Saddam has 47 days to get out
Al-Risala, August 1991, pp. 38–49
By Maulana Wahiduddin Khan
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے تقریباً متفقہ طور پر یہ ریزولیوشن پاس کیا ہے کہ عراق کے صدر صدام حسین ۱۵ جنوری ۱۹۹۱ء تک بلاشرط کویت کا علاقہ خالی کردیں ، ورنہ امریکہ کو حق ہوگا کہ وہ ان کے خلاف فوجی کارروائی کرے ۔
اس خبر کو میں نے پڑھا تو میں نے سوچا کہ یہی معاملہ ہر انسان کا ہے ، حتیٰ کہ خود مذکورہ الٹی میٹم دینے والوں کا بھی ۔ ہر انسان جو اس دنیا میں اپنی زندگی گزار رہا ہے ، اس کو خدا کی طرف سے قطعی آگا ہی دے دی گئی ہے کہ تمہارے لئے صرف ” ۴م دن “ کا موقع ہے ۔ یا تو تم اس مدت میں اپنی سرکشی چھوڑ دو ، ورنہ تم کو خدا کی دنیا چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ بعد تمہارے لئے بربادی کے اندھیروں میں بھٹکنے کے سوا اور کوئی راستہ نہ ہوگا۔ دوسروں کے خلاف الٹی میٹم دینے میں مشغول ہیں ، خود اپنے خلاف الٹی میٹم کی کسی کو خبر نہیں ۔ امریکہ میں " پیپر ردی والا " جیسی آواز کہیں سنائی نہیں دیتی ۔ کیونکہ یہاں اخباروں کو ردی میں بیچنے کا کوئی رواج نہیں ۔ یہاں اخبارات کا واحد استعمال یہ ہے کہ پڑھنے کے بعد انھیں کوڑے میں ڈال دیا جائے ۔ جب کہ ہندوستان میں آدمی اخبارات کو ردی میں بیچ کر ان کی تقریباً نصف لاگت واپس حاصل کر لیتا ہے ۔ اس کے باوجود امریکہ میں اخبارات اور میگزین نہایت عام ہیں ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی قیمتیں بہت کم ہوتی ہیں ۔ والے صرف یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے اخبار کو پڑھیں ۔ کیوں کہ ان کی قیمت تو انھیں ان کے مشتہرین ادا کر چکے ہوتے ہیں ۔
یہاں میں روزانہ اخبار پڑھتا تھا ۔ مگر پوری مدت میں یہاں کے اخبارات میں ہندوستان کی کوئی خبر پڑھنے کو نہیں ملی ۔ سنگاپور جیسے چھوٹے ملکوں کی خبریں تھیں ۔ مگر ہندوستان کی کوئی خبر البتہ ہندوستان میں کوئی بڑا فساد ہو جائے تو اس کی خبر ضرور یہاں کے اخباروں میں چھپتی ہے ۔ اس طرح کی خبریں یہاں کے لوگوں کو یہ تسکین فراہم کرتی ہیں کہ صرف ہمارا سماج مذہب سازش ، فرقہ دراری ، دہشت، اور بربريت کا شکار اور کوئی نہیں ۔ اس اعتبار سے دیکھئے
دہلی کا وقت ہے۔ اور کیلی فورنیا اور دہلی کے وقت میں ساڑھے دس گھنٹہ کا فرق پایا جاتا ہے۔ اس وقت جب کہ میں کیلی فورنیا میں ساڑھے گیارہ بجے دن کی روشنی میں بیٹھا ہوا ہوں، دہلی کے کے لوگ ایک بجے رات کے اندھیرے میں اپنے گھروں کے اندر سورہے ہوں گے۔ میں آج ۲۹ نومبر کی تاریخ ہے۔ مگردہلی کا انسان اس وقت نومبر کی ۳۰ تاریخ میں داخل ہو چکا ہے۔ کیلی فورنیا میں اس وقت تمام سرگرمیاں اپنے شباب پر ہیں، جب کہ دہلی میں تمام انسانی سرگرمیاں رات کے سناٹے میں روپوش ہو چکی ہیں۔
زمین کی سطح پر رات اور دن کا یہ فرق سورج کے سامنے زمین کی گردش سے پیدا خلائے بسیط میں زمین کی یہ گردش اتنی حیران کن ہے کہ اس کے بارے میں سوچ کر جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور آدمی بے اختیار ہو کر سجدہ میں گر پڑے۔ انوار حسن صاحب (۴۵ سال) ایک امریکی کمپنی (GHG) میں کام کرتے ہیں۔ اتوار کے دن وہ رضا کارانہ طور پر ایک اسلامک سنٹر میں ”سیکورٹی“ کی خدمات انجام دیتے ہیں۔ کے دن اس سنٹر میں کافی مسلمان آتے ہیں۔ انھوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے جو مسلمان یہاں آتے ہیں، وہ امریکیوں کے درمیان تو بہت با اصول طور پر رہتے ہیں۔ ”سر“ کہے بغیر ان سے بات نہیں کرتے۔ مگر جب وہ اسلامک سنٹر میں آتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ کسی جنگ میں آگئے ہیں۔
