Al-Risala · August 1991

چیلنج کا جواب

Al-Risala, August 1991, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریز مورخ ٹوائن بی (Arnold Toynbee) نے عالمی تاریخ کے گہرے مطالعہ کے بعد اپنی مشہور کتاب مطالعہ تاریخ (A Study of History) لکھی جو 12 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس میں ۲۱ تہذیبوں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ ٹوائن بی کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ چیلنج اور اس کا جواب (Challenge response) میکانزم وہ چیز ہے جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ

ٹوائن بی کے مطابق، خارجی چیلنج ہی وہ لازمی عمل ہے جو افراد یا قوموں کے امکانات کو جگا تہذیب کا ابتدائی اور بنیادی مرحلہ ماحول کے ایسے چیلنج سے ظہور میں آتا ہے جو نہ اتنا سخت ہو کہ ترقی کو روک دے ، نہ اتنا موافق ہو کہ وہ تخلیقیت کو معطل کر دے۔ قوم کی ایک تخلیقی اقلیت اس چیلنج کا جواب دیتی ہے اور قوم کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہے : The initial stage of a civilization is its growth, brought about by an environmental challenge, neither too serve to stifle progress nor too favourable to inhibit creativity, which finds a response among a creative minority that provides leadership to the passive majority. (X/76). اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کی مصیبتیں (troubles) لوگوں کی صلاحیتوں کو جگاتی ہیں بشرطیکہ وہ اتنی زیادہ نہ ہوں کہ آدمی اس کے نیچے دب کر رہ جائے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو مومن سب سے زیادہ تخلیقی انسان ثابت ہو سکتا ہے ، کیوں کہ مومن کے اندر سہنے اور تاب لانے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

عام انسان صرف اپنے آپ میں عقیدہ رکھتا ہے۔ وہ صرف اپنی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ دوسری طرف مومن کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے علا وہ خدائے بر تر میں عقیدہ رکھتا ہے اور خدا کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ انسان کی قوتیں محدود ہیں ، خدا کی قوتیں لامحدود۔ اس بنا پر عام انسان کے لئے کسی نہ کسی مقام پر حد آجاتی ہے ، جب کہ مومن کے لئے کبھی حد نہیں آتی۔

مومن کی اپنی حد ختم ہو جائے، وہاں اس کا خدا اس کی کمی کی تلافی کے لئے موجود ہوتا ہے۔ من دوسروں کے مقابلہ میں مصیبت اور مشکلات کو زیادہ برداشت کر سکتا ہے۔ لئے وہ دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ تخلیقی ثابت ہوتا ہے۔

مصیبتیں کیوں آدمی کو تخلیقی بناتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصیبتیں انسان کے دماغ کے اجزا اور (particles) کو جگاتی ہیں۔ وہ اس کی خوابیدگی کو بیداری بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب آدمی کے اوپر مشکلات آتی ہیں تو اس کی سوچنے اور کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

اس واقعہ کے پیش نظر یہ کہنا صحیح ہے کہ عام انسان کے دماغ کے اجزا صرف محدود طور پر جاگتے ہیں۔ جب کہ مومن کے دماغ کے اجزا لا محدود طور پر جاگ اٹھتے ہیں۔ عام انسان کی تخلیقیت کی ایک حد ہے، مگر مومن کی تخلیقیت کی کوئی حد نہیں۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے (الطلاق (۳) ارشاد ہوا ہے کہ تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ اللہ سے ڈرو ( المائدہ ۳) اسی طرح فرمایا گیا ہے کہ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو ، اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا (الاحزاب ۷۰ ، ۷۱) اس قسم کی آیتوں کا مطالعہ کیجئے ، اور پھر فطرت کے مذکورہ قانون کو سامنے رکھئے تو اس سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اہل ایمان پر جب بھی مشکلات و مصائب کا لمحہ آئے تو اس وقت جو ضروری کام کرنا ہے وہ یہ کہ ان کے اندر اعتماد علی اللہ کی کیفیت کو ابھارا جائے۔ پر توکل اور اعتماد ان کے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرے گا۔ اور جن لوگوں کے اندر سہلنے اور برداشت کرنے کی صفت ابھر آئے وہ مشکلات کے وقت ہیرو بن جاتے ہیں۔ کو اپنے لئے نفسیاتی ٹانک بنا لیتے ہیں۔

اس دنیا میں مشکل کا پیش آ نا بذات خود کوئی مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ مشکل پیش آنے پر وقت آدمی اس کو کس طرح نبرد آزما ہو دے۔ اس لئے مشکل پیش آنے کی بروقت شکایت

Printed page