Al-Risala · July 1991

The magazine of Western living

Al-Risala, July 1991, pp. 45–49

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹۰ صفحہ کے اس انگریزی میگزین کا بیشتر حصہ اشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ اس کا چار صفحہ (۵۲-۴۷) بگڑے ہوئے بچوں کے اسکول (Schools for troubled teens) کے بارہ میں تھا۔ ان صفحات میں تقریباً چار درجن ایسے اسکولوں کے اشتہارات درج تھے۔ اس وقت امریکی خاندانوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ والدین کے پاس اپنے بچوں کی تربیت اور نگہداشت کے لئے کوئی وقت نہیں۔ ان کا بیشتر وقت یا تو دفتروں میں گزرتا ہے یا اگر چھٹی ہو تو ” آوٹنگ “ میں ۔ چنانچہ بچے خود رو پودے کی طرح اگ رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بچوں کی پوری نسل خراب ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ اسکول ان بچوں کی پروفیشنل رہنمائی (professional guidance) کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ایک اشتہار کا مضمون یہاں نقل کیا جاتا ہے :

We Rescue Teenagers: The most effective option for parents who need help with teens who are out of control, irresponsible, depressed, during and alcohol dependent, failing school, irresponsible, depressed, drug and alcohol dependent, failing school, running with the wrong friends, unmotivated, undisciplined and who lack real self-esteem.

اس قسم کے اشتہارات پڑھتے ہوئے مجھے مذکورہ سفید فام امریکی بچے کے الفاظ Uncle, push me یاد آئے۔ مجھے ایسا محسوس ہو اگو یا بچہ کے ان الفاظ میں نئی امریکی نسل کی روح پکار رہی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ میں دلدل میں پھنس گیا ہوں ، مجھے دھکا دے کر یہاں سے نکالو۔ حقیقت یہ ہے کہ بچوں کے اس سنگین مسئلہ کا حل پروفیشنل اسکول نہیں ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ امریکہ کے معاشرہ کو دوبارہ یہاں لایا جائے کہ اس کا طرز فکر بدلے۔ والدین دوبارہ بچوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں۔ بچوں کی تربیت کا حقیقی کام صرف گھر کے اندر ہو سکتا ہے۔ وہ پروفیشنل اسکولوں میں کبھی انجام نہیں دیا جا سکتا۔ اس سلسلہ میں ارادہ ہے کہ انشاء اللہ خاتون اسلام جلد ہی انگریزی میں شائع کی جائے گی۔ ایک روز میں پارک میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک سفید فام امریکی بینچ پر بیٹھا ہوا اس کے پاس جا کر میں نے کہا کہ کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں۔ اس نے خوش دلی کے ساتھ میرے لئے جگہ خالی کر دی ۔ میں وہاں بیٹھ گیا۔ ابتدائی رسمی باتوں کے بعد گفت گو شروع ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ اسلام کے بارہ میں کچھ جانتے ہیں۔ اس نے کہا کہ میں اسلام کے بارہ میں بہت کم جانتا ہوں۔ شاید یہ کوئی مخالف امریکہ نظریہ ہے:

I have little knowledge of Islam. Perhaps it is a form of anti-Americanism. میں نے کہا کہ اسلام اینٹی امریکی نظریہ نہیں ، اسلام تو پرو امریکی نظریہ ہے۔ میری زبان سے یہ جملہ سن کر وہ چونک پڑا۔ اس کے دریافت کرنے پر میں نے مزید بتایا کہ اسلام کی بنیاد کسی قوم کی دشمنی یا کسی حکومت کی مخالفت پر نہیں۔ اسلام تو یہ ہے کہ ہر آدمی کو اس کے خالق سے متعارف کرے۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ ہر آدمی کو اپنی زندگی میں اس خدائی طریقہ کو اختیار کرنے کی تلقین کرے جو اس کو ابدی جنت میں لے جانے والا ہے۔ اسلام آپ کا دشمن نہیں ، اسلام آپ کا دوست اور خیر خواہ ہے۔ اگر آپ گہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں تو آپ پائیں گے کہ اسلام اینٹی امریکن ازم کا نام نہیں ، اسلام پرو امریکن ازم کا نام ہے۔ وہ آپ کو جنت میں لے جانا چاہتا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے تحت آنکھ کا ادارہ (ٹائمز آئی ریسرچ فاؤنڈیشن) قائم ہے۔ کا ایک انگریزی نیوز لیٹر چھپتا ہے جس کا نام (Nigah) ہے۔ اس کے شمارہ جنوری 1991 میں الرسالہ انگریزی کا ایک مضمون نقل کیا گیا ہے۔ اس کو اس کے صفحہ ۱۰ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح مختلف عمومی قسم کے پرچے الرسالہ کے مضامین نقل کرتے رہتے ہیں۔

