صبر کا ہتھیار
Al-Risala, August 1991, pp. 17–19
By Maulana Wahiduddin Khan
6 ستمبر ۱۹۸۰ء کا واقعہ ہے۔ مسز کلیش (۲۲ سال، شاہدرہ) کی ایک سڑک پر چل رہی ان کے گلے میں سونے کی زنجیر تھی۔ اچانک اشوک نامی ایک شخص جس کی عمر ۲۵ سال تھی جھپٹا اور مسز کلیش کی زنجیر کھینچ کر بھاگا۔ پولیس کانسٹیبل کشن چند تیاتگی (۳۴ سال، اس وقت ڈیوٹی پر گھوم رہے تھے، کسی نے ان کو واقعہ کے ہرے میں بتایا۔ وہ تلاش کرتے ہوئے ایک بائیکی مندر میں پہنچے جہاں مجرم موجود تھا۔ پولیس کی وردی دیکھتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ کشن چند نے اس کا پیچھا کیا۔ مجرم کے پاس ایک ریوالور تھا۔ اس نے فائر کیا تو اس کی گولی کشن چند کی آنکھ کے نیچے ان کے چہرہ اور گردن کو زخمی کرتی ہوئی گزر گئی۔ انھوں نے چلا کر کہا "ایک بار تو نے مجھے مار دیا۔ پر دوبارہ تو نہیں مار سکتا۔ مجھے معلوم نہیں تھا تیرے پاس ریوالور ہے" اب وہ چوکنا ہو گئے۔ مجرم نے دو بار اور گولی چلائی۔ مگر بار بار وہ نہایت پھرتی کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کے وار کو خالی کر دیا۔ کشن چند کسی خوف کے بغیر تنہا مجرم کا پیچھا کرتے رہے جب کہ "دشمن" کے پاس ریوالور تھا اور ان کے اپنے پاس لاٹھی بھی نہیں تھی۔ آخر کار ساڑھے چار فٹ کی ایک چہار دیواری سامنے آگئی۔ مجرم اس پر کود گیا۔ کشن چند نے بھی فور اً چھلانگ لگائی اور دوسری طرف جاکر اس کو پکڑ لیا۔
" ایک مسلح مجرم کو دوڑاتے ہوئے آپ کو ڈر نہیں لگا؟ ایک اخبار نویس نے کشن چند سے پوچھا" "نہیں" انھوں نے جواب دیا۔ " میں جانتا تھا کہ جب اس کا ریوالور خالی ہو چکا ہوگا تو میں اس کو پکڑ لوں گا۔ مجرم کے پاس تین گولی تھی۔ کشن چند نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ اس کی تینوں گولیاں خالی کرا دیں۔ اب مجرم کا ہتھیار نا قابل استعمال ہو چکا تھا۔ کشن چند نے اس کو پکڑ لیا (ہندوستان ٹائمز 6 ستمبر ۱۹۸۰)
اس چھوٹے سے واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ اکثر حالات میں حریف سے مقابلہ کا بہترین طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں اس کے وار کو خالی کر دیا جائے، یہاں تک کہ اس کے ہتھیار کی تین گولی ختم ہو جائے۔ پھر اس سے مقابلہ کرنا نہایت آسان ہوگا۔
کو ڈانٹا اور بگڑنا شروع کرے تو ابتداءً آپ اس کے وار کو خالی کر دیں، یعنی بالکل چپ ہو کر اس کی بات کو سنتے رہیں یہاں تک کہ جب اس کے الفاظ ختم ہو جائیں اور اس کی بھڑاس نکل جائے، اس وقت سنجیدگی کے ساتھ صورت حال کے بارہ میں اس کو بتائیں۔ اگر آپ ابتدا میں اس قسم کا صبر دکھائیں تو آپ یقیناً کامب رہیں گے۔ کیوں کہ اب وہ اپنے ہتھیار کی " تین گولیاں " ختم کر چکا ہے اور اب بہت آسانی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ ہیں جو آپ کے خلاف متحد ہو کر آگئے ہیں اور آپ کو ہٹا دینا چاہتے غور کیجیے تو یہ ات صرف اس بنیاد پر ہوگا کہ آپ ان کے سامنے ان کے حریف بن کر کھڑے اگر آپ حکمت عملی کا طریقہ اختیار کریں اور کچھ دیر کے لئے اپنے کو نشانہ نہ بنا دیں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کا اتحاد ٹوٹ رہا ہے۔ ان کے اتحاد کے ہتھیار کی گولی آپ کا حریف بن کر کھڑا ہونا تھا۔ جب آپ نے اپنے کو حریف کے مقام سے مٹا دیا تو گویا یا آپ نے ان کی تینوں گولیاں خالی کرا دیں۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ منتشر ہو جائیں گے اور جو گروہ اختلاف اور انتشار میں پڑ جائے اس کو ختم کرنے کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایسا وہ خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے کو ختم کر لیتا ہے۔
کوئی حریف جب سامنے آتا ہے تو آدمی جوش میں آکر اس سے لڑنے لگتا ہے۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے ہی مرحلہ میں وہ حریف کی طاقت کا نشانہ بن جاتا ہے۔ اگر آدمی صبر اور دوش مندی سے کام لے اور مقابلہ کے ابتدائی مرحلہ میں حریف کے وار کو خالی جانے دے تو بہت جلد ایسا ہو گا کہ حریف خود اپنی کارروائیوں کے نتیجہ میں اپنے کو غیر مسلح کر چکا ہوگا۔ یاد رکھئے، کوئی بھی شخص جو آپ کے مقابلہ میں آتا ہے اس کے پاس ہمیشہ "تین" ہی گولیاں ہوتی لا تعداد گولیاں کسی کے پاس نہیں ہوتیں۔ اگر آپ یہ ہوشیاری دکھائیں کہ مقابلہ کے آغاز میں کسی طرح اپنے کو نشانہ سے ہٹا لیں تو اس کے بعد یقینی طور پر ایسا ہوگا کہ دشمن اپنی " تین گولیوں " کو ختم کر کے خالی ہاتھ ہو چکا ہوگا۔ اب زیادہ بہتر طور پر وہ وقت آجائے گا کہ آپ اس کو زیر کر سکیں۔ یہ کامیابی ہر ایک حریف کے اوپر حاصل کی جاسکتی ہے۔ بشر طیکہ مقابلہ پیش
نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کے سامنے بے تابی کے ساتھ ٹہل رہے ہیں۔ آج میں آپ کو پریشان دیکھ رہا ہوں ، آخر کیا بات ہے؟ اس نے پوچھا۔ عیسائی دوست اچانک سنجیدہ ہو گئے ۔