے پر چڑھ گیا۔ ایسا تھا جس کو ہلانے کے لئے کوئی دوسرا آدمی درکار تھا۔ بچے نے مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کچھ کہا۔ ابتدائے میری سمجھ میں نہیں آیا۔ اس نے کئی بار کہا تو میری سمجھ میں آیا کہ وہ کہہ رہا ہے ۔ دھکا دو :

Printed page