خوا جہ کلیم الدین صاحب نیو یارک میں مقیم ہیں۔ انھوں نے خط اور ٹیلیفون کے ذریعہ مطلع کیا ہے کہ وہاں وہ انگریزی الرسالہ اور انگریزی لٹریچر پھیلانے میں مصروف خدا کے فضل سے لوگ کافی پسند کر رہے ہیں۔ لوگ کتابیں حاصل کرکے دعوتی طور پر ان کو امریکیوں تک پہنچارہے ہیں۔ خواجہ کلیم الدین صاحب کا خیال ہے کہ جلد ہی وہ انشاء اللہ الرسالہ انگریزی کا امریکی ایڈیشن نیو یارک سے چھاپنا شروع

ولی محمد انصاری صاحب نے جناب شہی صاحب کے تعاون سے گاڈ آرائز زکا مراٹھی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ ترجمہ کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ اب اس کی چھپائی کا مرحلہ ہے۔ ان کا منصوبہ ہے کہ کتاب کے اس مراٹھی ایڈیشن کو ”نہ فائدہ نہ نقصان“ کے اصول پر شائع کیا جائے۔ اب ان کے سامنے کتاب کی چھپائی کا مسئلہ ہے۔ اور اس کے لئے ضروری فنڈ درکار ہے۔ اس سلسلہ میں جو صاحبآن تعاون کرنا چاہیں، وہ حسب ذیل پتہ پر خط و کتابت فرمائیں :

Wali Muhammad Ansari, Jawhari Manzil, Maulvigunj, Dhulia 424 001 مارچ 1991 کو آل انڈیا ریڈیو سے صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ موضوع تھا : رمضان کی برکتیں ۔ اس تقریر میں سادہ اور مختصر انداز میں رمضان کے مہینہ کی خیر و برکت کو بتایا گیا۔

بنگلور کے حلقہ الرسالہ نے مقامی دکانداروں کو تیار کیا ہے۔ وہ مرکز کی چھوٹی کتابیں

اپنے یہاں رکھتے ہیں اور ان کو اپنے خریداروں کو بطور تحفہ پیش کرتے ہیں۔ دوسرے مقامات پر بھی اختیار کرنا چاہئے۔

۲۰۰ حدیثوں پرمشتمل احادیث کا ایک منتخب مجموعہ تیار کیا گیا ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ کما نڈر یوسف خاں صاحب نے کیا ہے۔ یہ مجموعہ انشاء اللہ اردو، ہندی اور انگریزی میں شائع کیا جائے گا۔

بعض مقامات پر لوگ اس طریقہ کا تجربہ کر رہے ہیں کہ وہ اتوار کی صبح کو بریف کیس میں مرکز کی کتا بیں لے کر لوگوں کے گھروں پر جاتے ہیں اور ان کو کتا بیں دکھاتے ہیں۔ اس طرح کتابیں نئے نئے حلقوں میں پھیل رہی ہیں۔ یہ طریقہ ہر جگہ اختیار کرنے کی

”انقلاب“ بمبئی کا کثیر الاشاعت روز نامہ ہے۔ جناب محمد افضل لادمی والے اس کے بہت سے شمارے بھیجے ہیں۔ ان سے معلوم ہوا کہ انقلاب میں ہر روز الرسالہ کا ایک مضمون نمایاں طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعہ سے الرسالہ کا پیغام وسیع تر حلقوں میں پہنچ ادارہ انقلاب کا یہ تعاون قابل ستائش ہے۔

