نہیں میں ہے کو دیکھنا
Al-Risala, September 1991, pp. 28–31
By Maulana Wahiduddin Khan
خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ۲۱ ھ میں ایران فتح ہوا۔ اس وقت ایران کا بادشاہ یزدگرد اور اس کا سپہ سالار رستم تھا۔ سعد بن ابی وقاص کی قیادت میں جو مسلم لشکر ایران میں داخل ہوا، اس کی مجموعی تعداد ۲۰ ہزار سے کچھ زیادہ تھی، جبکہ رستم کی فوج کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تھی۔ باوجود اہل اسلام کی فتوحات کی خبریں سن کر ایرانی حکمراں خائف تھے۔ انھوں نے سعد بن ابی وقاص کو پیغام بھیجا کہ بات چیت کے لیے اپنا سفیر روانہ کریں۔
اس سلسلہ میں صحابہ کرام کے کئی وفد مدائن گئے اور رستم اور یز دگرد سے بات کی۔ ان لوگوں نے انتہائی بے خوفی کا مظاہرہ کیا۔ مثلاً ربعی بن عامر ایرانی دربار میں داخل ہوئے تو وہ گھوڑے پر بیٹھے ہوئے تخت تک چلے گئے ۔ انھوں نے اپنا نیزہ قالین میں گاڑ کر اس سے اپنے گھوڑے کو باندھ دیا۔ ایرانی حکمرانوں سے نہایت بے باکی کے ساتھ گفتگو کی جس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ آخری مرحلہ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ ایرانی شہنشاہ یزدگرد ان کی باتیں سن کر بگڑ گیا۔ اس نے غصہ ہو کر مسلم وفد سے کہا کہ اگر یہ دستور نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کیے جائیں تو میں تم لوگوں کو قتل کر دیتا۔ لیے میرے پاس کچھ نہیں۔ تم اپنے سردار (سعد بن ابی وقاص) کے پاس جاؤ اور ان کو بتا دو کہ میں رستم کو ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ تمہاری طرف بھیج رہا ہوں جو تم لوگوں کو قادسیہ کی خندق میں دفن کر دے گا۔ پھر یزدگرد نے پوچھا کہ تمہارے وفد کا سب سے معزز شخص کون ہے، تاکہ میں اس کے سر پر مٹی کا ٹوکراارکھ کر اس کو یہاں سے واپس کروں۔ لوگ اس سوال پر چپ رہے۔ آخر وفد کے ایک عام رکن عاصم بن عمر کو کھڑے ہوئے ۔ انھوں نے کہا کہ تم جس کو چاہتے ہو وہ شخص میں ہوں۔ تم مٹی میرے سر پر رکھ یزدگرد نے لوگوں سے پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ ہاں وہ ہمارے معزز شخص ہیں۔
اس کے بعد یزدگرد نے مٹی سے بھرا ہوا ایک ٹوکرامنگایا اور اس کو ان کے سر پر رکھ دیا۔ دیا کہ ان لوگوں کو یہاں سے نکال دیا جائے ۔ عاصم بن عمر مٹی کا ٹوکر لیے ہوئے محل کے باہر آئے۔ انھوں نے اپنی سواری پر رکھا اور تیزی سے روانہ ہو کر وہاں پہنچ گئے جہاں سعد بن ابی وقاص ٹھہرے ہوئے انھوں نے خیمہ میں داخل ہو کر مٹی کا ٹوکر اسردار کے سامنے رکھ دیا اور ان کو واقعہ بتایا۔ راوی کہتے ہیں:
فقال : أبشروا فقد والله اعطانا الله سعد بن ابی وقاص نے کہا کہ تم کو خوش خبری ہو۔ اقاليد ملكهم وتفاء لوا بذلك قسم، اللہ نے ہمیں ان کے اقتدار کی کنجیاں دیدیں۔ ثم لم يزل امر الصحابة اور مٹی سے انھوں نے فال لیا کہ ان کا ملک ہمیں يزداد في كل يوم علواً وشرفاً حاصل ہوگا۔ اس کے بعد صحابہ ہر روز بلندی اور شرف ورفعة وينحط امر الفرس سفلاً اور رفعت میں بڑھتے رہے اور ایرانی پستی اور وذلاو وهنا ذلت اور ناکامی میں گرتے چلے گئے۔