میں نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دیجئے۔ انھوں نے کہا کہ مثال کے طور پر جب وہ کسی دفتر یا درس میں جاتے ہیں تو وہاں وہ گاڑیوں کے قوانین کی سختی کے ساتھ پابندی کرتے
ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ موجودہ ممسلمان (کم از کم ان کی اکثریت) اصول کے تحت باقاعدگی اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ صرف ڈر کے تحت باقاعدہ بننا جانتی ہے۔
امریکہ کے مختلف شہروں میں اس وقت اسلامک سنٹر کے نام سے ایک ہزار سے زیادہ ادارے قائم ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ ان کا مطالعہ کرنے کے بعد میری رائے یہ ہے کہ عملی حالت کے اعتبار سے یہ ادارے مسلم کلچرل سنٹر ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامک سنٹر یہ مسلمانوں کی سماجی اور ثقافتی ضرورت کا اظہار ہیں نہ کہ اسلام کے اصولی اور دعوتی تقاضنے کا اظہار۔ امریکہ کے شہروں میں آپ کو بس اور ٹرام اور ریلوے دکھائی نہیں دیں گی۔ اس کے برعکس ان سڑکوں پر ہر وقت کاروں کا مشین سیلاب بہترہتا ہے۔ بظاہر یہ ترقی کی علامت ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو معلوم ہوگا یہ سرمایہ دارانہ استحصال ہے۔ یہاں کے سرمایہ دارمنظم طور پر یہ کوشش کرتے رہتے ہیں یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام قائم نہ ہونے پائے تاکہ ان کی کاریں زیادہ سے زیادہ فروخت ہوں۔ یہاں رہنے والا ایک شخص نہایت آسانی سے قسط وار ادائیگی کی مبنیاد پر ایک یا زیادہ کار خرید سکتا ہے اور اس طرح دوسری تمام چیزیں بھی۔ اسی طرح یہاں کا تقریراً ہر آدمی اپنی کمائی کا بہترین حصہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کے اکاؤنٹ میں پہنچاتا ہے، سامان کی ادھار خریداری کی صورت میں، نیز اس کے اوپر مستقل سود کی ادائیگی کے ذریعہ۔
قرض پر بنی اس اقتصادیات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کے پاس دین کی مدد میں دینے کے لئے بہت کم رقم باقی رہتی ہے ۔ بظاہر یہاں کا ہر سلمان کافی کمار ہے مگر دین کی مدد میں تعاون دینے کے لئے وہ اپنے آپ کو عاجز پاتا ہے۔
۲ دسمبر کو سین گیبریل (San Gabril Valley) کے اسلامک سنٹر میں تقریب کا جناب عبد القادر النجار کے ساتھ یہ سفر طے ہوا۔ موصوف کا خاندان طائف سے اگر حلب (شام) میں آباد ہو گیا ۔ 37 سال پہلے وہ حلب سے امریکہ آگئے ۔ اب وہ یہاں کے شہری ہو چکے ہیں۔ وہ روپوش حد تک دین پسند آدمی ہیں، ملتے اور آتے ہوئے معمولی طور پر ہے
کلو میٹر کا راستہ ان کے ساتھ گذرا۔
