Al-Risala · September 1991

اصحاب رسول

Al-Risala, September 1991, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

خالد بن ولید اور عبد الرحمن بن عوف کے درمیان کسی بات پر اختلاف پیدا ہوا۔ اس موقع پر حضرت خالد کی زبان سے حضرت عبد الرحمن بن عوف کے لیے کچھ سخت کلمات نکل گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا :

لا تَسُبُّوا أصحابي ، لا تَسُبُّوا أصحابي میرے اصحاب کو برا نہ کہو، میرے اصحاب کو برا فوالذي نفسي بيده لو أنَّ أحدكم نہ کہو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان أنفَقَ مثلَ أُحُدٍ ذَهَباً ما بلغ ہے، اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر مُدَّ أحدهم ولا نصيفه سونا بھی خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا اس (مسلم ، باب تحریم سب الصحابه) کے نصف کے برابر بھی نہیں پہنچے گا۔

صحابہ کرام کی وہ کیا خاص صفت تھی جس کی بنا پر انہیں یہ امتیازی مقام ملا۔ قرآن کے لفظوں میں وہ تھی____ مشکل گھڑیوں میں اتباع کرنا (التوبہ ، ۱۱۷) فتح کا دور آنے سے پہلے قربانیاں پیش کرنا

آج پیغمبر اسلام کی رسالت ایک ثابت شدہ رسالت ہے۔ آپ کا نام بلند ترین عظمت کا نشان بن چکا ہے۔ آج آپ کے نام پر اٹھنے والے کو ہر قسم کی عزت اور ہر قسم کے مادی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ ایسا آدمی فوراً قوم کے درمیان قائد کا مقام پا لیتا ہے۔ مگر جس وقت صحابہ کرام نے آپ کا ساتھ دیا، اس وقت یہ تمام امکانات ابھی مستقبل کے پردہ میں چھپے ہوئے وہ ابھی واقعہ بن کر لوگوں کے سامنے نہیں آئے تھے۔

صحابہ کرام کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے حال کے پیغمبر کو اس کے مستقبل کے عظمتوں کے ساتھ دیکھا۔ انھوں نے بظاہر ایک عام انسان کو اس کے پیغمبرانہ جوہر کے ساتھ دریافت کیا۔ انھوں نے اس وقت پیغمبر کا ساتھ دیا جب کہ پیغمبر کا ساتھ دینے کا مطلب پوری قوم میں نکو بن جانا تھا۔ جب پیغمبر کی حمایت کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ آدمی اپنی قوم اور اپنی برادری کی حمایت سے محروم ہو جائے۔ صحابہ کرام کا ایمان ایک دریافت تھا۔ آج کے مسلمانوں کا ایمان ایک قومی تقلید ہے۔

دونوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا آسمان اور زمین میں۔

لبید بن ربیعہ (م ۴۱ھ) عرب کے بڑے شاعروں میں سے تھے۔ وہ اصحابِ معلقات میں شمار کیے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے پوچھا کہ آپ نے شاعری کیوں چھوڑ دی۔ انھوں نے جواب دیا : ابعد القرآن (کیا قرآن کے بعد بھی)

حضرت لبید کا یہ قول آج بظاہر کوئی غیرمعمولی قول نظر نہیں آتا۔ کیونکہ آج لوگوں کے ذہنوں پر قرآن کی عظمت اتنی زیادہ چھائی ہوئی ہے کہ یہ بالکل ایک فطری بات معلوم ہوتی ہے کہ کوئی شخص قرآن کے اعلیٰ ادب سے متاثر ہو کر شاعری کو چھوڑ دے۔ مگر اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جب کہ حضرت لبید نے ایسا کیا، اس وقت یہ ایک انتہائی غیرمعمولی بات تھی۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں قرآن کی حیثیت ایک عام کتاب کی سی تھی۔ اس وقت وہ لوگوں کے درمیان ایک نزاعی کتاب بنی ہوئی تھی، اس وقت تک قرآن کی پشت پر دہ واققاتی عظمتیں اور تاریخی صداقتیں جمع نہیں ہوئی تھیں جو آج اس کی پشت پر جمع ہو چکی ہیں۔ صحابہ کرام وہ لوگ تھے جنھوں نے دورِ غفلت سے پہلے قرآن کو پہچانا۔ جنھوں نے اس وقت اپنے آپ کو اسلام کے لیے وقف کیا جب کہ اسلام ہر قسم کے مادی مفادات سے خالی تھا۔ جو اس وقت پیغمبر کے حامی بنے جب کہ پیغمبر کے نام پر کسی قسم کی قیادت نہیں ملتی تھی۔ محرومی کی قیمت پر دینِ خداوندی کو اپنایا اور بے قدر ہو کر اس کی کامل قدردانی کی۔ ”بے اسلام“ میں اسلام کی تصویر دیکھی۔

اصحابِ رسول کا امتیازی مقام ان کے امتیازی عمل کی بنا پر ہے۔ ان کا یہ امتیازی عمل، ایک لفظ میں، یہ تھا کہ انھوں نے ساتھ نہ دینے والے حالات میں ساتھ دیا۔ اصحابِ رسول نے بے اعترافی کے حالات میں اعتراف کیا۔ انھوں نے ناقدری کے حالات میں قدردانی کی۔ انھوں نے التباس کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو پہچانا۔ انھوں نے بے عظمت چیز کو عظمت کے روپ میں دیکھا۔ انھوں نے وہاں بینا ہونے کا ثبوت دیا جہاں لوگ اندھے بنے ہوئے انھوں نے وہاں سچائی کی آواز سنی جہاں کان والوں کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔

Printed page