Al-Risala · January 1991

Killing of a sensation is sin, and vice versa.

Al-Risala, January 1991, pp. 38–40

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر عملاً ہم اس کے بالکل مختلف صورت حال دیکھ رہے ہیں۔ ایسی حالت میں اس ہر کو ہند و لہر کیسے کہا جا سکتا ہے۔

" اگر واد " میں یقین کرنے والے کچھ لوگ اگر تشدد اور تخریب کی تحریک چلائیں اور اپنی تقریروں سے عوام کی ایک بھیڑ اکٹھا کر لیں، اس کے بعد اس کا نام گاندھی لہر رکھ دیں تو کیا یہ صحیح ہوگا ۔ ظاہر ہے کہ وہ صحیح نہ ہوگا۔ کیوں کہ ایسی لہر حقیقتاً اینٹی گاندھی لہر ہے نہ کہ گاندھی لہر ۔ یہی معاملہ ان انتہا پسند ہندو بھاگیوں کا ہے جن کو ٹائم میگزین (۱۵ نومبر ۱۹۹۰) نے جنگ جو (Militant Hindus) کہا ہے اور جو بابری مسجد کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں ۔ وہ اپنی اس تحریک کو اس چیز کا حصہ سمجھتے ہیں جس کو وہ ہند و تو کہتے ہیں۔ یہ تحریک با اعتبار حقیقت مسلمانوں کے خلاف ہے۔ چنانچہ مسٹر ایل کے اڈوانی نے اس کی تشریح (minorityism versus nationalism) (اقلیت نوازی بمقابلہ قومیت) کے الفاظ میں کی ہے ( انڈیا ٹوڈے ، ۳۱ اکتوبر ۱۹۹۰، صفحه ۵۹)

اس موضوع پر ہمارے ہندو بھائی جو پر تشدد تحریک چلا رہے ہیں، وہ واضح طور پر رواداری، اہمسا اور ہر ایک کے احترام کے خلاف ہے جس کو ہندودازم کا بنیادی اصول بتلایا ایسی حالت میں اس تحریک کو کبھی اینٹی ہندو لہر کا نام دیا جائے گانہ کہ ہندو لہر کا۔ عقیدہ یا تاریخ یہ حضرات کہتے ہیں کہ اجودھیا کی بابری مسجد عین رام جنم بھومی کے مقام پر بنی ہے، اس لئے، ہم مسجد کو ڈھاکر دوبارہ وہاں رام مندر بنائیں گے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ کا دعویٰ تاریخ سے ثابت مگر وہ اس پر دھیان دینے کے لئے تیار نہیں۔

مثال کے طور پر تاریخ بتاتی ہے کہ بابری مسجد ۱۵۲۸ میں بنائی گئی۔ اس کے تقریباً چالیس سال بعد تلسی داس رو فات ، بنارس (۱۶۲۳) اجودھیا جاتے ہیں۔ وہ وہاں کے مندروں کو دیکھتے ہیں اور رام کی زندگی پر ادودھی زبان میں اپنی کتاب رام چرت مانس (۷۶-۴۷-۱۵) لکھتے ہیں۔ تفصیلی کتاب میں رام کے بارے میں ہر چیز موجود ہے۔ مگر اس میں رام جنم بھومی پر بنے ہوئے مندر کو توڑ کر مسجد بنانے کا کوئی ذکر نہیں۔

حالانکہ یہ شہنشاہ اکبر (۱۶۰۵-۱۵۲۲) کا زمانہ تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، اکبر ایک ہندو نواز اس کی ملکہ بھی ایک ہندو خاتون تھی۔ اگر مندر توڑنے کا واقعہ صحیح ہوتا تو اکبر جیسے بادشاہ کے زمانہ میں تلسی داس اس کی بے خوف و خطر نشاندہی کرتے کہ بابر کے حاکم میر باقی نے رام مندر کو توڑ کر وہاں مسجد بنادی تھی۔ تلسی داس اگر اس کا اعلان کرتے تو اس کے بعد یا تو فوراً شاہی فرمان نافذ ہوتا کہ اس عمارت کو ہندوؤں کے حوالہ کر دیا جائے ۔ یا کم از کم تلسی داس کی کتاب میں اس کا ریکارڈ ہمارے پڑھنے کے لئے موجود رہتا۔

اس طرح کے حقائق جب پیش کئے جاتے ہیں تو مذکورہ حضرات کہتے ہیں کہ یہ ہمارے عقیدہ کا اس معاملے میں ہم تاریخ کی کوئی بات نہیں سنیں گے اور نہ عدالت کا فیصلہ مانیں گے ۔ مذہبی عقیدہ کا تعلق تاریخ اور عدالت سے نہیں ہوتا۔

یہ جواب سراسر غیر معقول ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مذہبی عقیدہ کا تعلق تاریخ یا عدالت سے نہیں مگر "مندر کو توڑ کر مسجد بنانے" کا مسئلہ مکمل طور پر ایک تاریخی مسئلہ ہے نہ کہ عقیدہ کا مسئلہ۔

اگر یہ کہا جائے کہ ” رام وششنو کے اوتار تھے “ تو یہ بلاشبہ عقیدہ کا ایک مسئلہ ہوگا۔ اس کو تاریخ اور قانون کے دائرہ میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ مگر ” فلاں مسجد مندر کو توڑ کر بنائی گئی “ یہ بلاشبہ تاریخ کا مسئلہ ہے اور بصورت نزاع یقیناً اس کو تاریخ اور قانون کے دائرہ میں لا کر فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ ہندو سماج کی کوئی خدمت انجام نہیں دے رہے ہیں۔ ہندو سماج کو اس کی اعلیٰ روایات سے ہٹا رہے ہیں۔ سوامی وویکانند کی امریکہ کے پارلیمنٹ آف ریلیجز میں تقریر (۱۸۹۳) کے بعد سے اب تک ہزاروں ہندو پیشواؤں کو مغربی ملکوں میں زبردست استقبال ملتا رہا ہے۔ اس کی وجہ ہندو دھرم کی رواداری اور عدم تشدد کی روایات ہیں۔ ہندوؤں کے انتہا پسند رہنما تاریخ کے اس پورے باب کو بند کر دینا چاہتے ہیں۔ وہ ہندو دھرم کو اس کی اس کشش سے محروم کر دینا چاہتے ہیں جس نے مشرق و مغرب کے بہت سے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کیا تھا۔

Printed page