انھوں نے ایک واقعہ کے بارہ میں بتاتے ہوئے کہا : قل الحق ولو علی نفسک (حق بات کہو ، خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف کیوں نہ ہو) ، ایک اور واقعہ کے ذیل میں انھوں نے کہا : ان اللہ یمہل ولا یہمل ، اللہ مہلت دیتا ہے مگر اللہ کبھی چھوڑتا نہیں ) روز نامہ آرنچ کاؤنٹی رجسٹر (۴ دسمبر ۱۹۹۰) میں صفحہ اول پر ایک با تصویر خبر ہے۔ ایک جہاز ٹوٹا ہوا پڑا ہے۔ اس کو شعلے گھیرے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ہوائی حادثہ کا قصہ ہے جو امریکہ کی ریاست مستی گان میں ڈیٹرائٹ کے ہوائی اڈہ پر پیش آیا ۔ فوراً مر گئے ۔ بقیہ ۱۸۱ مسافروں میں کچھ زخمی ہوئے ، اور کچھ پریشانی کی حالت میں باہر آئے۔ اس واقعہ کی رپورٹ دیتے ہوئے اخبار نے لکھا تھا کہ یہ واقعہ اس لئے پیش آیا کہ ایک جہاز (727) ائیر پورٹ کے کہر آلود رن وے (foggy runway) پر چلتے ہوئے دوسری طرف سے آنے والے جہاز کے راستہ میں داخل ہو گیا جو اڑنے والا تھا۔ اس کے بعد ایک جہاز کا پر دوسرے جہاز کے پر میں ٹکرا گیا ۔ ایسا اس لئے ہوا کہ اس وقت ائیر پورٹ پر گہرا کہر چھایا ہوا تھا :
One Northwest Airlines jet strayed into the path of another that was streaming toward takeoff and the two collided in heavy fog on a runway at Detroit Metropolitan Airport. اس خبر کو پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ ” کہر " کا مسئلہ ہر سفر میں پیش آتا ہے ، خواہ وہ مادی سفر ہو یا کوئی ذہنی سفر ۔ آدمی اگر صرف روشن راہوں میں چلنا جانتا ہو، وہ کہر کے راستوں میں چلنے کے آداب نہ جانتا ہو تو اس کا یہی انجام ہوگا کہ وہ مخالف سمت سے آنے والی کسی " سواری " سے ٹکرا جائے گا۔ ایسا آدمی اپنی آخری منزل پر نہیں
۶ دسمبر کو جب کہ سیلی فورنیا میں صبح سویرے کا وقت تھا اور دہلی میں شام کا ، مجھے دہلی سے بات کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ میں نے جناب صغیر اسلم صاحب سے کہا۔
اپنے ٹیلی فون پر حسب ذیل نمبروں کے بٹن دبائے :
اس کے فوراً بعد دہلی میں ہمارے دفتر میں گھنٹی بجنے لگی۔ میں نے سوچا کہ جس دنیا میں یہ ممکن ہے کہ صحیحلی فورنیا کا ایک انسان دہلی کے ایک انسان سے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں رابطہ قائم کرلے ، اس دنیا میں کیا یہ ممکن نکیں کہ انسان اپنے خالق سے رابطہ قائم کرسکے۔ دل نے کہا کہ یقینی طور پر ممکن ہے۔ مگر اس کے لئے اسی طرح کی تدبیر اختیار کرنی ہوگی جو کیلی فورنیا اور دہلی کے درمیان ربط قائم کرنے کے لئے اختیار کی گئی۔ اس ربط کی ایک شکل یہ بھی تھی کہ ہم مذکور ہ نمبروں کا اہتمام نہ کرتے بلکہ دوسرے غیر متعلق نمبروں پر اپنی انگلیاں مارنے لگتے۔ میں ہماری کوشش بے فائدہ ہوجاتی۔ اس کے بہانے ہم نے یہ کیا کہ صحیح ترین نمبر معلوم کرکے عین اسی نمبر کے ذریعہ یہ ربط قائم کرنے کی کوشش کی ۔ ایسا کرتے ہی فورا ً رابطہ قائم ہوگیا۔ اسی طرح خدا سے رابطہ قائم کرنے کا بھی ایک ”صحیح نمبر“ ہے اور ایک ”غلط نمبر“ جو شخص خدا سے رابطہ قائم کرنے کی سنجیدہ خواہش رکھتا ہو، اس کو چاہئے کہ پہلے اس کا ”صحیح نمبر“ ایسا کرنے کے بعد خدا سے اس کا ربط قائم ہونا اتنا ہی ممکن ہو جائے گا جتنا کیلی فورنیا اور دہلی کے درمیان ربط قائم ہونا۔ یہ صحیح نمبر اپنی ذات کو حذف کرنا ہے۔ جناب صفی قریشی صاحب نے ایک مجلس میں بہت اچھی مثال دی۔ انھوں نے کہا کہ آجکل مصنوعی سٹلائٹ خلا میں بھیجے جاتے ہیں ۔ یہ سٹلائٹ اوپر جاکر ۲۰۰ میل یا اس سے کم وبیش کی دوری پر زمین کے گرد گھومنے لگتے ہیں ۔ مگر ان کی عمر کی ایک مدت ہے۔ ایک مدت گزرنے کے بعد وہ زمین کی کشش کے دائرہ میں آکر زمین کی طرف کھپنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ نیچے آتے آتے ایک روز زمین پر گر پڑتے ہیں۔ اسی طرح انسان ایک مقرر مدت کے لئے اس دنیا میں آتا ہے۔ اس کے بعد اس کا واپسی کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ آخر کار وہ دوبارہ خدا ہی طرف چلا جاتا ہے۔
