حمیت جاہلیہ نہیں
Al-Risala, September 1991, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الفتح میں اللہ کی اس خصوصی نصرت کا ذکر ہے جو اصحاب رسول کو حاصل ہوئی۔ کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ انھوں نے صراط مستقیم کو پالیا۔ وہ دشمنوں کے ہاتھ سے محفوظ ہو گئے۔ زمین پر دین خداوندی کا اظہار ہوا۔ مخالفین کے علی الرغم انھیں فتح مبین حاصل ہوئی۔ اصحاب رسول کا وہ کون سا عمل تھا جس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی اس خصوصی رحمت و نصرت کے مستحق قرار پائے، اس کا ذکر سورہ الفتح کی مختلف آیتوں میں موجود ہے۔ ایک آیت یہ ہے :
اذ جعل الذين كفروا في قلوبهم جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت الحمية حمية الجاهلية فانزل الله پیدا کی، جاہلیت کی حمیت۔ پھر اللہ نے اپنی طرف سے سكينته على رسوله وعلى المؤمنين سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں والزمهم كلمة التقوى وكانوا احق بها پر اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا، واهلها وكان الله بكل شيئ عليما اور وہ اس کے زیادہ حقدار اور اس کے اہل (الفتح ۲۶) تھے ۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
اس آیت میں اصحاب رسول کے اس رویہ کا ذکر ہے جو انھوں نے واقعہ حدیبیہ کے موقع پر اختیار اس رویہ کو یک طرفہ صبر، یا اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا کہہ سکتے ہیں۔ ۶ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تقریبا ڈیڑھ ہزار اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں پہنچ کر عمرہ ادا کریں۔ آپ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ نے اس معاملہ کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ بنالیا۔
آپ کو واپسی پر مجبور کرنے کے لیے انھوں نے مختلف قسم کی جارحانہ کارروائیاں کیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ہر موقع پر جوابی جارحیت سے بچتے رہے تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان تصادم کی نوبت نہ آئے۔ اس دوران مکہ والوں کی طرف سے مختلف وفد بات چیت کے لیے آتے رہے ۔ آخر کار یہ طے پایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان لمبی مدت کا ایک معاہدہ ہو جائے
تاکہ دونوں اپنی اپنی حد پر رہیں اور کوئی کسی کے اوپر زیادتی نہ کر سکے۔
حدیبیہ کے واقعہ کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ آخری مرحلہ میں جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو قریش مکہ کے نمائندہ کی طرف سے نہایت اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا۔ نمائندہ نے کہا کہ ہم اس کو نہیں مانتے، آپ بسمک اللہم لکھئے۔ پھر آپ نے لکھوایا کہ محمد رسول اللہ کی طرف سے۔ قریش کے نمائندہ نے اس کو بھی رد کر دیا اور کہا کہ محمد بن عبد اللہ لکھئے۔ یہ باتیں بے حد جگر خراش تھیں مگر صحابہ پر اللہ نے ”سکینت “ اتاری اور وہ ان شرطوں پر راضی ہو گئے۔ اسی طرح قریش کے نمائندہ نے معاہدہ میں یہ لکھوایا کہ مکہ کا کوئی آدمی اسلام قبول کر کے مدینہ چلا جائے تو آپ اس کو ہماری طرف لوٹانے کے پابند ہوں گے۔ اور اگر مدینہ کا کوئی آدمی ہم پر چالیں تو ہم اس کو آپ کی طرف نہیں لوٹائیں گے۔ یہ ایک طرفہ شرط توہین کی حد تک ناقابل برداشت تھی مگر اصحاب رسول نے اللہ کی خاطر اس کو بھی برداشت کر لیا۔ معاہدہ کی کتابت کے دوران مکہ کے ایک مسلمان ابو جندل وہاں آگئے۔ ان کے پاؤں میں لوہے کی بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں اور ان کا جسم زخمی ہو رہا تھا۔ قریش کے نمائندہ نے کہا کہ معاہدہ کے مطابق ابو جندل کو ہماری طرف واپس کیجئے۔ نے کہا کہ کیا میں کافروں کی طرف لوٹایا جاؤں گا تا کہ وہ مجھے فتنہ میں ڈالیں۔ یہ بڑا نازک لمحہ تھا۔ کھولتے ہوئے جذبات کو دباکر اصحاب رسول اس مطالبہ پر بھی راضی ہو گئے۔
یہ صحابہ کی شخصیت کا ایک انوکھا پہلو تھا۔ وہ مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہیں ہوئے۔ جارحیت کے باوجود انھوں نے جوابی کارروائی نہیں کی۔ عمرہ کو وقار کا مسئلہ بنائے بغیر وہ حدیبیہ سے واپسی پر راضی ہو گئے۔ انھوں نے فریق ثانی کی یک طرفہ شرطوں کو مان کر جنگ کی حالت کو امن کی حالت میں بدل دیا۔ واقعہ حدیبیہ کے دوران فریق ثانی نے ناقابل برداشت حالات پیدا کیے۔ مگر اصحاب رسول ان کو برداشت کرتے رہے۔ مخالفین کی حمیت جاہلیہ کا جواب انھوں نے اسلامی سکینت کی صورت میں اصحاب رسول کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کو پسند آیا۔ اس نے اپنی اعلیٰ تدبیر سے ایسے راستے کھولے کہ اصحاب رسول کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ مکہ کو فتح کر لیں۔ یہود کی جڑیں کاٹ دیں، اور پورے عرب میں اسلام کو ایک غالب دین کی حیثیت سے قائم کر دیں۔