Al-Risala · January 1991

نیا دور

Al-Risala, January 1991, pp. 41–45

By Maulana Wahiduddin Khan

پچھلے پچاس برس سے تمام سطحی لیڈر یہ کہہ رہے تھے کہ جب اشتعال انگیزی کی جائے گی تو مسلمان ضرور مشتعل ہوں گے۔ یہ اصول سراسر غیر معقول اور غیر اسلامی تھا۔ لیکن مسلمانوں نے لیڈروں کے پر فریب الفاظ میں آکر اسے اختیار کر رکھا تھا۔ مگر حالات بدلتے ہیں کہ اب وہ اس فریب سے باہر آچکے ہیں۔ اب انھوں نے جان لیا ہے کہ اشتعال انگیزی ہو تب بھی انھیں مشتعل نہیں ہونا ہے۔ ان کے جذبات کو چھیڑا جائے تب بھی انھیں اعراض کرکے اس سے گزر جانا ہے۔

اکتوبر ۱۹۹۰ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر کی، ہزار کلومیٹر کی رتھ یاترا جو سومناتھ سے شروع ہو کر اجودھیا میں ختم ہونے والی تھی، اس نے اپنے طویل سفر کے دوران بار بار اشتعال انگیزی کی صورت حال پیدا کی۔ مگر مسلمان ہر بار اعراض کے اصول پر قائم رہے ۔ ۳۰ اکتوبر کو بابری مسجد کے گنبدوں پر بھگوا جھنڈ لہرا دیا گیا۔ اس کو ٹیلی ویژن پر دکھا گیا اور تمام اخبارات میں اس کی تصویریں اس دوران ملک کے مختلف حصوں میں درجنوں مقامات پر فسادات ہوئے۔

اس قسم کے مختلف اشتعال انگیز واقعات بار بار ہوتے رہے ۔ مگر مسلمانوں نے ایک بار بھی کسی مقام پر رد عمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہر موقع پر وہ کامل صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے رہے ۔ وہ اپنے صابرانہ طریقہ سے فساد کی آگ کو بجھاتے رہے۔

یہ ایک عظیم الشان تبد یلی ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست میں ۱۹۹۰ کے آخر میں ظہور میں آئی ہے۔ مسلمانوں نے پہلی بار اپنے نااہل لیڈروں کو رد کر دیا ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسلامی اصول کے مطابق، وہ اشتعال انگیزی کے مقابلہ میں صبر کی روش اختیار کریں گے ، وہ برے سلوک کا جواب اچھے سلوک سے دیں گے۔

مسلمانوں نے اپنے اس نئے فیصلے میں صرف ایک چیز کھوئی ہے ، وہ ان کے نااہل لیڈر ہیں۔ کے سوا انھوں نے تمام چیزوں کو پالیا ہے۔ مسلمانوں کی یہ نئی دریافت انھیں مبارک ہو۔ نااہل لیڈروں کی غلط رہنمائی خود ان لیڈروں کو تو بہت کچھ دیتی رہی۔ مگر اس کے نتیجہ میں مسلمان پچھلی نصف صدی تک نہایت قیمتی چیزیں کھوتے رہے۔ اب انشاء اللہ اپنے نئے فیصلے کے تحت وہ مزید

اضافہ کے ساتھ یہ تمام چیزیں پالیں گے۔

اس کا ایک المناک نتیجہ یہ تھا کہ مسلمان ہندوستان میں غیر ضروری طور پر مایوسی کا شکار رہے۔ وہ یہ سمجھتے رہے کہ ہندوستان میں ان کے لئے زندگی اور عمل کے مواقع نہیں ہیں۔ اور اس کی وجہ، نا اہل لیڈروں کے بیان کے مطابق، یہ تھی کہ ملک میں انہیں بعض اوقات نا خوشگوار حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔

حالات بتاتے ہیں کہ اب مسلمانوں نے یہ دریافت کر لیا ہے کہ ناخوشگواری کسی خاص ملک کی صفت نہیں بلکہ وہ دنیا کی صفت ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر جگہ، خواہ وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک، اس قسم کے حالات لازماً پیش آتے ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ حکمت اور تدبیر کے ساتھ ان سے نپٹا جائے۔ حالات دراصل چیلنج ہیں اور چیلنج، خود تخلیق خداوندی کے مطابق، زندگی کا حصہ ہے۔ چیلنج کے ذریعہ ہی انسانیت ترقی کرتی ہے۔ اگر چیلنج نہ ہو تو انسانیت کا قافلہ معطل ہو کر رہ جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اس دریافت کے بعد ہندوستان کے مسلمان اس ملک میں نئے حوصلہ کے ساتھ زندگی کی تعمیر کریں گے۔

