Al-Risala · August 1991

I am in hurry, but God isn't

Al-Risala, August 1991, pp. 19–22

By Maulana Wahiduddin Khan

میں جلدی چاہتا ہوں، مگر خدا جلدی نہیں چاہتا ۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے صحن میں ایک مرجھائے ہوئے آم کے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : میں نے اس کو بڑی امیدوں کے ساتھ پچھلے ہفتہ لگایا تھا ۔ مگر اب وہ سوکھ کر ختم ہو چکا ہے۔

" یہ درخت تو کافی بڑا ہے، پھر ایک ہفتہ پہلے کیسے آپ نے اس کو لگایا تھا ؟ " یہی تو اصل بات ہے" عیسائی دوست نے کہا " میں نے چاہا کہ میں اچانک ایک بڑا درخت اپنے یہاں کھڑا کر دوں ۔ مگر خدا کی اس دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ میں نے آم کا چھوٹا پودا بونے کے بجائے یہ چاہا کہ پانچ سال کا درخت لا کر اپنے صحن میں لگاؤں اور اس طرح پانچ سال کا سفر ایک دن میں طے کر لوں۔ میں نے درخت تو کہیں نہ کہیں سے لا کر لگالیا۔ مگر وہ اگلے ہی دن سوکھ گیا ۔ اور اب اس کی جو صورت ہے وہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ

اس کے بعد عیسائی دوست نے کہا : اس دنیا میں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لئے خدا کا ایک قانون ہے۔ ہم اس قانون کی پیروی کرکے ہی اس چیز کو اپنے لئے وجود میں لا سکتے اگر ہم قدرت کے اصول کی پیروی نہ کریں اور اپنی خواہشوں پر چلنے لگیں تو ہمارے حصہ میں " سوکھا درخت " آئے گا نہ کہ " ہرا بھرا باغ " ۔

لکڑی کی ایک کشتی کی تاریخ اگر چھوٹے پودے سے شروع کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر کشتی والا انتظار کرتا ہے کہ قدرت ایک درخت اگائے۔ زمین و آسمان کے تمام انتظامات

جب مسلسل عمل کے نتیجہ میں ننھا پودا پختہ درخت کی عمر کو پہنچ جاتا ہے، اس وقت کشتی والا اس کو کاٹتا ہے ۔ اس کے تنے بناتا ہے اور پھر ان تختوں کو لوہے کی کیلوں سے جوڑ کر و ہ کشتی تیار کرتا ہے جو انسانی تقاضوں کو پانی کے اوپر سفر کرنے کے قابل بنائے۔ ذاتی معاملات میں ہر آدمی اس بات کو جانتا ہے ۔ مگر جب ملت کا معاملہ ہو تو وہ چاہتا ہے کہ فی الفور ایک عظیم الشان کشتی دریا میں اتار دے ۔ خواہ اس کے پاس کشتی کے نام سے کاغذ کی ناؤ ہی کیوں نہ ہو ۔

یا درکھئے ، یہ دنیا خدا کی دنیا ہے ۔ اس کو خدا نے بنایا ہے ۔ اور وہ اسی خدا کے قانون کے تحت چل رہی ہے ۔ ہم اس سے موافقت کرکے اپنی زندگی کی تعمیر کر سکتے ہیں ۔ اگر ہم اس کے ساتھ موافقت نہ کریں تو ہمیں اس دنیا میں کچھ ملنے والا نہیں۔

جس طرح درخت تدریج کے ساتھ اگتا ہے ، اسی طرح انسانی زندگی کے معاملات بھی تدریج کے ساتھ درست ہوتے ہیں ۔ اگر آپ اپنی زندگی کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے قدرت کے اس تدریجی قانون کو جانئے اور اس کے ساتھ موافقت کرتے ہوئے اپنا سفر شروع کیجئے ۔ اس کے سوا اس دنیا میں کامیابی کا کوئی اور راستہ نہیں ۔ بقیہ تمام راستے کھڈ کی طرف جاتے ہیں نہ کہ کسی منزل کی طرف ۔

قرآن میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے ۔ صبر کا مطلب بے عملی نہیں ، صبر دراصل منصوبہ بند عمل کا دوسرا نام ہے ۔ بے صبر آدمی فوری رد عمل کے تحت بے سوچے سمجھے کارروائی کرتا ہے ۔ اس کے برعکس صبر والا آدمی اپنے جذبات کو روک کر پورے معاملہ پر غور کرتا ہے ۔ وہ اپنی طاقت اور دوسرے کی طاقت کا اندازہ کرتا ہے ۔ وہ حالات کا جائزہ لیتا ہے ۔ وہ قانون قدرت کو سمجھتا ہے جس کے دائرہ میں اس کو اپنا عمل کرنا ہے۔

اسی طرح سوچ بچار کے بعد عمل کا نقشہ بنانے کے لیے اپنے جذبات کو تھامنا پڑتا ہے، اس لیے اس کو شریعت میں صبر کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسی کو منصوبہ بند عمل کہتے ہیں۔ اس دنیا میں صابرانہ عمل ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے ، اور غیر صابرانہ عمل ہمیشہ ناکام ۔

سے زیادہ انسان کی حیرانگی میں اضافہ کیا ہے۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں : Dr Rapaport, Toward a Theory of Thinking, 1951 W.E. Vinacke, The Psychology of Thinking, 1952 F.C. Bartlett, Thinking, 1958 Max Wertheimer, Productive Thinking, 1959 ان تحقیقات کے ذریعہ بے شمار نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ ایک بات یہ ہے کہ انسانی ذہن کے اندر ہمیشہ ایک نہایت اہم عمل جاری رہتا ہے۔ علماء نفسیات اس کو ذہنی طوفان سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ عمل اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ ذہن کسی نئے چیلنج سے دوچار ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں وہ خود اپنی فطرت کے زور پر مسائل کے نئے حل تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس امکان کو بڑھا دیتا ہے کہ پیش آمدہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کچھ برتر حل آدمی کے سامنے آجا ئیں :

A process called brainstorming has been offered as a method of facilitating the production of new solutions to problems... These unre- stricted suggestions increase the probability that at least some superior solutions will emerge (18/357). یہ ریسرچ بتاتی ہے کہ آدمی جب کسی بحرانی حالت سے دو چار ہوتا ہے تو اس کے اندر چھپی ہوئی نظری صلاحیت کے تحت اس کے اندر ذہنی طوفان (brainstorming) کی ایک کیفیت جاگ اٹھتی ہے۔ یہ طوفان اس کو قابل بنا دیتا ہے کہ وہ پیش آمدہ مسئلہ کا ایک برتر حل (Superior solution) دریافت کرلے۔ اور مسئلہ کا برتر حل معلوم ہو جانے کے بعد کامیابی اتنی ہی ممکن ہو جاتی ہے جتنا شام کے بعد صبح کا آنا۔ اللہ کا یہ معاملہ کیسا عجیب ہے کہ اس نے مشکلات کو ہماری ترقی کا زینہ بنا دیا۔

اپنی قدرت خاص سے ہمارے نہیں کو ہمارے سے میں تبدیل کر دیا۔

Printed page