۶ دسمبر کو ظہر کی نماز کے بعد آخری بار میں یہاں کے پارک میں گیا۔ پارک کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ ملی ہوئی سڑک سے ایک بہت بوڑھا امریکی جوڑا خاص طرح کی کھلی ہوئی چھوٹی گاڑی کو آہستہ
چلاتا ہوا گزر رہا ہے۔ میری نظر ان لوگوں کی طرف گئی تو مرد نے ہاتھ اٹھا کر ہائی (ہیلو) کہا۔ پارک کے اندر داخل ہو رہا تھا اور وہ سڑک پر چلتے ہوئے دوسری طرف جا رہے تھے۔ اس واقعہ میں مجھے خود اپنا وداعی سفر دکھائی دینے لگا میں نے کہا : کل مجھے یہاں سے جانا ہے اسی طرح ایک اور آئے گا جب کہ میں اس دنیا کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔ پہلے سفر کی منزل معلوم ہے ، مگر دوسرے سفر کی منزل معلوم نہیں ۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ دوسرے سفر میں میرے اوپر کیا بیتنے والا ہے۔
کچھ دیر تک میں پارک میں بیٹھا ۔ خوبصورت پارک ، سرسبز درختوں سے ڈھکے ہوئے مکانات ، ہوا کے خوش گوار جھونکے ، سڑک پر پھسلتی ہوئی کاریں ، سورج کی سنہری روشنی میں اڑتے ہوئے ہوائی جہاز ، اس طرح کے مختلف مناظر کے درمیان میں نے سوچا کہ خدا نے کتنی زیادہ نعمتیں انسان کو دے رکھی ہیں۔ لوگ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں ۔ مگر کوئی نہیں جو ان بے پایاں نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ زبان سے بے ساختہ نکلا : خدایا ، میں ساری انسانیت کی طرف سے تیرا شکر ادا کرتا ہوں تاکہ ان کے اوپر تیرا غضب نازل نہ ہو جائے۔
۴ دسمبر کو ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی صاحب کے ساتھ لاس اینجیلس گیا ۔ وہاں کے اسلامک سنٹر میں چند گھنٹے گزرے ۔ امریکی فوج کے تحت کیلی فورنیا میں ایک نشریاتی ادارہ (Armed Forces Radio & Television Broadcast Centre) عرصہ سے قائم اس کے نمائندہ کے طور پر مسٹر رچرڈ ڈیون پورٹ (Richard Davenport) وہاں آئے ہوئے تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ مختلف قسم کے ویڈیو کیسٹ تیار کرتا ہے جو امریکی فوج کے لئے ٹیلیویژن پر دکھایا جاتا ہے۔ یہ پروگرام امریکہ کی تمام فوجی تنصیبات (bases) پر دیکھا جاتا ہے۔
اس وقت امریکہ کی تقریباً چار لاکھ فوج خلیج عرب کے علاقہ میں ہے۔ بھی وہاں بھیجی جاسکتی ہے ۔ چنانچہ امریکی فوجی اسلام اور عرب کلچر کے بارہ میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ خلیج میں امریکی فوجوں کی موجودگی سے ایک اچھی چیز یہ اگست / ۱۹۹۱ الرسائل 43
یہاں پر اسلامک انفارمیشن سروس کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے۔ وہ ہر ہفتہ ایک ویڈیو ٹیپ تیار کر کے ٹیلیویژن کمپنی کو دیتا ہے اور اس کو ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے۔ مجھ سے انھوں نے ویڈیو پر ایک مفصل انٹرویو لیا۔ اس میں اسلام کے موجودہ مسائل اور امریکی مسلمان اور ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں سوالات تھے۔ میں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ نااہل لیڈروں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں ملک میں لینے والے گروہ (taker-group) بن گئے۔ ان کی حیثیت دینے والے گروہ (giver-group) ان کے مسئلہ کا حقیقی حل صرف یہ ہے کہ انھیں دوبارہ دینے والے گروہ کے مقام پر لایا جائے۔
