اعتراف حق
Al-Risala, September 1991, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عمر بن الخطاب کھڑے انھوں نے کہا کہ بہت سے منافق یہ گمان کر رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات مگر خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ وہ اپنے رب کے پاس گئے ہیں جیسا کہ موسیٰ بن عمران گئے تھے۔ وہ اپنی قوم سے چالیس دن کے لیے غائب ہو گئے تھے، پھر ان کی طرف واپس آئے جب کہ یہ کہا جانے لگا تھا کہ وہ مر گئے ۔ خدا کی قسم ، رسول اللہ ضرور اسی طرح لوٹ کر آئیں گے جس طرح موسیٰ لوٹ کر آئے۔ پھر آپ ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے جن کا یہ گمان ہے کہ آپ پر موت واقع ہوگئی ہے۔
ابو بکر کو خبر ہوئی تو وہ آئے اور مسجد کے دروازے پر اترے۔ اس وقت عمر لوگوں کے سامنے تقریر کر رہے تھے۔ ابوبکرؓ سیدھے آپ کے حجرہ میں گئے۔ ابو بکر نے آپ کے چہرہ سے چادر اٹھائی اور اس کو بوسہ دیا ، پھر کہا کہ میرے باپ اور ماں آپ پر قربان ، اللہ نے جو موت آپ کے لیے مقدر کی تھی ، وہ آپ پر آ چکی ۔ اس کے بعد اب آپ پر موت کی مصیبت آنے والی نہیں۔ کے بعد ابو بکر نے آپ کے چہرے کے اوپر چادر ڈال دی اور باہر آئے۔ عمر برابر لوگوں کے سامنے بول رہے تھے۔ ابو بکر نے ان سے کہا کہ اے عمر ٹھہرو ، خاموش ہو جاؤ ۔ عمر نے چپ ہونے سے انکار کیا۔ ابو بکر نے جب دیکھا کہ عمر چپ ہونے پر تیار نہیں ہیں تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ لوگوں نے جب ابو بکر کی آواز سنی تو سب ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور عمر کو چھوڑ دیا۔ ابو بکر نے حمد و ثنا کے بعد کہا کہ اے لوگو، جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد مر گئے ۔ اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے ، وہ کبھی مرنے والا نہیں۔ اس کے بعد ابو بکر نے یہ آیت پڑھی : وما محمد الا رسول قد خلت من اور محمد بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت قبلہ الرسل افان مات او قتل سے رسول گزر چکے ہیں۔ پھر کیا اگر وہ مر جائیں انقلبتم علی اعقابكم ومن ينقلب على یا قتل کر دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ۔ عقبیہ فلن يضر الله شيئا اور جو آدمی پھر جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا
وسيجزي الله الشاکرین (آل عمران (۱۴۴) اور اللہ شکر گزاروں کو بدلہ دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب ابو بکر نے یہ آیت پڑھی تو ایسا محسوس ہوا جیسے لوگ یہ جانتے ہی نہ تھے کہ قرآن میں یہ آیت بھی نازل ہوئی ہے۔ اب ابوبکرؓ سے اس آیت کو سن کر لوگوں نے اس کو اخذ کر لیا۔ اس کے بعد یہ آیت تمام لوگوں کی زبان پر تھی۔
راوی کہتے ہیں کہ عمر نے کہا کہ خدا کی قسم ، جب میں نے ابو بکر کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا تو میں دہشت زدہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں زمین پر گر پڑا۔ اور میرے دونوں پاؤں میرا بوجھ نہ اٹھا سکے۔ میں نے جان لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی (سيرة ابن ہشام ۴/ ۳۵-۳۴) عمر فاروق اس وقت اتنے جوش میں تھے کہ ابو بکر صدیق کی باتوں سے چپ نہیں ہو رہے تھے۔ اس کے بعد جب انھوں نے قرآن کی ایک آیت پڑھ دی تو اچانک وہ ڈھ پڑے۔ حالانکہ ابو بکر صدیق پہلے بھی کچھ الفاظ بول رہے تھے، اور اب بھی انھوں نے کچھ الفاظ ہی اپنی زبان سے نکالے تھے۔ کا سبب یہ ہے کہ پہلے الفاظ انسان کے الفاظ تھے، اور دوسرے الفاظ خدا کے الفاظ ۔ اس سے اصحاب رسول کی ایک نہایت اہم صفت سامنے آتی ہے ۔ وہ یہ کہ اصحاب رسول اللہ کا حکم آتے ہی اس کے آگے ڈھ پڑنے والے لوگ تھے ۔ عام انسان قیامت میں رب العالمین کو دیکھ کر اس کے آگے ڈھ پڑے گا۔ اصحاب رسول وہ لوگ تھے جو اسی دنیا میں رب العالمین کو دیکھے بغیر اس کے آگے ڈھ پڑے۔ منکرین خدا پر جو کچھ موت کے بعد بیتنے والا ہے ، وہ اصحاب رسول پر موت سے پہلے کی زندگی میں بیت گیا ۔ دوسرے لوگ جس چیز کو مجبوری کے تحت قبول کریں گے ، اس کو اصحاب رسول نے خود اپنے آزادانہ فیصلہ کے تحت اختیار کر لیا۔
انسان کو موجودہ دنیا میں اسی خاص امتحان کے لیے رکھا گیا ہے۔ یہاں انسان کو آزادی دی گئی مگر یہ آزادی برائے آزمائش ہے نہ کہ برائے انعام - اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون شخص ہے جو آزادی پا کر سرکش ہو جاتا ہے ، اور کون ہے جو آزادی پانے کے با وجود اللہ کے آگے جھک جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اسی خدائی مطلوب کا عملی نمونہ تھے۔ انھوں نے خدا کے حکم کو عملاً اختیار کر کے اس بات کا مظاہرہ کیا کہ آدمی کو کیسا بننا چاہیے ، اور اپنی آزادی کو اسے کس طرح استعمال کرنا چاہیے۔