Al-Risala · August 1991

قول سدید

Al-Risala, August 1991, pp. 29–34

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان والو ، اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو ۔ تمہارے اعمال کی اصلاح کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی (الاحزاب ۷۰ ۔

اس آیت میں اہل ایمان کو قولِ سدید کا حکم دیا گیا ہے ۔ قولِ سدید سے مراد ہے بالکل ٹھیک بات ، عین مطابق واقعہ بات ۔ ایسے کلام کا انجام یہ بتایا گیا ہے کہ اس سے تم کو اصلاحِ اعمال کا فائدہ ہوگا ۔

اجتماعی زندگی میں بار بار ایک شخص کو دوسرے آدمی کے بارے میں کوئی بیان دینا ہوتا ایسے مواقع آدمی اگر وہی بات کہے جو نفی واقع ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کہنے والے کے اندر سنجیدہ مزاج بنے گا ۔ نفسیاتی تضاد سے پاک شخصیت اس کے اندر پرورش پائے گی ۔ کے سینہ کے اندر دوسروں کے بارہ میں خیر خواہی کے جذبات ابھریں گے ۔ اور جب کہنے والے کا یہ حال ہوگا تو دوسرے لوگ بھی اس کا مثبت اثر لیں گے ۔ اس طرح پورا سماج صحت مند سماج بن جائے گا ۔ بغض ، حسد ، کینہ ، انتقام ، نفرت ، عیب جوئی جیسی برائیوں کی جڑ کٹ جائے گی ۔ حقیقت پسندی اور صدق بیانی کا ماحول ہر طرف قائم ہو جائے گا ۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ لوگ غیر سدید قول اپنی زبان سے نکالیں تو سارا معاملہ بالکل الٹا ہو جائے گا ۔ اب کہنے والے کے اندر منفی مزاج پر پرورش پائے گا ۔ وہ دہرا شخصیت کا انسان بن جائے گا ۔ ذاتی معاملات کے لئے اس کی سوچ کچھ ہوگی اور دوسروں کے معاملات کے لئے اس کی سوچ کچھ ۔ اس کے اندر سازشی ذہنیت بنے گی ۔ اس کا سینہ جھوٹے افکار کی تخلیق کا کارخانہ بن جائے گا ۔ اور جب فرد کے اندر ایسا ہوگا تو پورا معاشرہ بھی اسی ڈھنگ پر بننا شروع ہو جائے گا ۔ اس کے نتیجہ میں ہر طرف منافقت ، کی فضا پیدا ہوگی۔ ، انصاف پسندی ، کچرا دیٹ

کی بنا پر دونوں میں نباہ نہ ہوسکا اور آخر کار طلاق ہوگئی۔ طلاق کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب سے نکاح فرمایا۔

اس واقعہ کو بتانے کے لئے "قول سدید" کا انداز یہ تھا کہ یہ کہا جائے کہ زینب جو کہ مطلقہ ہو چکی تھیں، ان سے مدت گزرنے کے بعد پیغمبرِ اسلام ﷺ نے نکاح کر لیا اور ان کو شرعی طور پر اپنی ازواج میں شامل مگر مدینہ کے منافقین نے اس واقعہ کو غیر سدید انداز میں بیان کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام کو زینب پسند آگئی تھیں۔ اس لئے انھوں نے تدبیر کر کے ان کو طلاق دلوا یا اور پھر پیشگی منصوبہ کے مطابق خود ان سے نکاح کر لیا۔

مدینہ کے منافقین نے اس واقعہ کو جس طرح پیش کیا وہ ایک صحیح واقعہ کو غلط شکل میں بیان یہ غیر سدید کلام اپنی زبان سے نکالنا ہے۔ اور غیر سدید کلام اپنی زبان سے نکالنا بلا شبہ بہت بڑا جرم ہے ۔ ایسا ایک کلام آدمی کے تمام اعمال کو حبط کر سکتا ہے۔ اس سے آدمی کی اپنی روح بھی گندی ہوتی ہے اور اگر ایسی بات سماج میں پھیل جائے تو وہ سماج کو بھی فساد اور بگاڑ کی طرف لے جانے کا سبب بن جائے گی۔

