سنتِ خداوندی
Al-Risala, September 1991, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب پر نظر ڈالی تو وہ تین سو سے کچھ زیادہ تھے ۔ پھر آپ نے مشرکوں کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار سے زیادہ تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر سجدہ میں گر پڑے ۔ اور آپ کے اوپر آپ کی چادر تھی ۔ آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے :
اللهم أنجز لي ما وعدتني اللهم ان اے اللہ ، اس وعدہ کو پورا فرما جو تو نے مجھ سے تهلك هذه العصابة من اهل الاسلام کیا ہے ۔ اے اللہ ، اگر تو اہل اسلام کے اس گروہ فلا تعبد بعد في الارض ابدا کو ہلاک کر دے تو اس کے بعد زمین پر کبھی تیری (البدایہ والنہایہ ۲/ ۲۷۵) عبادت نہ ہوگی ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جیش اسامہ کی شام کی طرف روانگی اسلامی تاریخ کا نہایت اہم واقعہ ہے۔ اس وقت عرب میں بغاوت پھیل گئی تھی۔ مگر خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کے اس مومنانہ اقدام نے از سرِ نو اسلام کا دبدبہ قائم کر دیا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا :
والله الذي لا اله الا هو، لولا ان اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ أبا بكر استخلف ما عبد الله (رسول اللہ کے بعد) ابو بکر کو خلیفہ نہ بنایا جاتا تو اللہ (البدایہ والنہایہ ۶/ کی عبادت نہ ہوتی ۔
یہ دونوں قول بظاہر بہت عجیب ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ نے جب یہ کہا تو سننے والے بولے کہ اے ابو ہریرہ چپ رہو (مہ یا اباھریرہ) مگر یہ الفاظ عین حقیقت واقعہ کا اظہار تھے ۔ اصل یہ ہے کہ اس قول کا تعلق اللہ کی سنت سے ہے نہ کہ اللہ کی قدرت سے ۔ اللہ کے لیے بلا شبہ یہ ممکن ہے کہ وہ ہواؤں کے ذریعہ تمام مشرکوں کو ہلاک کر دے اور ایک لفظ کن کے ذریعہ تمام انسانوں کو اپنا عبادت گزار بنادے۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں خود اللہ کے اپنے فیصلہ کی بنا پر ایسا نہیں ہوتا ۔ یہاں سارا کام اسباب و علل کے پردہ میں انجام دیا جاتا ہے ۔
کا مطلب یہ ہے کہ قانون الہی کے تحت ایسا نہیں ہو گا، نہ یہ کہ باعتبار امکان ایسا نہیں ہو سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے دعا کے وقت جو الفاظ نکلے، یا حضرت ابو ہریرہ نے جو بات کہی، ان سے صحابہ کے گروہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ صحابہ عام قسم کے انسان نہ تھے۔ یہ ایک منفرد ٹیم تھی جو عرب کے صحرا میں خصوصی اہتمام کے ذریعہ تیار کی گئی تھی۔ اگر یہ انسان ضائع ہو جاتے تو دوبارہ تاریخ وہیں واپس چلی جاتی جہاں وہ صحابہ کے دور سے پہلے تھی۔ قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ دنیا سے فتنہ ختم ہو، اور دین خدا وندی کا عالمی یعنی دنیا سے شرک کے غلبہ کا دور ختم ہو جائے، اور توحید کے غلبہ کا دور قائم ہو جائے۔ یہ تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ تھا۔ کیونکہ اس کو مکمل طور پر اسباب کے دائرہ میں انجام دینا تھا۔ گویا ایک خدائی واقعہ کو انسانی سطح پر ظہور میں لانا تھا۔
اس کے لیے ایسے حقیقت شناس انسان درکار تھے جو ایک ہم عصر پیغمبر کو پہچان کر ہمہ تن اس کے ساتھی بن جائیں۔ اس کے لیے ایسے پختہ کردار لوگ مطلوب تھے جو ایک بار عہد کرنے کے بعد پھر کبھی اس سے نہ پھریں، خواہ اس راہ میں ان کا سب کچھ لٹ جائے۔ اس کے لیے ایسا با مقصد گروہ درکار تھا جو مقصد حق کے سوا ہر دوسری چیز کو ثانوی حیثیت دے دے۔ اس کے لیے ایسے بہادر انسانوں کی ضرورت تھی جو چٹانوں سے ٹکرا جائیں اور اس وقت تک نہ رکیں جب تک اپنے مشن کو مکمل نہ کر لیں۔ اس کے لیے ایسے اعلیٰ ظرف افراد درکار تھے جو اختلاف کے باوجود متحد رہیں اور شکایت کے باوجود اپنا تعاون ختم نہ کریں۔
اصحاب رسول اسی قسم کے نادر انسان تھے۔ وہ خاص اسی مقصد کے لیے ڈھائی ہزار سالہ تربیتی کورس کے تحت بنائے گئے تھے۔ اگر ان کے ذریعہ مذکورہ مشن اپنی تکمیل تک نہ پہنچتا تو دوبارہ ایک اور ابراہیمی شخصیت کی ضرورت ہوتی اور تاریخ کو پھر ڈھائی ہزار سال تک انتظار کرنا پڑتا تا کہ مطلوبہ نوعیت کی ایک ٹیم بنے اور اس کو استعمال کر کے خدا کے دین کا عالمی اظہار کیا جائے۔ اصحاب رسول انسانی تاریخ کے وہ منتخب افراد تھے جن کی ذات پر انسانی ارادہ اور خدائی منصوبہ دونوں ایک ہو گیا تھا۔ ایسے افراد تاریخ کے ہزاروں سال کے عمل کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اپنے مقصد کی تکمیل سے پہلے ختم ہو جائیں تو تاریخ کا سفر رک جائے گا۔