مسٹر اسلم عبد اللہ سے ملاقات ہوئی۔ وہ محمد مسلم صاحب مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ یہاں وہ انگریزی میگزین (The Minaret) کے ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے جو باتیں کہیں، اس کا خلاصہ تھا کہ "ہندوستانی مسلمانوں کے لئے صحیح ڈائرکشن یہ ہے کہ وہ کنفرنٹیشن کو اوائڈ کرتے ہوئے کام کریں۔
۵ دسمبر کی شام کو اسلامک سوسائٹی آرنج کاؤنٹی کے ہال میں ایک اجتماع میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ یہ مسلم، مسیحی اور یہودی سیمینار (Trialogue) تھا۔ پہلے ایک یہودی عالم نے تقریر کی اور اپنے مذہب کی تعلیمات کا تعارف کرایا۔ اس کے بعد ایک عیسائی عالم کھڑا اس نے اپنے مذہب کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ آخر میں ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی (ڈائرکٹر اسلامک سوسائٹی آرنج کاؤنٹی) کھڑے ہوئے، انھوں نے اسلام کا تعارف
ڈاکٹر صدیقی کو اللہ تعالی نے غیر معمولی صلاحیت عطا کی ہے۔ انھوں نے اسلام کا تعارف
قریب کی سیٹوں پر چند امریکی نوجوان بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ Comparative religion (تقابلی مذہب) کے طلبہ تھے۔ وہ اگر چہ مسیحی تھے اور امریکہ کی سفید فام نسل سے تعلق رکھتے مگر ڈاکٹر صدیقی کی تقریر سننے کے بعد ایک نوجوان بے اختیار کہہ اٹھا کہ میں مسیحی ہوں مگر ڈاکٹر صدیقی کی تقریر نے مجھے اپنے عقیدہ کے بارہ میں شک میں ڈال دیا ہے اور میں دوبارہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔ مجھے اسلام کے بارے میں اور زیادہ جاننے کی ضرورت ہے۔ وہ واقعہ غیر معمولی قسم کے لائق آدمی ہیں :
I am a Christian. But Dr. Siddiqi's presentation make me think twice. I have to learn more about Islam. He was terrific real genius. ڈاکٹر صدیقی نے اپنی تقریر میں اسلام کی بنیادی تعلیمات کا تعارف کراتے ہوئے آخر میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر چہ تمام مذاہب خدا کی طرف سے آئے۔ مگر آج تمام مذاہب میں محفوظ مذہب (Preserved religion) صرف ایک ہے، اور وہ اسلام ہے۔ یہی اسلام کو پیش کرنے کا صحیح ترین طریقہ ہے۔ اسلامی دعوت میں ہمیں فرعی یا سیاسی باتوں کو چھوڑتے ہوئے صرف بنیادی تعلیمات کو پیش کرنا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ دیگر مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کی ترجیح بتانے کے لئے یہ نہیں کہنا ہے کہ اسلام افضل مذہب ہے۔ بتانے کے لئے صرف ایک بات کہنا ہے اور وہ یہ کہ اسلام ہی آج محفوظ مذہب ہے۔ مذاہب تاریخی اعتبار سے محفوظ مذہب نہیں۔
میرا خیال ہے کہ اگر ڈاکٹر صدیقی جیسے افراد کی رہنمائی میں اس قسم کی سنجیدہ کانفرنسیں یورپ اور امریکہ میں کی جائیں تو ان کے ذریعہ زبردست دعوتی فائدہ حاصل ہوگا۔ کے مطابق آخر میں اختتامی کلمات مجھے کہنا تھا۔ مگر ڈاکٹر صدیقی کی تقریر کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ بعض وجوہ سے میں آخر وقت تک ٹھہر نہ سکا ۔ میں خاتمہ سے پہلے
نیو یارک سے جناب کلیم الدین صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے یہ خوشی کی بات بتائی