قول سدید (الاحزاب ، ۷۰) کے معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک اور مثال لیجئے ۔ ابو الفداء الحافظ ابن کثیر نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے ذیل میں لکھا ہے:

قد روی عن الحسن البصری انه کان یتقم حسن بصری کے بارہ میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ چار علی معاویة اربعة اشیاء . قتاله علیاً چیزوں کے لئے معاویہ پر سخت کراہت کا اظہار کرتے وقتله حجر بن عدی واستلحاقه زیاد تھے۔ ان کا علی سے لڑنا، ان کا حجر بن عدی صحابی بن ابيه و مبايعته ليزید ابنه کو قتل کرنا، ان کا زیاد بن ابیہ کو اپنے نسب (البداية والنهاية ١٣٠/٨) میں ملانا، اور ان کا اپنے بیٹے یزید کے لئے بیعت لینا اس واقعہ کو بیان کرنے کا ایک انداز یہ ہے کہ اس کو بتانے کے بارہ میں دوسرے الفاظ لے جائے ہو

واقع نہ ہوگی۔

اس کے برعکس دوسرا انداز یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ ”حسن بصری صحابہ کرام پر جارحانہ تنقید کرتے تھے: یہ دوسرا کلام غیر سنجیدہ قول کی مثال ہے۔ کیوں کہ وہ ایک واقعہ کی تعمیم ہے۔ وہ ایک سادہ بات کو سنگین بات بنا کر پیش کرنا ہے۔ ایسا قول خود کہنے والے کے لیے بھی جرم کی حیثیت رکھتا ہے اور سننے والوں کے اندر بھی وہ غلط اثرات پیدا کرنے والا ہے۔

دونوں جملوں میں بظاہر صرف چند الفاظ کا فرق ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں آسمان اور زمین کا فرق ہے۔ حتیٰ کہ ایک جملہ بولنا پوری طرح جائز ہے، اور دوسرا جملہ بولنا پوری طرح ناجائز۔ آدمی کے منھ سے نکلے ہوئے الفاظ اس کی پوری شخصیت کے ترجمان ہوتے ہیں۔ مذکورہ دونوں جملوں کا ہے۔ پہلا جملہ سنجیدہ ذہن کا پتہ دیتا ہے اور دوسرا جملہ غیر سنجیدہ ذہن کا۔ میں احتیاط کی نفسیات جھلکتی ہے اور دوسرے جملہ میں بے احتیاطی کی نفسیات۔ پہلے جملہ میں معاملہ کو جیسا ہے ویسا ہی بیان کیا گیا ہے اور دوسرے جملہ میں اس کو خود ساختہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ حقیقت پر مبنی کلام ہے اور دوسرا جملہ حقیقت سے ہٹا ہوا کلام۔

پہلا جملہ خدا سے ڈرنے والے انسان کا کلام ہے اور دوسرا جملہ خدا سے نہ ڈرنے والے انسان کا پہلا جملہ منصفانہ قول کا نمونہ ہے اور دوسرا جملہ ظالمانہ قول کا نمونہ۔ پہلا جملہ بولنا شرعی اعتبار سے کوئی جرم نہیں، مگر دوسرا جملہ بولنے والا یقینی طور پر شریعت کی نظر میں اپنے آپ کو مجرم ثابت کرتا ہے۔ نے تو کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ صحابہ کرام کی جماعت پر جارحانہ تنقید کریں۔ انھوں نے صرف ایک صحابی کی بعض روش سے اظہار اختلاف کیا، جو ان کے نزدیک، دوسرے صحابہ کی روش سے ہٹی ہوئی تھی۔

مگر جب ایک شخص اس طرح کہے کہ ”حسن بصری صحابہ کرام پر جارحانہ تنقید کرتے ہیں: تو خود یہ کہنے والا یقینی طور پر ”جارحانہ تنقید کا مجرم بن گیا۔ کیوں کہ جو الزام مخاطب کے اوپر چسپاں نہ ہو وہ خود متکلم کی اپنی طرف لوٹ آتا ہے۔