لیڈروں کی غلط رہنمائی کا دوسرا نقصان جو پچھلے برسوں میں مسلمانوں کو اٹھانا پڑا وہ یہ تھا کہ وہ اسلام کی بتائی ہوئی ایک عظیم طاقت سے محروم ہوگئے ۔ قرآن میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے تو تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمہارا دشمن بھی تمہارا دوست بن جائے گا۔

اسلام کی یہ تعلیم ایک ایسا اخلاقی ہتھیار ہے جس کے اندر تسخیر کی لامحدود صلاحیت ہے۔ اول کے مسلمانوں نے اس اخلاقی طاقت کو استعمال کرکے اپنے بدترین دشمنوں کو زیر کر لیا تھا۔ کے مسلمان بھی اس اسلامی تعلیم کا یہ فائدہ حاصل کرسکتے تھے مگر نا اہل لیڈروں کی غلط رہنمائی نے انہیں اس نعمت سے محروم رکھا۔ اب مسلمانوں نے جو نیا سفر شروع کیا ہے اس میں انشاء اللہ وہ اس اسلامی تعلیم کا بھر پور فائدہ حاصل کر سکیں گے۔

نااہل لیڈروں کی غلط رہنمائی کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ مسلمان ملک کی ایک اہم حقیقت سے بے خبرہ گئے جو سراسر ان کی موافقت میں تھی۔ کوئی شخص اگر اپنے ماحول کے بارہ میں منفی انداز سے سوچنے

لگے تو اس کا لازمی نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس کو صرف "عسر" کا پہلو دکھائی دیتا ہے ، "یسر" کا پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اس معاملہ کے مختلف پہلو ہیں۔ یہاں میں صرف ایک پہلو کا ذکر

ٹائمز آف انڈیا (۹ نومبر ۱۹۹۰) کے آخری صفحہ پر ایک چھوٹی سی خبر چھپی ہے مگر وہ انتہائی اہم ہے۔ بمبئی کی ڈیٹ لائن کے ساتھ چھپنے والی اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ ٹائمز آف انڈیا اپنے سات ایڈیشنوں کے ساتھ اس وقت ملک کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا اخبار ہے جس کی ہر روز چھ لاکھ انتیس ہزار (629,000) کاپی فروخت ہوتی ہے۔ خبر کے مطابق اس سے پہلے انڈین ایکسپریس اپنے بارہ ایڈیشنوں کے ساتھ ملک میں سب سے زیادہ بکنے والا اخبار تھا۔ مگر آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (ABC) کے تازہ اعلان کے مطابق، ٹائمز آف انڈیا نے پہلی بار سب سے زیادہ چھپنے والے اخبار کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا اپنی موجودہ اشاعت کے ساتھ ملیالامنو ما (Malayala Manorama) سے بھی آگے بڑھ گیا ہے جس کی موجودہ اشاعت چھ لاکھ سات ہزار ہے۔

یہ خبر علامتی طور پر ملک کے ایک واقعہ کو بتاتی ہے۔ رام جنم بھومی تحریک کے سلسلہ میں ٹائمز آف انڈیا نے واضح طور پر اس کے مخالف رویہ اختیار کیا۔ ایڈیٹوریل، مضامین، خطوط اور خبروں کی صورت میں وہ مسلسل یہ تاثر دیتا رہا ہے کہ یہ پوری تحریک دتیانو سیت پر مبنی ہے اور وہ ملک کی ترقی کے لئے تباہ کن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رام جنم بھومی تحریک کے لوگ ٹائمز آف انڈیا کو اپنا دشمن اخبار

اس وقت ملک کے جو حالات ہیں ، ان میں ٹائمز آف انڈیا کی اشاعت کا بڑھنا علامتی طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوؤں کے تعلیم یافتہ طبقہ کی سوچ وہی ہے جو ٹائمز آف انڈیا کی سوچ ہے۔ یہ طبقہ اس پوری تحریک کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔

مذکورہ خبر اس واقعہ کی صرف ایک علامت ہے۔ ورنہ مختلف صورتوں میں یہ بات بار بار سامنے ہندوستان کے تمام بڑے سے بڑے ہندو مورخین نے اس معاملہ میں رام جنم بھومی کے دعویٰ کو غیر تاریخی قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔ ان کی یہ مذمت عالمی سطح پر مشہور ہو چکی ہے۔ امریکہ کے ٹائم میگزین نے بھی نمایاں طور پر اس کا اظہار کیا ہے۔

جو لوگ ہندی اور انگریزی اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں، انھیں یہ بات معلوم ہے کہ اس معاملے میں ہند و تعلیم یافتہ لوگوں نے کثرت سے ایسے مضامین اور خطوط شائع کرائے ہیں جو حد درجہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پر مبنی ہیں۔ جن لوگوں کو ہندی اور انگریزی اخبارات کے مطالعہ کا موقع نہ ملا ہو وہ مسلمانوں کے اردو اخبارات میں بھی ان کے اقتباسات دیکھ سکتے ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہندو قوم واضح طور پر دو طبقوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک عوام کا طبقہ ، اور دوسرے ان کے خواص کا طبقہ۔ یہ صحیح ہے کہ شمالی ہند کے ہندو عوام کی ایک تعد اد رام جنم بھومی کے ساتھ ہے۔ مگر دوسرا خوش آئند پہلو یہ ہے کہ ملک کے تعلیم یافتہ ہندو اور اسی کے ساتھ جنوبی ہند کے تقریباً تمام ہندو اس معاملہ میں حقیقت پسندانہ رائے رکھتے ہیں جو واضح طور پر مسلمانوں کی موافقت میں ہے۔

ماضی میں مسلمان اس حقیقت کا شعوری ادراک نہ کر سکے تھے۔ اب اپنے نئے ذہن کے تحت ان شاء اللہ وہ اس حقیقت کا بھر پور ادراک کریں گے اور اس کے مطابق اپنے ملی منصوبوں کی تشکیل کریں گے۔

وشو ہندو پر شد کے جنرل سکریٹری مسٹر اشوک سنگھل نے ۷ نومبر ۱۹۹۰ء کو نئی دہلی میں ایک تقریر انھوں نے اپنی اس تقریر میں جو باتیں کہیں ، ان میں سے ایک بات ، ٹائمس آف انڈیا (۸ نومبر ۱۹۹۰ ) کی انگریزی رپورٹنگ میں ان الفاظ میں تھی :

He said Muslims should realise politicians cannot save them. If anybody can save them, it is the Hindu. They should learn to coexist with us and we will protect them, for every Hindu is secular. مسٹر سنگھل نے ایک مناسب بات غیر مناسب الفاظ میں کہی ہے۔ اس بات کو کہنے کے لئے زیادہ صحیح الفاظ یہ ہیں کہ مسلمانوں کا مسئلہ کوئی بھی حکمران حل نہیں کرے گا۔ مسلمان اپنا مسئلہ صرف اپنی کوشش سے حل کر سکتے ہیں۔

آزادی کے بعد مسلمان غلط رہنمائی کے نتیجہ میں ، ہمیشہ حکومت اور انتظامیہ کی طرف دیکھتے وہ الیکشن کے مواقع پر پارٹیوں کو ہرا کر یا جتوا کر ان سے بڑی بڑی امیدیں باندھتے

یہ سب بلا شبہ بے فائدہ تھا، مسلمانوں کے لئے اس معاملہ میں مفید بات صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ برادرانِ وطن سے اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں، یہی ان کے لئے پہلے بھی درست طبقہ تھا اور آج بھی یہی ان کے لئے درست طریقہ ہے ۔

مسلمان اور ہند و سب ایک ہی انسانی نسل کے افراد ہیں۔ دونوں کا ایک ہی مشترک وطن ہے دونوں کا مفاد ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان کے ساتھ بھائیوں کی طرح اگر کسی معاملہ میں کوئی اختلافی بات پیدا ہو تو اس پر اسی طرح تحمل اور بردباری کا انداز اختیار کریں، جس طرح وہ اپنے گھر اور خاندان میں اس طرح کے معاملات میں ہمیشہ کرتے ہیں ۔ مسلمانوں نے اگر ایسا کیا تو اسلام کے مطابق، وہ اپنے قومی اور وطنی پڑوسی کے حقوق ادا کریں گے اور اسی کے ساتھ یقینی طور پر وہ اس امن کو بھی حاصل کر لیں گے جو انہیں اس ملک میں اپنے مستقبل کی تعمیر کے لئے درکار ہے ۔

Printed page