محمد ابراهیم صاحب (۴۲ سال) کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کمپیوٹر انجینئر ہیں اور ۸ سال سے نیو یارک میں مقیم ہیں۔ وہ ۱۹۸۹ میں حج کے لئے گئے تھے۔ وہاں انھوں نے دعا کی کہ خدایا، مجھے دین کا علم عطا فرما۔ واپسی پر ان کی ملاقات کلیم الدین صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے محمد ابراهیم صاحب کو الرساله پڑھنے کے لئے دیا۔ الرساله کو پڑھتے ہی انھیں محسوس ہوا کہ ان کی دعا قبول ہوگئی۔ الرساله اور مطبوعات الرساله کی صورت میں انھوں نے اس علم دین کو پا لیا جو ان کی روح طلب کر رہی تھی۔ اب دونوں مل کر نیو یارک میں الرساله مشن کا کام کر رہے ہیں۔
میرے نزدیک مغربی دنیا میں سب سے بڑا اسلامی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی زبان میں صحیح اسلامی لٹریچر موجود نہیں۔ یہاں میں نے ۵۰ صفحہ کی ایک انگریزی کتاب دیکھی۔ طور پر غیرمسلموں میں اسلام کے تعارف کے لئے چھاپی گئی ہے۔ اس کا نام تھا: Introducing Islam to non-Muslims اس کتاب میں جہاد کے عنوان کے تحت کہا گیا تھا کہ جہاد مقدس جنگ (Holy War) مقدس جنگ کا تصور ایک مسیحی تصور ہے۔ اس کے بعد جہاد کی تشریح کرتے ہوئے درج تھا کہ جہاد صرف دفاعی جنگ بھی نہیں ۔ بلکہ وہ کسی بھی غیر منصفانہ حکومت کے خلاف جنگ کا نام ہے۔ اگر ایسی حکومت موجود ہے تو اس کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ لیڈروں کے خلاف ہوگی نہ کہ ملک کے عوام کے خلاف۔ عوام کو نامنصفانہ حکومت کے قبضہ سے نکالا جائے گا تاکہ وہ آزادانہ طور پر اللہ پر ایمان لاسکیں: Jihad is not also a defensive war only, but a war against any unjust regime. If such a regime exists, a war is to be waged against the leaders, but not against the people of that country. People should be freed from the unjust regimes and influences so that they can freely choose to believe in Allah.
سیرتِ رسول پر سادہ و واقعاتی انداز کی ایک کتاب زیر تیاری ہے۔ یہ کتاب ہجرت تک لکھی جا چکی ہے۔ ساتھ ساتھ اس کی کتابت بھی ہو رہی ہے۔ ونگ کمانڈر یوسف خاں صاحب اس کا انگریزی ترجمہ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر برن اسٹارف (Dr Dagmar Bernstorff) جرمنی کی ہیڈل برگ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ موصوفہ ۱۰ اپریل کو اسلامی مرکز میں آئیں۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں بات چیت کی۔ انھوں نے بتایا کہ الرسالہ انگریزی کے کچھ شمارے انھوں نے پڑھے ہیں۔ اس کے مزید شمارے وہ اپنے ساتھ لے گئیں۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ مجھے بہت پسند ہے۔ چنانچہ میں نے اگست ۱۹۹۰ء جرمنی کے ریڈیو پر اپنی جرمن تقریر میں الرسالہ کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ الرسالہ انڈیا کا واحد پرچہ ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کو حقیقت پسندی کا سبق دے رہا ہے۔ اس کا پیغام ہے کہ مسلمانوں کو ماضی کی گلوری میں گم رہنے کے بجائے اپنے مستقبل کی تعمیر میں سرگرم ہونا چاہئے‘۔ آل انڈیا ریڈیو کی طرف سے رمضان کے مہینہ میں "سحر گاہی" کا پروگرام چلایا گیا۔ اس کے تحت ہر روز قرآن کی تلاوت اور اس کا ترجمہ سنایا جاتا تھا۔ اس موقع پر آل انڈیا ریڈیو کے عملہ نے تذکیر القرآن کا انتخاب کیا۔ چنانچہ تلاوت کے بعد اس کا ترجمہ تذکیر القرآن سے سنایا جاتا رہا۔ بھارتیہ شکشن منڈل (نئی دہلی) کے زیر اہتمام ۶ اپریل ۱۹۹۱ء کو جھنڈے والان (نئی دہلی) میں ایک سیمنار ہوا۔ اس سیمنار کا عنوان یہ تھا :
