Al-Risala · August 1991

دورِ اوّل کا طریقہ

Al-Risala, August 1991, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں حضرت مریم کے بارے میں اُخت ہارون (مریم ۲۸) کا لفظ آیا ہے ۔ اس سلسلہ میں مختلف روایتیں تفسیر کی کتابوں میں نقل کی گئی ہیں۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : قال كعب الاحبار بحضرة عائشة رضی الله حضرت کعب نے حضرت عائشہ کی موجودگی میں کہا کہ ان مريم ليست باخت هارون ، مریم، موسیٰ کے بھائی ہارون کی بہن نہ تھیں۔ اخی موسٰی ۔ فقالت له عائشة كذبت ۔ نے ان سے فرمایا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ فقال لها يا ام المومنين ، ان كان رسول الله عائشہ سے کہا کہ اے ام المومنین، اگر رسول اللہ صلی اللہ صلی الله عليه وسلم قاله فهو اصدق و علیہ وسلم نے ایسا کہا ہو تو وہ سب سے زیادہ سچے اور والآ فانی اجد بینهما من المدة سب سے زیادہ باخبر تھے ورنہ میں مریم اور ہارون ستمائة سنة ۔ قال فسكت ۔ کے درمیان چھ سو سال کا فرق پاتا ہوں۔

( الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ۱۱ / ۱۰۰ )

اس واقعہ پر غور کیجیے۔ حضرت عائشہ ایک جلیل القدر صحابی پر تنقید کرتی ہیں اور تنقید میں نہایت سخت لفظ استعمال کرتی ہیں۔ مگر صحابی نہ ان کی تنقید پر غصہ ہوتے اور نہ اُن کے سخت لفظ پر انھیں ملامت کرتے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں تاریخ کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ اب آپ اگر کسی زیادہ طاقت ور دلیل (مثلاً قول رسول) سے میری بات رد کر دیں تو میں اپنی رائے سے رجوع کر لوں گا۔ حضرت عائشہ حضرت کعب کی بات کے وزن کو محسوس کرتی ہیں اور فوراً خاموش ہو جاتی ہیں (اس سلسلہ میں حضرت کعب کی تائید میں ایک قول رسول موجود ہے۔ مگر اس وقت غالباً دونوں میں سے کسی کو اس کا علم نہ تھا) اسلام کے دور اول میں تنقید کا عام رواج تھا۔ لوگ سخت زبان میں تنقید کرتے تھے ، تب بھی اس کو برا نہیں مانا جاتا تھا۔ اس زمانہ کا طریقہ یہ تھا کہ تنقید کو سُن کر غصہ نہیں ہوتے تھے بلکہ یہ دیکھتے

انا لَنعْلَمُ انَ الَّذِي تَقولُ حَقٌّ . ولكنّا ہم جانتے ہیں کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ بلا شبہ حق إِنّا اَسْمَعناكَ خِيفَاً اَن نَّخرِجَنَا العربُ مِن ہے۔ لیکن اگر ہم آپ کی پیروی کریں تو ہم کو ڈر ہے ارض مكة (التفسير المظهري) کہ عرب ہم کو مکہ کی سرزمین سے نکال دیں گے۔

اس کا جواب دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ اس ہدایت کا اتباع کریں تو ہم کو ہماری زمین سے اچک لیا جائے گا (وَقَالُوا ان نَّتبِعِ الهُدَى مَعَك نُتَخَطَّفْ مِن ارضنا ( القصص ۵۷)

مکہ کے لوگوں کی سرداری اور معاش دونوں کا خاص ذریعہ یہ تھا کہ مکہ کے تمام قبیلوں کا بت انھوں نے کعبہ میں رکھ دیا تھا۔ اس طرح انہیں تمام قبائل عرب کی سرداری حاصل ہوگئی تھی۔ اسی کے ساتھ یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبیلے اپنے اپنے بتوں پر نذر چڑھانے کے لیے مکہ آتے تھے۔ یہ تمام نذرانے مکہ والوں کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خدا کا پیغام ان کے سامنے پیش کیا تو ان کی فطرت نے اس کے برحق ہونے کی تصدیق کی۔ مگر ان کا ذہن اس سوال میں اٹک گیا کہ اگر وہ کہیں کہ خدا صرف بقیہ تمام دیوتا فرضی ہیں تو وہ اچانک تمام قبائل سے کٹ جائیں گے۔ اس کے بعد ان کی سرداری بھی چھن جائے گی اور ان کی معاش بھی۔

ٹھیک یہی صورت موجودہ زمانہ میں ہندوستانی مسلمانوں کی ہے۔ ان کے سامنے قرآن کی بات رکھی جائے تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ قرآن کے مطابق یہی صحیح بات ہے ۔ مگر فورا ہی کچھ سوالات سامنے آکر انھیں اس کی طرف سے شبہ میں ڈال دیتے ہیں ۔ اگر ہم صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو ہندو ہمارے اوپر دلیر ہو جائے گا۔ اگر ہم سیاسی شور وغل نہ کریں تو ملک میں ہونے والے سیاسی عمل سے ہم کٹ جائیں گے، اگر ہم مطالبہ اور احتجاج کا طریقہ چھوڑ دیں تو ہم اپنے دستوری حقوق سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ اس قسم کی تمام باتیں بلاشبہ شیطانی وسوسہ ہیں۔ اس سے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔

Printed page