Al-Risala · September 1991

ایک شہادت

Al-Risala, September 1991, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

اخرج ابن ابی الدنیا عن ابی اراكة يقول : صليت مع على رضى الله عنه صلاة الفجر، فلما انفتل عن يمينه مكث كأنّ عليه كأبةً ، حتى اذا كانت الشمس على حائط المسجد قيد رُمح صلّى ركعتين ثم قلب يده فقال : والله لقد رأيت اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فما اری اليوم شيئاً يُشبههم :

لقد كانوا يصبحون صُفراً شُعثاً غُبراً بين اعينهم كامثال رُكب المعزی ۔ باتوا لِلّه سُجداً وقياماً، يتلون كتاب الله، يتراوحون بين جباههم و اقدامهم، فاذا اصبحوا فذكروا الله مادوا كما يميد الشجر في يوم الريح ومهملت | عينهم حتى تنبل ثيابهم، ، والله لكانّ القوم با توا غافلين ۔ فما رُئى بعد ذلك مفتراً يضحك حتى قتله ابن ملجم عدو الله الفاسق ۔

ابن ابی الدنیا نے روایت کی ہے۔ اسماعیل السدی کہتے ہیں کہ میں نے ابو ار اکة تابعی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے خلیفہ چہارم علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ پھر جب انھوں نے اپنے چہرہ کو دائیں طرف پھیرا تو وہ اس طرح رہے جیسے کہ ان کے اوپر شدید غم ہو۔ یہاں تک کہ جب دھوپ مسجد کی دیوار پر ایک نیزہ کے برابر آگئی تو انھوں نے اٹھ کر دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر انھوں نے اپنے ہاتھ کو پلٹتے ہوئے کہا۔ خدا کی قسم، میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھا ہے۔ آج میں کوئی چیز ان کے مشابہ نہیں دیکھتا۔ وہ خالی ہاتھ، پراگندہ بال اور غبار آلود حالت میں صبح کرتے تھے۔ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بکری کے گھٹنے جیسا نشان ہوتا۔ وہ اپنی رات اللہ کے لیے سجدہ اور قیام میں وہ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ، وہ اپنی پیشانیوں اور قدموں کے درمیان باری باری عمل کرتے ۔ جب وہ صبح کرتے تو وہ اللہ کو یاد کرتے ، اس وقت وہ ہلتے جس طرح درخت ہوا کے چلنے کے وقت ہلتا ہے۔ ان کی آنکھیں آنسو بہاتیں ، یہاں تک کہ ان کے کپڑے بھیگ جاتے۔ قسم، آج کے لوگوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی رات غفلت میں گزاری ۔ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا، پھر وہ وہاں سے اٹھ گئے ۔ اس کے بعد وہ کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھے گئے،

یہاں تک کہ دشمنِ خدا ابنِ ملجم نے ان کو قتل کر دیا (البدایہ والنہایہ ۶/۸) ’’خالی ہاتھ، پراگندہ بال اور غبار آلود ہونا‘‘ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دنیا سے آخری حد تک بے رغبت تھے اور آخرت کی طرف آخری حد تک متوجہ ہو چکے تھے۔ دین کی فکر میں وہ اس حد تک گم ہو چکے تھے کہ اہلِ دنیا اگر دیکھیں تو سمجھیں کہ یہ مجنون لوگ ہیں۔ ذکر اور عبادت اور تلاوت ان کی محبوب ترین چیز ہو چکی تھی۔ لمبے قیام میں انھیں تسکین ملتی تھی۔ ان کے طویل سجدوں کا نشان ان کی پیشانیوں پر نمایاں نظر آتا تھا، وہ اندر سے باہر تک خدا کے نور میں نہائے ہوتے تھے۔ ان کی زندگی تمام تر خدا کے لیے وقف ہو چکی تھی۔ ’’اللہ کی یاد کے وقت وہ اس طرح ہلتے جیسے درخت تیز ہوا میں ہلتا ہے۔ ‘‘ یہ اس کیفیت کا ذکر ہے جو تھر تھراہٹ کے وقت ان کے جسم کی ہوتی تھی۔ اللہ کی یاد ان کے سینے میں بھونچال کی طرح اس نے ان کی روح کے اندر ایک بجلی دوڑا جاتی اور ان کے جسم پر تھرتھری کی کیفیت پیدا ہو جاتی۔ وہ اللہ کے خوف سے بار بار کانپ اٹھتے تھے۔

’’ان کی آنکھیں آنسو بہاتیں اور ان کے کپڑے بھیگ جاتے‘‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے لیے خدا کا ذکر کوئی تلفظ لسانی کا عمل نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک قلبی عمل ہوتا تھا۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے چند الفاظ میں اصحابِ رسول کا جو خاکہ بتایا ہے، وہ نہایت کامل اور جامع خاکہ ہے۔ ان مختصر لفظوں میں اصحابِ رسول کی وہ تمام بنیادی صفات آجاتی ہیں جن سے وہ متصف تھے اور جنھوں نے ان کو پوری نسلِ انسانی میں انبیاء کرام کے بعد سب سے اونچا درجہ دیدیا۔ اصحابِ رسول بھی مومن تھے جس طرح دوسرے لوگ مومن ہوتے ہیں۔ مگر اصحابِ رسول کا ایمان ان کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ فیصلہ تھا۔ حتیٰ کہ اس نے انھیں دیوانہ بنا دیا۔ ان کا ایمان ان کے پورے وجود میں چمک اٹھا تھا۔ اللہ کی یاد ان کے لیے ایک روحانی زلزلے کے ہم معنی تھی۔ کو ماننا ان کے لیے ایک ایسی طوفان خیز حقیقت پر یقین کرنا تھا جو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بن کر بہہ نکلے۔

اصحابِ رسول تاریخ کے سب سے زیادہ زندہ انسان تھے اور تاریخ کی سب سے زیادہ انقلابی جماعت۔

Printed page