خمسي شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً گئی۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا عبده ورسوله وإقام الصلاة وايتاء کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور الزكاة والحج وصوم رمضان رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور (متفق عليه) حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

اس حدیث کے مطابق ، اسلام میں پانچ چیزیں ستون (pillars) کی حیثیت رکھتی جس طرح عمارت کچھ ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے ، اسی طرح اسلامی زندگی پانچ ارکان پر قائم یہ پانچ ارکان بظاہر پانچ شکلی چیزوں کے نام ہیں۔ یعنی کلمہ ایمان کے الفاظ کو دہرانا۔ صلاۃ کے ڈھانچہ کو قائم کرنا ، زکوٰۃ کی مقررہ رقم نکالنا ، حج کے مراسم کو ادا کرنا ، رمضان کے صوم کا اہتمام کرنا۔ مگر اس کا مطلب شکل برائے شکل نہیں ، بلکہ شکل برائے اسپرٹ ہے۔ یعنی ان شکلی احکام کی ایک حقیقت ہے اور ان کی وہی ادا ئیکی معتبر ہے جس میں اس کی حقیقت پائی جائے۔ اس دنیا میں ہر چیز کا معاملہ یہی ہے ۔ مثلاً ٹیلی فون کو لیجیے ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، ٹیلی فون کی ایک ظاہری صورت ہوتی ہے۔ مگر یہی ظاہری صورت وہ چیز نہیں ہے جو اصلًا ٹیلی فون سے مطلوب ہو۔ ٹیلی فون برائے ٹیلی فون مطلوب نہیں ہوتا بلکہ ٹیلی فون برائے رابطہ مطلوب ہوتا ہے۔ اگر آپ کہیں کہ میرے پاس ٹیلی فون ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ٹیلی فون کی صورت آپ کے پاس موجدا ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹیلی فون کی حقیقت آپ کے پاس موجود ہے۔ یعنی ایک ایسی مشین جس کے ذریعہ دنیا کے ہر حصہ سے ربط قائم کیا جا سکے۔ جس کے ذریعہ دور کے لوگوں سے گفتگو کی جا سکے۔ یہی معاملہ اسلام کے مذکورہ پانچ ارکان کا بھی ہے۔ یہ ارکان اسی وقت ارکان اسلام ہیں جب کہ ان کو اس طرح اختیار کیا جائے کہ ان کی شکل کے ساتھ ان کی معنوی روح بھی آدمی کے اندر پائی جارہی ہو روح کو جود کرنے کے بعد شکل کا موجود ہونا ایسا ہی ہے جیسے اس کا موجود نہ ہونا۔

خدا کا اس کے تمام صفات کمال کے ساتھ اعتراف کرتا ہے۔ وہ محمد عربی کی اس حیثیت کا اعتراف کرتا ہے کہ خدا نے ان کو میرے لئے اور تمام انسانوں کے لئے ابدی وہنما بنایا۔ یہ حقیقت جس کے دل میں اتر جائے وہ اس کی پوری نفسیات میں شامل ہو جاتی ہے۔ ایسے آدمی کا سینہ سچائی کے اعتراف کے لئے کھل جاتا ہے۔ وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جس کے لئے کوئی بھی چیز کسی حق کے اعتراف میں رکاوٹ نہ بن سکے۔

صلاۃ اسپریٹ ۔ صلوٰۃ کی ظاہری صورت پنج وقتہ عبادت ہے اور اس کی معنوی اسپریٹ تواضع ہے۔ صلوٰۃ کا عمل کرنے والا آدمی اپنے رب کے آگے جھکتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر تواضع کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ جس آدمی کے اندر صلوٰۃ اسپریٹ پیدا ہو جائے وہ گھمنڈ اور انانیت جیسی چیزوں سے یکسر خالی ہو جائے گا۔ اس کا رویہ ہر معاملہ میں تواضع کا رویہ بن جائے گانہ کہ فخر اور کبر کا رویہ۔