مسلم وفد کو محل سے نکال دینے کے بعد یزدگرد نے یہ واقعہ رستم کو بتایا۔ اور مٹی کا ٹوکرا سر پر رکھنے کے معاملہ کو ان کی حماقت قرار دیا۔ رستم نے کہا کہ نہیں، وہ آدمی احمق نہیں تھا، خدا کی قسم وہ لوگ تو ہمارے ملک کی کنجیاں اٹھا لے گئے (واللہ ذهبوا بمفاتیح ارضنا) البدایہ والنہایہ، ۴/ ۲۴- ۴۲ سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے حالات میں گھِر کر سوچنا، دوسرا ہے حالات سے اوپر اٹھ ایک ہے نفرت اور محبت جیسے جذبات کے تحت رائے قائم کرنا، دوسرا ہے نفرت اور محبت۔ جیسے جذبات سے بلند ہو کر رائے قائم کرنا۔ عام طور پر لوگ حالات سے متاثر ہو کر سوچتے ہیں، وہ فوری جذبات کے زیر اثر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ مگر صحابہ کرام ان چیزوں سے اوپر تھے ۔ حالات اور جذباتی محرکات سے اوپر اٹھ کر خود اپنے فیصلہ کے تحت یہ طے کرتے تھے کہ انھیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔
صحابہ کی اس صفت نے ان کو بے پناہ حد تک طاقت ور بنا دیا تھا۔ انہیں مٹی دی جاتی اور وہ اس کو فتح کے تاج کی طرح قبول کر لیتے تھے۔ جس واقعہ کو لوگ بے عزتی کے ہم معنی سمجھ لیتے ہیں، اس سے وہ عزت کا مفہوم نکال لیتے تھے۔ جو تجربہ لوگوں کو جھنجلاہٹ میں مبتلا کر دیتا ہے، اس سے وہ اپنے لیے یقین کی غذا حاصل کر لیتے تھے۔
صحابہ انسانی تاریخ کے وہ انوکھے افراد تھے جو عُسر میں یُسر کا راز پا لیتے تھے۔ جو ناکامی سے کامیابی کو نچوڑتے تھے۔ جو شکست کے واقعہ کو فتح کے واقعہ میں تبدیل کر دیتے تھے۔ جو مایوسی کی تاریکی میں امید کی روشنی دیکھ لیتے تھے۔ رکھنے والا ان کے سر پر مٹی کا ٹوکرا رکھتا تھا، اور وہ سمجھتے کہ اس نے خود ہی اپنا ملک ہمارے حوالے کر دیا ہے۔
۱۷ھ کے آخر میں شام اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں طاعون کی وبا پھیلی ۔ ۱۸ھ میں یہ وبا ایت شدید ہوگئی۔ اس وقت شام کی مسلم فوجوں کے سپہ سالار ابو عبیدہ بن الجراح نہ تھے۔ پالیسی یہ تھی کہ مسلمان جہاں ہیں وہیں ٹھہرے رہیں۔ حضرت ابو عبیدہ اس مرض میں مبتلا ہوئے اور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا ۔
ان کے بعد معاذ بن جبل اس علاقہ کی مسلم فوجوں کے سپہ سالار مقرر ہوئے۔ ان کی پالیسی بھی وہی رہی جو حضرت ابو عبیدہ کی پالیسی تھی۔ حضرت معاذ بن جبل اس مرض میں مبتلا ہوئے اور ان کا بھی اسی مرض میں انتقال ہو گیا۔
اس کے بعد عمروبن العاص اس علاقہ کی مسلم افواج کے سپہ سالار مقرر ہوئے۔ اپنی پالیسی بدلی۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنی موجودہ جگہ کو چھوڑ دیں۔ مورخ ابن کثیر لکھتے ہیں : پہ، پچ، چ، پ، چ، ب، ر، ؤ، ط، ے، م، ب، م، پ، گ فلما مات استخلف على الناس عمرو بن العاص فقام فيهم خطيبا ايها الناس، إن هذا الوجع اذا وقع فانما يشتعل اشتعال النار فتحصنوا منه فى الجبال۔
