نادان دوست
Al-Risala, January 1991, pp. 36–38
By Maulana Wahiduddin Khan
نئی دہلی کے انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر کے شمارہ ۲۱ اکتوبر ۱۹۹۰ میں مسٹر جے دوباشی کا مضمون شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہندولہر (The Hindu Wave) ہے۔ دو صفحہ کے اس مضمون میں انھوں نے پر فخر طور پر لکھا ہے کہ ہندومستقبل کی لہر ہیں، اور اڈوانی کی رتھ یاترا اس لہر کی ایک علامت ہے:
The Hindus are the wave of the future. And Advani's Rath Yatra is a symbol of that wave. یہ بات مختلف انداز سے ان ہندو صاحبان کی طرف سے کہی جارہی ہے جو بابری مسجد کو ڈھا کر اس کی جگہ رام مندر بنانے کی پر تشد د مہم چلا رہے ہیں۔ اس عنوان پر جذباتی تقریریں کرکے انھوں نے شمالی ہند کے کچھ ہندوؤں کو اپنے ساتھ جمع کر لیا ہے۔ اس کو وہ "ہندو لہر" سے تعبیر کرتے ہیں ۔
شری اڈوانی کا رتھ جس کو دس ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے سومنات سے اجودھیا پہنچنا تھا، وہ رام رتھ نہیں بلکہ نفرت اور تشدد کار تھ تھا۔ اس کا مقصد منفی بنیاد پر ہندوؤں کو متحد کرنا تھا۔ تحریک کے پیچھے جو ذہن کام کر رہا ہے ، اس کا اندازہ وشو ہندو پریشد کے جنرل سکریٹری مسٹر اشوک سنگھل کے بیانات سے ہوتا ہے۔ مثلاً انھوں نے ۷ نومبر ۱۹۹۰ کو دہلی میں تقریر کرتے ہوئے مسلمانوں کو وارننگ دی کہ وہ اجودھیا کی بابری مسجد کو ڈھا کر وہاں رام مندر بنانے کے منصوبہ کی مخالفت نہ کریں۔ ورنہ ہم ملک کی تین ہزار مسجدوں کو ڈھا کر وہاں مندر بنانے کی تحریک شروع کر دیں گے (ٹائمز آف انڈیا ۸ نومبر ۱۹۹۰) اس قسم کی باتیں جو بھارتیہ جنتا پارٹی ، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے لوگوں کی طرف سے کہی جارہی ہیں ، اور اس کے نام پر عوام کی بھیڑ اکٹھا کی جارہی ہے، کیا اسی کا نام ہندولہر ہے۔ بھی شخص جو ہندو دھرم کو جانتا ہو، وہ اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ یہ ہندو لہر نہیں ہے ، زیادہ صحیح لفظ میں وہ اینٹی ہندولہر ہے۔ اور برعکس طور پر اس کو ہند و لہر کہا
ہندودھرم کی تعلیمات میں دو چیزیں بے حد بنیادی ہیں ۔ ایک رواداری ، اور دوسرے عدم تشدد ۔ آپ ہندودھرم کی کسی بھی کتاب کو اٹھائیں ، اس میں آپ کو یہ دونوں باتیں لکھی ہوئی ملیں یہ ہندودھرم کی وہ خصوصیات ہیں جن کا ذکر اس کے تمام مفکرین اور مصلحین نے پر فخر طور پر کیا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۳) جلد ۸ میں ہندوازم (Hinduism) کے عنوان سے نہایت مفصل اور تحقیقی مقالہ ہے۔ اس میں درج ہے کہ ہندوازم ، بطور اصول ، عقیدہ اور عبادت کے تمام طریقوں کا احترام کرتا ہے۔ ایک ہندو ہر مذہب کو سچائی کا اظہار سمجھتا ہے۔ ہندوازم بطور اصول کے ہر مذہب کے حق میں روادار (tolerant) ہے ، خواہ وہ کوئی بھی مذہب ہو۔ دوسری بات کے سلسلہ میں برٹانیکا میں بتایا گیا ہے کہ ہندوازم کا ایک نہایت اہم اصول اہمسا ہے ۔ یعنی تشدد نہ کرنا۔ اسی لئے ہندوازم سختی کے ساتھ حیوان کے ذبیحہ کو منع کرتا ہے اور سبزی خوری پر زور دیتا ہے۔ ہندو مفکرین کے مطابق ، اہمسا ہندو مذہب کی ایک بے حد بنیادی اہمسا ہندو اخلاقیات کا ایک مرکزی اصول (keystone) ہے (صفحہ ۸۸۹) اس اعتبار سے دیکھے تو رام جنم بھومی تحریک ، اپنی موجودہ شکل میں ، واضح طور پر ہندودھرم کے خلاف ہے۔ اس میں مذہبی رواداری کو کچلا جارہا ہے۔ اس میں نفرت کا پرچار کیا جارہا ہے۔ اس میں تشدد کا طریقہ اختیار کیا جارہا ہے۔ اس بنا پر یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اس تحریک نے جوہر پیدا کی ہے ، وہ اینٹی ہندوہوہر ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں ہندوہپر۔
یہی وجہ ہے کہ ملک کے ہزاروں ہندوؤں نے اس کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔ اس کو غیر ہندو تحریک بتایا ہے۔ مثال کے طور پر آنجہانی کلپتی ترپاتھی ، ہندو دھرم کے ایک مکہ انھوں نے اپنی آخر عمر میں جون ۱۹۹۰ میں " سامپرا داتمک سمیا" کے نام سے ہندی میں ایک مقالہ لکھا تھا جو چھپ کر شائع ہو چکا ہے۔ ہندوستان ٹائمس (۲۰ اکتوبر ۱۹۹۰) میں اس کا انگریزی تعارف شائع ہوا ہے ۔ اس میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے مسئلہ کا بھی ذکر ہے۔ مترجم کہتے ہیں: Lambasting the Vishwa Hindu Parishad and the Rashtriya Swayam Sevak Sangh, the elderly statesman said the very idea of demolishing a mosque was a negation of Hindu ethos. "It is a fascist idea and will break the country," he added.
وشو ہندو پریشد اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو سخت برا بتاتے ہوئے، بزرگ سیاست داں نے لکھا ہے کہ مسجد کو ڈھانے کا تصور بجائے خود ہند و خصوصیات کی نفی ہے۔ یہ فاشسٹ نظریہ ہے، یہ نظریہ ملک کو توڑ ڈالے گا۔
موجودہ ہر اگر حقیقی معنوں میں " ہند و لہر " ہوتی تو اس سے وہ نتائج نکلتے جو ہندو دھرم کے امتیاز ی اوصاف سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ملک سے اہنکار ختم ہوتا، کیوں کہ ہند و تعلیمات میں اہنکار کو بہت برا مانا گیا ہے۔ اس سے دوسروں کے اعتراف کا دریا امڈتا، کیوں کہ ہند و فکر کی یہ امتیازی صفت ہے کہ وہ سچائی کے تعدد کا قائل ہے، ہر اختلاف کو وہ سچائی کا نیا روپ سمجھتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں چاروں طرف رواداری کی ہوائیں چلتیں، کیوں کہ ہند و فکر یہ کہتا ہے کہ اپنے کو برحق سمجھتے ہوئے دوسرے کے برسر حق ہونے کا بھی اعتراف کر دو، خواہ بظاہر وہ تمہارے نظریہ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اس لہر کے بعد پورے ملک میں امن و شانتی اور جان کے احترام کا ماحول دکھائی دیتا، کیوں کہ ہندو دھرم جان مارنے کو آخری حد تک برا سمجھتا ہے۔ حتی کہ ایک ہند و مفکر نے کہا کہ احساس کو مارنے ہی کا نام گناہ ہے اور احساس کو نہ مارنے کا نام ثواب :