زکاۃ اسپریٹ ۔ زکوٰۃ کی ظاہری صورت سالانہ ایک مخصوص رقم کی ادائگی ہے اور اس کی معنوی اسپریٹ خدمت ہے۔ جو آدمی زکوٰۃ کا عمل کرے اس کے اندر خلق کے لئے خدمت اور خیر خواہی کا عمومی جذبہ پیدا ہو جائے گا۔ وہ چاہے گا کہ رہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ دوسروں کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید بن سکے۔

حج اسپریٹ ۔ حج اپنے ظاہر کے اعتبار سے سالانہ مراسم کی ادائگی ہے اور اس کی معنوی اسپریٹ اتحاد ہے۔ جو آدمی صحیح کیفیت کے ساتھ حج کے فرائض ادا کرلے اس کے اندر اختلافی نفسیات کا خاتمہ ہو جائے گا، وہ اتحاد و اتفاق کے مزاج کے ساتھ لوگوں کے درمیان رہنے لگے گا، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ دوسروں کے ساتھ اس کا اختلاف پیش آگیا ہو۔ صوم اسپریٹ ۔ صوم کی ظاہری صورت رمضان کے مہینہ کا روزہ ہے اور اس کی معنوی اسپریٹ صبر ہے۔ صوم کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کے اندر صبر کی اسپریٹ پیدا ہو۔ صوم کا عامل ہو، اس کے اندر یہ عمومی مزاج پیدا ہو جائے گا کہ وہ ناخوش گوار باتوں کو برداشت

مثلاً کلمہ ایمان کے الفاظ کو اپنی زبان سے دہرائیں گے، مگر ان مخصوص الفاظ کے باہر جب ان کے سامنے کوئی حق آئے گا تو وہ اس کا اعتراف نہ کرسکیں گے، کیوں کہ ان کی روح کلمہ کی اسپرٹ سے وہ نماز کی شکل کو مسجد میں کھڑے ہوکر دہرائیں گے۔ مگر مسجد کے باہر جب لوگوں کے ساتھ ان کا سابقہ پیش آئے گا تو وہاں وہ تواضع کا انداز اختیار نہ کرسکیں گے، اور اس کی وجہ یہ ہوگی نماز کی جواسپرٹ ہے وہ ان کے اندر موجود نہیں۔

اسی طرح وہ زکوٰۃ کے نام پر ایک رقم نکال کر کسی کو دیدیں گے۔ مگر اس کے بعد جب وہ لوگوں کے ساتھ معاملات کریں گے تو اس میں وہ خیر خواہی کا ثبوت نہ دے سکیں گے، کیوں کہ زکوٰۃ اسپرٹ سے ان کا سینہ خالی تھا۔ وہ اہتمام کے ساتھ حج کا سفر کریں گے اور اس کے مراسم ادا کر کے واپس آ جائیں گے۔ مگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوں گے کہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کے ساتھ اتحاد و اتفاق کا معاملہ کریں۔ کیوں کہ انھوں نے حج کے باوجود حج اسپرٹ اپنے اندر پیدا رمضان کا مہینہ آئے گا تو وہ موسمی عبادت کے طور پر ایک مہینہ کا روزہ رکھ لیں گے۔ مگر وہ صبر کے موقع پر صبر نہیں کریں گے۔ وہ ہر اشتعال پر مشتعل ہو کر لڑنے لگیں گے۔ اور اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ظاہری طور پر انھوں نے روزہ تو رکھ لیا، مگر ان کے دل و دماغ میں روزہ کی اسپرٹ پیدا نہ ہوسکی۔ جو آدمی اسلام کے پانچ ارکان کو اختیار کرلے وہ مومن و مسلم ہوگیا۔ وہ اس کا مستحق ہوگیا کہ دنیا میں اس کو اللہ کی رحمت ملے اور آخرت میں اس کو جنت میں داخل کیا جائے۔ مگر اسلام کے پانچ ارکان اپنی شکل اور روح دونوں کے اعتبار سے مطلوب ہیں۔ ان کی ادائیگی پر جن انعامات کا وعدہ ہے اس کا تعلق کامل ادائیگی پر ہے نہ کہ ادھوری ادائیگی پر۔

Printed page