پھر جب معاذ بن جبل کی وفات ہو گئی تو عمروبن العاص لوگوں کے اوپر سردار مقرر ہوئے۔ نے کھڑے ہو کر لوگوں کے درمیان تقریر کی۔ نے کہا کہ اے لوگو، یہ بیماری جب آتی ہے تو وہ آگ کی طرح بھڑک اٹھتی ہے۔ پس تم لوگ پہاڑوں فقال ابو وائل الهذلى كذبت والله ـ لقد صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم وانت شر من حماري هذا فقال والله ما ارد عليك ما تقول میں اپنے آپ کو اس سے محفوظ کر لو۔ یہ سن کر ابو وائل هذلی نے کہا کہ خدا کی قسم تم نے جھوٹ کہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے۔ اور تم میرے اس گدھے سے بھی زیادہ برے ہو عمرو بن العاص نے کہا کہ خدا کی قسم تم جو کہہ رہے ہو اس کا میں کوئی جواب نہیں دوں گا۔
( البدایۃ والنہایہ، ۷۹/۷) ، ۷ / یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان کتنی سخت تنقیدوں کا رواج تھا۔
یہاں اظہارِ رائے پر کوئی پابندی نہ تھی۔ لوگ نہ صرف آپس میں ایک دوسرے پر تنقید کرتے تھے بلکہ حاکموں اور سرداروں کے اوپر بھی آزادانہ تنقید کی جاسکتی تھی۔ اور نہ حاکم اس کو برا مانتا تھا اور نہ
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کتنے زیادہ بڑے دل والے لوگ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو اتنی زیادہ بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ کیونکہ اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ جتنا بڑا دل، اتنی ہی بڑی کامیابی۔
اس دنیا میں خود تخلیقی فطرت کے تحت ایسا ہے کہ لوگوں کی سوچ الگ الگ ہوتی ہے۔ جتنا زیادہ باصلاحیت ہو اتنا ہی زیادہ وہ منفرد انداز سے سوچتا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی طاقتور ٹیم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے افراد میں تنقید کو برداشت کرنے کا مادہ ہو۔ خاص طور پر سربراہ کو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ سخت ترین تنقید کو ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سنے۔ وہ اختلاف اور اتفاق سے اوپر اٹھ کر لوگوں کے ساتھ معاملہ کرے۔
جو لوگ اپنے اندر یہ صفت رکھتے ہوں، وہی اپنے گرد اعلیٰ انسانوں کی ٹیم جمع کر سکتے ہیں اور ان کو ساتھ لے کر کوئی بڑا کام انجام دے سکتے ہیں۔ جن لوگوں کے اندر یہ صفت نہ ہو ان کے گرد صرف سطحی اور خود غرض اور منافق قسم کے لوگ جمع ہوں گے، اور سطحی اور خود غرض اور منافق قسم کے لوگوں کی جماعت اس دنیا میں کوئی بڑا کام انجام نہیں دے سکتی۔
اصحاب رسول وہ بلند نظر اور اعلیٰ فطرت انسان تھے جن کو نہ تعریف خوش کرتی تھی اور نہ تنقید کو سن کر وہ برہم ہوتے تھے۔ خدا کو انھوں نے ایسی عظیم ترین حقیقت کے طور پر پایا تھا کہ اس کے بعد ان کے لیے ہر دوسری چیز چھوٹی ہو گئی تھی۔ وہ برتر خدا میں جینے والے لوگ تھے۔ اس لیے تنقید واختلاف جیسی چیزیں ان کے ذہنی سکون کو برہم نہیں کرتی تھیں۔
اصحاب رسول کا ایک ایک شخص ہیرو تھا۔ مگر ان کی یہی خصوصیت تھی جس کی بنا پر وہ سب مل کر ایک مستحکم دیوار بن گئے۔ ان کے ساتھ ہر قسم کی ناخوش گوار باتیں پیش آئیں، مگر وہ ان کے اتحاد کو توڑ وہ ان کے استحکام میں رخنہ ڈالنے والی ثابت نہیں ہوئیں۔ اس قسم کی تمام خرابیاں اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، اور اختلاف کو پہلے ہی وہ اپنے لیے ایک ناقابلِ لحاظ چیز بنا چکے تھے۔