وقا فَا عند کتابِ الله
Al-Risala, September 1991, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک تعلیم وہ ہے جس کو اعراض کہا جاتا ہے۔ یعنی نادان لوگوں کی اشتعال انگیز باتوں پر مشتعل نہ ہونا، حتی کہ اگر اس قسم کی بات کو سن کر غصہ کی آگ بھڑک اٹھے تو اس کو شیطانی وسوسہ سمجھ کر اس سے اور ہر حال میں نظر انداز کرنے کے رویہ پر قائم رہنا۔ اس سلسلہ میں قرآن کا حکم یہ ہے : خذ العفو وأمر بالعرف واع درگزر کرو اور نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے اعراض واما ينزغنك کرو۔ اور اگر تم کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے من الشيطان نزغ فاستعذ بالله آئے تو اللہ کی پناہ چاہو۔ بے شک وہ سننے والا انہ سميع عليم - ان الذين اتقوا جاننے والا ہے۔ جو لوگ اللہ کا ڈر رکھتے ہیں، جب اذا مسهم طائف من الشيطان ان کو شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال چھو جاتا ہے تذكروا فاذا هم مبصرون تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں۔ اور پھر اسی وقت ان واخوانهم يمدونهم في الغي کو سوجھ آ جاتی ہے۔ اور جو لوگ شیطان کے بھائی ثم لا يقصرون ( الاعراف ۲۰۲ ۔ ۱۹۹) ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں، پھر وہ کمی نہیں کرتے۔
صحیح البخاری، کتاب التفسير (سورة الاعراف) میں باب خذ العفو وأمر بالعرف واعرض عن الجاهلين کے تحت ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ یہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ کا وہ واقعہ یہ ہے :
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس نے ان سے بیان کیا۔ عُیینہ بن حصن بن حذیفہ مدینہ آئے اور اپنے بھتیجے الحر بن قیس کے مکان پر ٹھہرے۔ الحر بن قیس ان لوگوں میں سے تھے جن کو عمر اپنے قریب جگہ دیتے تھے۔ وہ ان کے مشیروں میں سے تھے۔ عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا کہ اے میرے بھتیجے، تم کو امیر المومنین کے یہاں قربت حاصل ہے۔ میری ان سے ملاقات کرا دو۔ اس کے بعد الحر نے عمر سے ملاقات کی اجازت مانگی۔ انھوں نے اجازت دے دی۔
عیینہ جب عمر رض کے یہاں پہنچے تو انھوں نے کہا کہ اے خطاب کے بیٹے، خدا کی قسم تم ہم کو نہ کچھ
مال دیتے ہو اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہو۔ عمر یہ سن کر غصہ میں آگئے اور ان پر اقدام کرنا اس وقت الحر بن قیس نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین، اللہ تعالی نے قرآن میں اپنے نبی کو یہ حکم دیا ہے کہ تم لوگوں کو معاف کر دو اور معروف کا حکم دو اور جاہلوں سے اعراض کرو (الاعراف 199) اور یہ آدمی بلاشبہ جاہلوں میں سے ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ خدا کی قسم اس کے بعد عمر نے ذرا بھی تجاوز نہیں کیا، جب کہ انھوں نے قرآن کی یہ آیت ان کے سامنے پڑھ دی۔ اور عمر خدا کی کتاب پر بہت زیادہ رک جانے والے تھے (والله ما جاوزها عمر حين تلاها علیه وكان وقّافاً عند كتاب الله)
یہ مثال اصحاب رسول کی ایک اہم صفت کو بتاتی ہے۔ وہ یہ کہ اصحابِ رسول اللہ کی کتاب کے سامنے فوراً ٹھہر جانے والے (وقّافاً عند کتاب الله) تھے۔ خدا کا حکم سامنے آنے کے بعد وہ اپنے ہاتھ اور اپنے پاؤں اور اپنی زبان کو بلاتأخیر روک لینے والے تھے۔ ایک دلیل حق ان کے چلتے ہوئے قدموں میں بیڑی ڈال دینے کے لیے کافی تھی، خواہ اس کے پیچھے کوئی محسوس اور مادی طاقت موجود نہ ہو۔
یہ ایک انتہائی نادر صفت ہے جس کا مظاہرہ صحابہ کرام کے ذریعہ دنیا کے سامنے ہوا۔ آدمی کے اندر غصہ بھڑک اٹھے۔ جب اس کے لیے "کا" مسئلہ پیدا ہو جائے تو اس وقت وہ کوئی دلیل سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ صحابہ کرام وہ لوگ تھے جن کو سخت ہیجانی حالت میں بھی قرآن کی ایک آیت خاموش کر دینے کے لیے کافی ہوتی تھی۔
موجودہ دنیا میں خدا کا حکم لفظ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مگر ایک لفظی حکم سن کر ان کا یہ حال ہوتا تھا گویا کہ خود خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا ہو۔ جس آدمی سے اختلاف پیدا ہوا ہے اس کے ساتھ عدل کا رویہ برتنا، جس آدمی نے انا پر چوٹ لگائی ہے اس کے مقابلہ میں صبر کر لینا، جس آدمی نے اپنے بے ڈھنگے پن کی وجہ سے غصہ بھڑکا دیا ہے اس کے خلاف اپنے غصہ کو برداشت کر لینا، جس آدمی نے تحقیر و تذلیل کا انداز اختیار کیا ہے اس سے انتقام نہ لینا، یہ سب اعلیٰ ترین انسانی اوصاف ہیں۔ صحابہ کرام وہ مثالی لوگ ہیں جو ان اوصاف میں کمال کی حد تک پورے اترے۔