میں کو حذف کرنا
Al-Risala, September 1991, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
غزوہ بدر ۲ھ میں پیش آیا۔ اچانک صورت حال کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین مکہ کے مقابلہ کے لیے نکلنا پڑا۔ یہ بڑا نازک لمحہ تھا۔ کیونکہ اس مقابلہ کے لیے مہاجرین کی تعداد ناکافی تھی، انصار کا معاملہ یہ تھا کہ اپنی بیعت کی روسے وہ صرف مدینہ کے اندر آپ کی حمایت کے پابند تھے۔ مدینہ سے باہر نکل کر دشمنوں سے مقابلہ کرنا ان کے واجبات بیعت میں شامل نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ اے لوگو، مجھے مشورہ دو۔ کے جواب میں مہاجرین میں سے کچھ لوگوں نے اٹھ کر آپ کو اپنی پوری حمایت کا یقین دلایا۔ نے کئی بار کہا کہ اے لوگو مجھے مشورہ دو، اور ہر بار مہاجرین اٹھ کر جواب دیتے رہے۔ آخر انصار کو احساس ہوا کہ غالباً آپ ہمارا خیال جاننا چاہتے ہیں۔ یہ احساس ہوتے ہی فوراً ان کے سردار اٹھے اور کہا کہ اے خدا کے رسول، شاید آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے۔ نے فرمایا کہ ہاں۔ انھوں نے کہا کہ اب ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ ہم آپ کو اکیلا چھوڑ دیں۔ اے خدا کے رسول، آپ جو چاہتے ہیں، اس کو کر گزرتے۔ ہم سب آپ کے خدا کی قسم اگر آپ یہاں سے روانہ ہوں اور چلتے چلتے سمندر میں داخل ہو جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ سمندر میں داخل ہو جائیں گے۔ ہم میں سے کوئی شخص پیچھے نہ رہے گا (البدایہ والنہایہ ۳/ ۶۳ - ۶۴)
اسی طرح صلح حدیبیہ (۶ھ) کے بعد جب امن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ اطراف عرب کے حاکموں اور بادشاہوں کو دعوتی خطوط روانہ کریں۔ آپ نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے کچھ لوگوں کو دعوتی پیغام کے ساتھ عجمی بادشاہوں کی طرف بھیجوں۔ لوگ میرے ساتھ اختلاف نہ کرو جس طرح بنو اسرائیل نے عیسیٰ بن مریم کے ساتھ اختلاف کیا۔ کہا کہ اے خدا کے رسول، ہم آپ سے کسی معاملہ میں کبھی اختلاف نہ کریں گے۔ آپ ہم کو حکم دیجئے اور ہم کو جہاں چاہے وہاں بھیجیے (البدایہ والنہایہ ۲/ ۲۶۸)
یہ واقعات اصحاب رسول کی ایک نہایت اہم خصوصیت کو بتا رہے ہیں۔ یہ خصوصیت ہے—
میں“ کو حذف کر کے کسی شخص کا ساتھ دینا۔
ساری تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ لوگ ابتدائی جذبہ کے تحت کسی کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں مگر جب ناموافق باتیں پیش آتی ہیں تو وہ فوراً اختلاف کر کے الگ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً اصحاب رسول (انصار) بدر کی لڑائی کے موقع پر کہہ سکتے تھے کہ ہم نے داخلی دفاع کا عہد کیا ہے، ہم نے خارجی مقابلہ کا آپ سے عہد نہیں کیا (البدایہ والنہایہ ۲۶۲/۳) مگر انھوں نے اس پہلو کو نظر انداز کر کے آپ کا ساتھ دیا۔ جب کہ یہ ساتھ دینا بظاہر موت کے غار میں کودنے کے ہم معنی تھا۔ کیونکہ دشمن کے دباس ایک ہزار افراد کی طاقتور اور مسلح فوج تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ۳۱۳ آدمیوں کی نسبتاً کمزور جماعت۔ اسی طرح حکمرانوں کے نام دعوتی وفود بھیجنے کے سلسلہ میں وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ ابھی تو عرب میں بھی اسلام پوری طرح نہیں پھیلا۔ ابھی داخلی استحکام کے اعتبار سے ہمارے سامنے بے شمار مسائل ہیں۔ حالت میں بیرون ملک وفود بھیجنے کا کیا موقع ہے ۔
مگر اصحاب رسول نے اس قسم کے ہر خیال کو اپنے ذہن سے نکال دیا۔ انھوں نے عذر کو عذر انھوں نے ”میں “ کو حذف کر کے آپ کا ساتھ دیا۔ انھوں نے اجتماعی مفاد کے لیے انفرادی تقاضوں کو نظر انداز کر دیا۔ اختلاف اور شکایت کے ہر معاملہ کو اللہ کے حوالے کر کے وہ اس پر راضی ہو گئے کہ وہ رسول خدا کی قیادت کے تحت اسلام کی خدمت کرتے رہیں، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائیں۔
ایک مفکر نے کہا کہ اگر تمہارے پاس بہترین عذر ہے تب بھی تم اس کو استعمال نہ کرو : If you have a good excuse don't use it. مغربی مفکر نے یہ بات بطور آئیڈیل کہی تھی۔ مگر اس آئیڈیل کو پہلی بار جن لوگوں نے عملی واقعہ بنایا وہ اصحاب رسول تھے۔ انھوں نے اختلاف کو نظر انداز کر کے اتحاد کیا۔ انھوں نے شکایتوں کو بھلا کر انھوں نے اپنی ذات کو حذف کر کے اپنے آپ کو اجتماعیت سے وابستہ کیا۔ وہ اپنے جذبات کو پا کر مقصد کی تکمیل میں لگے رہے۔ انھوں نے پانے کی امید کے بغیر دیا۔ انھوں نے کریڈٹ لینے کے خیال کو اپنے ذہن سے نکال کر قربانیاں دیں۔ عام لوگ جس حد پر رک جاتے ہیں ان حدوں پر رکے بغیر وہ آگے بڑھ گئے۔