طور پر پڑھا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
اقوال حکمت " کا انگریزی ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس وقت وہ چھپائی کے مرحلہ میں ہے۔ کے بعد ان شاء اللہ اس کتاب کا ہندی ترجمہ بھی شائع کیا جائے گا۔
تذکیر القرآن کا ایک نیا ایڈیشن تیار کیا جا رہا ہے۔ اس میں صرف عربی متن اور اردو ترجمہ ہو گا۔ پوری کتاب ایک جلد میں ہو گی۔
الرسالہ کا ایک خاص نمبر زیر تیاری ہے۔ اس کا نام " رہنمائے حیات " ہوگا۔ اس کا ہر مضمون ایک صفحہ کا ہو گا۔ اس میں بتایا جائے گا کہ زندگی کی تعمیر کامیاب طور پر کس طرح کی جائے۔ حافظ عبد الرزاق صاحب احمد آبادی تراویح سنانے کے لئے شکاگو (امریکہ) گئے۔ سے وہ اپنے خط میں لکھتے ہیں : آپ نے تذکیر القرآن کے نام سے قرآن کا جو ترجمہ شائع کیا ہے، یہاں ایک مسجد میں اس کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اکثر لوگ اہتمام سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ میں نے بھی مطالعہ کیا۔ بہت فرحت ہوئی، بہت آسان ہے۔ تذکیر القرآن کو آڈیو ٹیپ پر لایا جا رہا ہے۔ ایک جلد کی ریکارڈنگ ہو چکی ہے۔ ہے کہ تقریباً 45 کیسٹ پر پوری تذکیر القرآن آجائے گی ۔
مولانا عبد الرحیم رشادی (پلاپتی، تامل ناڈو) نے اطلاع دی ہے کہ انھوں نے " روشن مستقبل " کا ترجمہ تامل زبان میں مکمل کر لیا ہے اور اب اس کو چھاپنے کا انتظام کر رہے اسی طرح وہ مرکز کی دوسری کتابیں بھی تامل زبان میں ترجمہ کر کے چھاپنا چاہتے ہیں۔ " فلیش ڈائری " اردو میں الرسالہ مئی ۱۹۹۱ میں شائع ہوئی ہے۔ اب اس کا ترجمہ عربی، ہندی، انگریزی میں کیا جا رہا ہے۔ انشاء اللہ وہ بقیہ تینوں زبانوں میں بھی شائع
روشناس کیا ہے۔ یہ کتاب اس لائق ہے کہ اس کا ترجمہ دنیا کی ہر زبان میں ہو۔ ۱۲ اپریل ۱۹۹۱ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔ اس کا عنوان تھا : عید مسرتوں کا تہوار ۔
۱۵ ایک کتاب " الربانیہ " کے نام سے تیار ہوئی ہے۔ یہ 224 صفحات پر مشتمل ہے۔ جلد ہی وہ چھپائی کے لئے بھیج دی جائے گی ۔
۱۶ خبر نامہ کے تحت مشن کی جو خبریں آتی ہیں وہ اصل کام اور اصل سرگرمیوں سے بہت کم ملک کے اندر اور ملک کے باہر مشن سے وابستہ حضرات جو کچھ کر رہے ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں سے ہمیں بذریعہ ڈاک مطلع کرتے رہیں تا کہ ان کو خبر نامہ میں شامل کیا جاسکے۔
۱۷ روشن مستقبل ( الرساله جنوری ۱۹۹۱) کو ہر حلقہ میں کافی پسند کیا گیا۔ ایجنسی نے زیادہ تعداد میں منگوا کر اس کو پھیلایا۔ اب اس کو علیحدہ کتاب کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ کتاب کے ساتھ کوئی مزید اضافہ نہیں کیا
۱۸ الرسالة فرینڈ س سرکل بمبئی کی جانب سے عنقریب بمبئی میں الرساله سمپوزیم منعقد کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں تفصیلی معلومات آئندہ شائع کی جائیں گی مزید معلومات کے لئے درج ذیل پتہ پر رابطہ
DR ABDUL KARIM M NAIK 42 JAIL ROAD (E), CHAR NULL, DONGRI TEL. 861572, 8519194