Al-Risala · September 1991

والذین معه

Al-Risala, September 1991, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد رسول الله والذين معه محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ اشداء على الكفار رحماء بينهم تراهم ہیں وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ ركعا سجدا يبتغون فضلا من الله تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھو گے۔ سيماهم في وجوههم من کافضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے اثر السجود ۔ ذلك مثلهم في التوراة ۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے سجدہ کے ومثلهم في الانجيل كزرع اخرج اثر سے ، ان کی یہ مثال تو رات میں ہے ۔ شطأه فآزره فاستغلظ فاستوى میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی ، اس نے اپنا على سوقه يعجب الزراع ليغيظ انکھوا نکالا۔ پھر اس کو مضبوط کیا۔ پھر وہ اور موٹا ہوا۔ وعد الله الذين پھر اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا ۔ وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے آمنوا وعملوا الصالحات منهم تاکہ ان سے کافروں کو جلائے ۔ ان میں سے جو مغفرة واجراً عظيماً ( الفتح (۲۹) ۔ لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا ، اللہ نے ان سے معافی کا اور بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔

قرآن کے یہ الفاظ اصحاب رسول کے بارہ میں ہیں۔ اصحاب رسول کی تاریخی اہمیت کی بنا پر ان کی صفات قدیم آسمانی صحیفوں میں درج کردی گئی تھیں ۔ موجودہ محرف تورات میں اب بھی موجود ہے کہ وہ لاکھوں قدسیوں (saints) میں سے آیا ( استثنا ۲۳ : ۲) موجودہ انجیل میں یہ پیشین گوئی ان الفاظ میں ملتی ہے : خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں بیج ڈالے۔ اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے اور وہ بیج اس طرح اگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے۔ زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے۔ پہلے پتی ، پھر بالیں، پھر بالوں میں تیار دانے۔ پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتا ہے کیونکہ کاٹنے کا وقت آپہنچا (مرقس ۴ : ۲۶-۲۹) وہ رائی کے دانے کی مانند ہے کہ جب زمین میں بویا جاتا ہے تو زمین کے سب بیجوں سے چھوٹا ہوتا ہے۔ مگر جب بودیا گیا تو اگ کر سب ترکاریوں سے بڑا ہو جاتا ہے اور ایسی ڈالیاں نکالتا ہے کہ ہوا کے پرندے اس کے سایہ میں بسیرا کریں (۳۲)

اس آیت کے پہلے حصہ میں تورات کے حوالے سے صحابہ کی انفرادی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اور اس کے دوسرے حصہ میں انجیل کے حوالے سے ان کی اجتماعی صفات۔

اصحاب رسول کی پہلی شخصی صفت یہ بتائی کہ وہ منکروں پر سخت ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پر ایمان نے ان کو ایک با اصول انسان بنا دیا ہے۔ جو لوگ دین خدا کے منکر ہیں یا بے اصول زندگی گزار رہے ہیں، ان کے ساتھ مصالحت کا معاملہ کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ ذاتی مفاد کی خاطر کبھی وہ بے اصولی کا رویہ اختیار

"وہ آپس میں مہربان ہیں" کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ اختلاف اور شکایت کے مواقع پیش آنے کے باوجود وہ ہمدردی اور مہربانی کے رویہ پر قائم رہتے ہیں۔ غیر اہل دین کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے اصولی ٹکراؤ کا مسئلہ پیش آتا ہے، وہاں وہ بالکل بے لچک ثابت ہوتے ہیں۔ ہم مذہب لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے شکایت کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں، مگر وہ شکایتوں اور تلخیوں کو نظر انداز کر کے حسن سلوک کی روش پر قائم رہتے ہیں۔

"وہ رکوع اور سجدہ میں رہتے ہیں" یعنی وہ نماز قائم کرنے والے ہیں۔ ان کے دن اور ان کی راتیں اللہ کے آگے جھکنے میں اور اس کی عبادت گزاری میں بسر ہوتی ہیں۔

"وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کے طالب ہیں" یعنی ان کے لیے سب سے زیادہ محبوب و مطلوب چیز وہ ہے جو اللہ کے پاس ہے۔ وہ اللہ کی یاد میں، اور اللہ سے دعا و التجا میں اپنے لمحات

"ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے" یعنی ان کے دل کا اللہ کے لیے جھکاؤ ان کے چہروں پر تواضع اور سنجیدگی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ خدا کے ساتھ گہری وابستگی ان کے چہروں پر ربانی جھلک کی صورت میں نظر آتی ہے ____ یہ ان کے انفرادی اوصاف ہیں۔

صحابہ کے انفرادی اوصاف کے ذکر کے بعد ان اوصاف کے اجتماعی انجام کو بیج کی مثال سے بتایا بیج زمین میں بو دیا جائے تو وہ بڑھتے بڑھتے درخت بن جاتا ہے۔ اسی طرح مذکورہ اوصاف جب افراد انسانی میں پیدا ہو جائیں تو وہ بیرونی دنیا کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ یہ عمل جاری رہتا ہے۔ تک کہ وہ اس انقلاب تک پہنچ جاتا ہے جس کا کامل نمونہ اصحاب رسول کی صورت میں تاریخ میں قائم ہوا۔

Printed page