Al-Risala · September 1991

بے نفسی

Al-Risala, September 1991, pp. 16–14

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اگر کسی مسلمان کی موت کا وقت آجائے اور اس کو اپنے مال کے بارے میں وصیت کرنا ہے تو اس کو چاہیے کہ دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا کر دہ اپنی وصیت کرے۔ اس سلسلہ میں احکام بتاتے ہوئے فرمایا ہے کہ بعد کو گواہی دینے کے وقت اگر یہ بات علم میں آئے کہ ان دونوں گواہوں نے گواہی دینے میں کوئی حق تلفی کی ہے تو ان کی جگہ دوسرے دو شخص وراثت کے حق داروں میں سے کھڑے ہوں، جو میت سے زیادہ قریبی تعلق رکھتے ہوں۔ یہ دوسرے دونوں آدمی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی ان دونوں اولی بالشہادۃ گواہوں کی گواہی سے زیادہ برحق ہے ( المائدہ ۱۰۷)۔ اس آیت کا ایک ٹکڑا یہ ہے : مِنْ اَلَّذِیْنَ اِسْتَحَقَّ عَلَیْھِمُ الاَوْلِیَان (ان میں سے جن کا حق دبا ہے جو سب سے قریب ہوں میت کے) اس آیت کے ایک لفظ (الاولیان) کی قرات میں اَلْحسُن نے اس کو الاؤلان پڑھاہے۔ اور ابن سیرین نے اس کو الاؤلین پڑھاہے۔ اس سلسلہ میں ایک روایت یہ ہے :

عن ابی مجلز ان أبی بن کعب قرأ ابو مجلز سے روایت ہے کہ ابی بن کعب نے یہ آیت (من الذين استحق عليهم الاولیان) پڑھی (من الذین استحق عليهم الاولیان) پس عمر نے ان قال عمر عنه کذبَتْ ۔ فقال سے کہا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ انہوں نے کہا کہ تم خود زیادہ انتَ اکذب ۔ تکذّب جھوٹے ہو۔ یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ تم امیر المومنین قال : انا اشد تعظیماً کو جھوٹا کہتے ہو۔ انھوں نے کہا کہ میں تم سے زیادہ لحق اميرالمومنين منك۔ ولكن امیر المومنین کے حق کی تعظیم کرتا ہوں لیکن میں نے کذبتہ فی تصدیق کتاب اللہ، ان کو اللہ کی کتاب کی تصدیق کے معاملہ میں جھٹلایا ولم اصدق امیر المومنین ہے۔ میں نے کتاب اللہ کی تکذیب کے معاملہ میں في تکذیب کتاب اللہ ۔ فقال عمر امیر المومنین کی تصدیق نہیں کی۔ عمر نے یہ سن کر کہا کہ صدق (حياة الصحابة ۲ / ۴۷۴-۴۷۵) انھوں نے سچ کہا۔

اس واقعہ میں ایک صحابی نے دوسرے صحابی پر سخت تنقید کی جو کہ وقت کا سربراہ سلطنت

مگر ناقد صحابی کا معاملہ یہ تھا کہ سخت ترین لفظوں میں تنقید کرنے کے باوجود زیر تنقید صحابی کے شخصی احترام میں ان کے اندر کوئی کمی نہیں آئی۔ اور دوسری طرف زیر تنقید صحابی کا معاملہ یہ تھا کہ اعلیٰ منصب پر ہونے کے باوجود انہوں نے اس سخت تنقید کو برا نہیں مانا۔

یہ صفت اجتماعی زندگی اور اجتماعی اتحاد کے لیے بے حد ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس صفت کے بغیر نہ کوئی معاشرہ بہتر معاشرہ بن سکتا اور نہ اس کے اندر اتحاد کا ماحول قائم ہو سکتا مگر یہ قیمتی صفت انتہائی نادر اور انوکھی ہے۔ اور جماعت سطح پر معلوم تاریخ میں صحابہ کے علاوہ کہیں اور پائی نہیں گئی۔

اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے کے خلاف بولنا پڑتا ہے۔ یہ بولنا زندگی کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ مگر بولنے والا معاملہ کو صاحب معاملہ سے الگ کر کے نہیں دیکھ پاتا۔ لیے وہ معاملہ پر تنقید کرنے کے ساتھ صاحب معاملہ سے بیزار بھی ہو جاتا ہے۔ مگر اصحاب رسول اس اعتبار سے ایک تاریخی استثنا تھے۔ اصحاب رسول کے درمیان تنقید کا عام رواج تھا۔ مگر تنقید کرنے والا ہمیشہ "بات" پر تنقید کرتا تھا۔ وہ زیر تنقید آدمی کی شخصیت سے نہ تو متنفر ہوتا تھا اور نہ اس کے احترام میں کوئی کمی کرتا تھا۔

یہی حال زیر تنقید شخص کا بھی تھا۔ وہ سخت سے سخت تنقید کو سنتا تھا۔ مگر وہ تنقید کی ظاہری سختی کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل تنقید پر سوچنے لگتا تھا کہ وہ ناقابل قبول ہے یا قابل قبول۔ تنقید کی چوٹ بہت کڑی چوٹ ہے۔ اپنے خلاف تنقید سنتے ہی آدمی کے اندر ایک آگ سی لگ جاتی ہے، مگر صحابہ کرام اس سے بہت بلند تھے۔ صحابہ کا حال یہ تھا کہ وہ نہ صرف اپنے خلاف تنقید کو ٹھنڈے دماغ سے سنتے تھے، بلکہ ناقد کے سخت ترین الفاظ کی بھی انھیں کوئی پروا نہیں ہوتی تھی۔ اس کی وجہ صحابہ کرام کی ربانیت تھی۔ ان کے ایمان نے ان کو ایسی بلند فکری کی سطح پر پہنچا دیا تھا کہ اس کے بعد ہر چیز انھیں ہیچ دکھائی دیتی تھی۔ وہ حقیقت اعلیٰ میں اتنا زیادہ گم ہو چکے تھے کہ وہ نہ ذاتی تعریف سے خوش ہوتے تھے اور نہ ذاتی تنقید پر غمگین ۔ وہ ہر بات پر بات کی حیثیت سے غور کرتے تھے خواہ وہ ان کی پسند کی بات ہو یا ناپسندیدگی کی بات۔ وہ ہر واقعہ کو اس کی اصلیت کے اعتبار سے دیکھتے تھے نہ کہ اس اعتبار سے کہ وہ ان کے موافق ہے یا ان کے خلاف۔

Printed page