امامت کا مسئلہ
Al-Risala, August 1991, pp. 5–7
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب اپنی بستی کی مسجد کے امام کے خلاف زبردست مہم چلائے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امام بدعتی ہے ، اس لیے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ وہ صاحب اپنی تمام کوشش کے باوجود امام کو مسجد سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے بجائے جو ہوا وہ صرف یہ تھا کہ بستی کے مسلمان دو گروہوں میں بستی میں مسجد کی رحمتیں اور برکتیں تو نہیں پھیلیں، البتہ پوری بستی نفرت اور اختلاف اور تشدد کا اکھاڑہ بن گئی۔ ایک مثبت عمل منفی نتیجہ پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔
ان صاحب سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ آپ یہ مسئلہ کیوں کھڑا کیے ہوئے ہیں کہ امام کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ جب کہ حدیث میں آیا ہے کہ صلوا خلف كل بر وفاجر (ہر نیک اور بد کے پیچھے نماز پڑھو) میں نے کہا کہ امامت تنظیم کے لیے ہوتی ہے۔ ورنہ نماز کا تعلق آدمی کی اپنی نیت سے ہے۔ جیسی آپ کی نیت ہوگی ویسی آپ کی نماز ہوگی۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے اخلاص کو ٹٹولیں نہ کہ امام کی برائیوں کو۔ انھوں نے کہا کہ آپ عالم ہو کر غلط مسئلہ بتا رہے ہیں۔ جو حدیث آپ نے بتائی، اس میں فاجر کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت ہے، مگر بدعتی کا معاملہ اس سے الگ ہے۔ کیونکہ بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کیا چنانچہ دوسری حدیث میں ہے کہ لا تصلوا خلف محدث (بدعتی شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو) میں نے کہا کہ کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے الفاظ جاننا کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ تفقہ بھی انتہائی طور پر ضروری ہے۔ یہ صحیح ہے کہ دوسری روایت میں محدث (بدعتی) کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس وقت کی بات ہے جب کہ انتخاب (choice) محدث اور متبع سنت کے درمیان ہو۔ مگر آپ کے حالات بتاتے ہیں کہ آپ کے لیے محدث اور متبع سنت کے درمیان انتخاب کا موقع نہ تھا، بلکہ آپ کو محدث امام اور مسلمانوں کے باہمی جدال و قتال کے درمیان انتخاب کرنا تھا۔ اور جب حالات کی نوعیت یہ ہو تو محدث امام کو برداشت کیا جائے تا کہ مسلمانوں کو باہمی اختلاف کے شدید تر فتنہ سے بچایا جا سکے ۔ اسلام ایک نتیجہ رخی (result oriented) مذہب ہے۔ اسلام میں آخری حد تک نتیجہ کا لحاظ کیا اسلام میں صرف وہی اقدام جائز ہے جو بہتر نتیجہ تک پہنچانے والا ہو۔ بہتر نتیجہ پیدا کرنے والا اقدام جتنا ضروری ہے، اتنا ہی ضروری یہ ہے کہ برا نتیجہ پیدا کرنے والے اقدام سے اپنے آپ کو باز رکھا جائے۔
کی تحریریں پڑھیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ آپ کی باتوں سے مجھے اتفاق ہے۔ مگر میری سمجھ میں اب تک یہ نہ آسکا کہ آپ کا عملی پروگرام کیا ہے۔
مذکورہ نوجوان کی بات سن کر میں نے کہا: ہر نامہ جنا ہوا عداد نمبر محبین (ہمارا پروگرام یہ ہے کہ ہم پروگرام بنانے والے انسان تیار کریں، الرساله فروری ۱۹۹۰ء، صفحہ ۴ موجودہ زمانہ اسلام کے احیاء کا زمانہ ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اسلام کو دوبارہ ایک زندہ اور غالب طاقت کی حیثیت سے اٹھایا جائے ۔ اس احساس کے تحت موجودہ زمانہ میں سیکڑوں بڑے بڑے رہنما اٹھے۔ ہر ایک کو غیر معمولی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے ہر ایک کی کوششیں صفر ہو کر اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں سے ہر ایک نے ” عملی پروگرام “ سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ مگر عملی پروگرام سے کام کا آغاز کرنا ایسا ہی ہے جیسے باغ لگانے کا آغاز پھل کاٹنے سے کیا جائے۔