ایک خاص حلقہ کے کچھ ”اصاغر“ صدر اسلامی مرکز کے خلاف تنقیدی مضامین اور کتابیں چھاپ رہے ہیں۔ یہ لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اس مہم میں انھیں اپنے ”اکابر“ کی تائید وحمایت حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں صدر اسلامی مرکز نے بعض استفسارات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنقیدیں موجودہ حالت میں قابل اعراض ہیں۔ تا ہم یہ ناقدین اگر اپنے دعوے میں صحیح ہیں تو وہ اپنے حلقہ کے بزرگ محترم کی تصدیق اپنے حق میں شائع کریں۔ اگرمولانا محترم نے ان تنقیدوں کی واضح تصدیق کر دی تو انشا اللہ ان کا تجزیہ کیا جائے گا۔ بصورت دیگر ان کو نظر انداز کیا جائے گا۔

ایک صاحب لکھتے ہیں : خالق کائنات کا عظیم احسان ہے کہ آپ کی تحریروں کے ذریعہ اسلام کا صحیح اور بغیر آمیزش تصور ملا۔ الرسالہ پڑھنے سے زبان پر تالے پڑجاتے ہیں ۔ دل کھل جاتے ہیں۔ دل آخرت کہنا ہے اور زبان دوسروں کے لئے سلامتی سلامتی۔

الرساله اور آپ کی کتابوں نے مجھے شک و شبہات کے اندھیرے غار سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں پہنچا دیا۔ مجھے آپ کی یہ لائن یاد ہے کہ ہمیں پروگرام نہیں بنانا ہے بلکہ پروگرام ساز افراد بنانا ہے۔ مجھے یہ لکھنے میں جھجھک محسوس نہیں ہوتی کہ آپ کی تحریروں کو سمجھنے کے لئے انٹلیکچول برین ہونا چاہئے۔ (الطاف حسین انجینئر، کشمیر)

ایک صاحب لکھتے ہیں : میں الرساله کا تین سال سے مطالعہ کر رہا ہوں ۔ اللہ پاک کے کرم سے اس مشن کے ذریعہ میری زندگی خاص انداز میں ڈھل گئی۔ اعراض کے معاملہ میں وہ کچھ پایا جس کی امید نہ تھی کیوں کہ اعراض کا معاملہ پہلے سے معلوم نہ تھا۔ جو لوگ حقیقی طور پر اس خدائی پیغام کو قبول کرتے ہیں ان کی زندگی دنیاوی خوف و خطر سے خالی ہو جاتی ہے۔ نے خود اپنی آنکھ سے کشمیر میں اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ الرسالہ کے مطالعہ سے روز بروز میرے اندر صبر و اعراض کی قوت بڑھ رہی ہے۔ یہ تو ایک دنیاوی طور پر فائدہ مند ثابت ہوا اور دوسرے ایمان اور یقین کے بقا کے لئے نہایت اہم ہے (حاجی رفیق احمد، کشمیر) " اقوال حکمت " کا ہندی اور انگریزی ترجمہ ہو گیا ہے۔ اس وقت وہ زیرِ طباعت ہے۔ الرسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ جو شخص اس کا قاری بنتا ہے اس کے اندر یہ جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس کو پھیلائے۔ ہزاروں لوگ اس طرح الرسالہ کو خود پڑھتے ہیں اور دوسروں کو بھی پڑھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بی امان اللہ صاحب (بنگلور) الرسالہ کے پیغام سے متاثر ہوئے تو انہوں نے اپنے حلقہ میں تقریباً تین درجن لوگوں کو الرسالہ کا خریدار بنایا۔ اس میں انگریزی ریڈر اور اردو ریڈر دونوں شامل ہیں۔

عبد اللہ حسن چودھری صاحب (احمد نگر) لکھتے ہیں : اللہ کا فضل ہے کہ الرسالہ کے مضامین نہ صرف شہروں میں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی ذہنوں کو اپیل کر رہے ہیں۔ اور ایک نئی ذہنی اور اخلاقی بیداری میں معاون بن رہے ہیں۔ ایک تازہ مثال یہ ہے کہ رمضان کے اوقات سحر و افطار کا ایک ہزار پمفلٹ ہمارے ادارہ کی جانب سے چھپوایا گیا ۔ اس میں " اسلامی تعلیمات" سے اقتباس ہندی زبان میں شائع کیا گیا ہے۔ آپ کی تحریر کو اتنا پسند کیا گیا کہ دوسرے اداروں اور اشخاص نے بھی اپنی طرف سے جو سحر و افطار کے پمفلٹ چھپوائے، انھوں نے بھی اس میں یہی تحریر چھپوائی۔

Printed page