اسلام کا احیاء ایک بے حد سنجیدہ اور بے حد دور رس کام ہے۔ یہ کام دھواں دھار جلسوں اور پُر شور اقدامات کے ذریعہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے سب سے پہلے افرادکار مطلوب ہیں۔ اس کے لیے ایسے باشعور افراد کی ضرورت ہے جو خود اپنی ذات میں پروگرام ساز ہوں، جو اپنے حالات کو سمجھ کر خود کام کا منصوبہ بنائیں۔ ایسے افراد تیار نہ ہو جائیں، عملی پروگرام یا عملی اقدام کی حیثیت بے فائدہ چھلانگ کے سوا اور کچھ نہیں۔ سطحی لوگ مظاہرہ کو کام سمجھتے ہیں۔ اس لیے جب بھی کوئی شخص منظر ہراتی ہنگامہ کرتا ہے تو لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کام کر رہا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا کام بے فائدہ اچھل کو د ہے۔ اس کا کوئی حقیقی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں۔ زندگی میں اصل اہمیت افراد کی ہوتی ہے۔ اس لیے اصل کام یہ ہے کہ افراد تیار ہو جائیں۔ اسلام کا احیاء کا کام اس سے زیادہ وسعت کا ہے کہ وہ کسی رنگے بندھے پروگرام کے ذریعہ انجام
بھائی پہلے اس معاملہ سے بے خبر تھے۔ مگر جب ان پر حقیقت کھلی تو وہ کہہ پڑے : تاللہ لقد آثرک اللّٰہ علینا ان خدا کی قسم، اللہ نے تم کو ہمارے اوپر فضیلت دے دی) یوسف ۹۱ اس کے برعکس مثال بنی اسرائیل کی ہے۔ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دو بھائیوں کی اولاد تھے۔ ابتداءً زیادہ تر پیغمبر بنی اسرائیل میں آئے۔ مگر آخری پیغمبر (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) بنی اسماعیل میں پیدا بنی اسرائیل آپ کے مخالف ہو گئے۔ انہوں نے آپ کو پیغمبر ماننے سے انکار کر دیا (النساہ (۵) یہ دو مختلف مثالیں ہیں۔ پہلی مثال اعتراف کی مثال ہے اور دوسری مثال انکار اور حسد کی۔ یہی اس دنیا میں سب سے بڑا امتحان ہے، اور یہ امتحان آغاز حیات سے لے کر قیامت تک جاری رہے گا، یہاں تک کہ خدا ظاہر ہو کر تمام حقیقتوں کا آخری اعلان کر دے، اور اس کے بعد کسی کے لیے انکار اور حسد کا موقع ہی باقی نہ رہے۔
یہ امتحان سب سے پہلے آدم کی پیدائش کے وقت ہوا جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اور ابلیس کو آدم کے آگے جھکنے کا حکم دیا۔ اس وقت فرشتوں نے اعتراف کا طریقہ اختیار کیا اور ابلیس نے حسد اور اس کے بعد یہی معاملہ آدم کے بیٹے ہابیل اور قابیل کی زندگی میں پیش آیا۔ ہابیل کی قربانی اللہ نے قبول کی اور قابیل کی قربانی قبول نہیں ہوئی، اس کے بعد ہابیل نے عجز اور اعتراف کا انداز اختیار کیا اور قابیل نے حسد اور انکار کا طریقہ اختیار کر کے خسران میں پڑ گیا (المائدہ ۳۰)
اس دنیا میں جو شخص بھی پیدا ہوتا ہے ، ہر ایک کو اس امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ ہر آدمی کے سامنے کسی نہ کسی اعتبار سے یہ صورت حال آتی ہے کہ اس کے لیے ایک روش اعتراف کی ہوتی ہے اور دوسری روش حسد اور انکار کی۔ جو لوگ اعتراف کا طریقہ اختیار کریں وہ امتحان میں پورے اترے۔ لوگ حسد اور انکار کا طریقہ اختیار کریں وہ امتحان میں ناکام ہو گئے۔ اعتراف نہ کرنا خدا کے فیصلے پر راضی نہ ہونا ہے ، اور اس سے بڑا مجرم کون ہے جو خدا کے فیصلے پر راضی نہ ہو۔