بے لاگ انصاف
Al-Risala, September 1991, pp. 32–23
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں ذکر کیا گیا ہے۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے :
علی بن ابی طالب جب خلیفہ تھے ، ایک روز وہ بازار کی طرف نکلے ۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک نصرانی وہاں ایک زرہ بیچ رہا ہے ۔ حضرت علی نے پہچان لیا کہ یہ ان کی وہی زرہ ہے جو اس سے پہلے کھو گئی تھی ۔ انھوں نے نصرانی سے کہا کہ یہ زرہ میری ہے ۔ نصرانی نے انکار کیا۔ نے کہا کہ پھر مسلمانوں کے قاضی کے پاس چلو ، وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس وقت کوفہ میں مسلمانوں کے قاضی شریح بن الحارث تھے ۔ وہ ۷۷ ہجری تک اس عہدہ پر چنانچہ دونوں وہاں گئے۔ جب قاضی شریح نے امیر المؤمنین کو دیکھا تو وہ اپنے مقام سے اٹھ گئے اور حضرت علی کو اپنے مقام پر بٹھایا۔ اور قاضی شریح خود ان کے سامنے نصرانی کے پہلو میں بیٹھ گئے۔
حضرت علی نے کہا کہ اے شریح ، میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کرو ۔ شریح نے کہا کہ اے امیر المؤمنین ، آپ کیا کہتے ہیں۔ حضرت علی نے کہا کہ یہ میری زرہ ہے۔ کچھ دن پہلے وہ مجھ سے کھو گئی تھی ۔ پھر قاضی شریح نے نصرانی سے کہا کہ تم کیا کہتے ہو ۔ نصرانی نے کہا کہ امیر المؤمنین جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ یہ زرہ میری زرہ ہے۔
قاضی شریح نے حضرت علی سے کہا کہ کیا آپ کے پاس کوئی دلیل (بینہ) ہے۔ کیونکہ دلیل اور شہادت کے بغیر آپ زرہ کو اس کے ہاتھ سے نہیں لے سکتے ۔ حضرت علی نے کہا کہ شریح نے سچ کہا ۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی طرف سے دو گواہ پیش کیے ۔ ایک اپنے لڑکے حسن کو ، اور دوسرے اپنے غلام قنبر کو ۔ شریح نے کہا کہ حسن کے علاوہ کوئی اور گواہ لائیے۔ حضرت علی نے کہا کہ کیا تم حسن کی شہادت کو رد کرتے کیا تم کو یہ حدیث نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
قاضی شریح نے کہا کہ قنبر کی گواہی میں قبول کرتا ہوں مگر حسن کی گواہی میں قبول نہیں کر سکتا۔
کیونکہ خود آپ سے میں نے یہ سنا ہے کہ بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں معتبر نہیں۔ اس کے بعد حضرت علی نے قاضی شریح کے فیصلہ کو قبول کر لیا۔
اس واقعہ کا نصرانی کے اوپر بہت اثر ہوا۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم اے امیر المومنین، یہ زرہ آپ ہی کی ہے۔ آپ کے اونٹ سے وہ گر گئی تھی۔ پھر میں نے اس کو اٹھا لیا۔ پھر نصرانی نے کہا کہ اسلام کی یہ بات بہت عجیب ہے کہ امیر المومنین خود میرے ساتھ قاضی کے پاس آئے۔ قاضی اس کے خلاف فیصلہ کرے اور وہ اس فیصلہ پر راضی ہو جائے۔
اس کے بعد نصرانی نے کلمہ اسلام پڑھ کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ حضرت علی نے کہا کہ جب تم نے اسلام قبول کر لیا تو یہ زرہ اب تمہاری اسی کے ساتھ اس کو سات سو درہم اور ایک گھوڑا دیا۔ اس کے بعد وہ نصرانی حضرت علی کا ساتھی یہاں تک کہ جنگ صفین میں لڑتے ہوئے شہید ہوا ( (حیاۃ الصحابہ ۳۵/۱-۲۲۴) قدیم زمانہ میں ہمیشہ حکمراں کو قانون سے بالاتر سمجھا جاتا تھا۔ یہ ناقابل تصور تھا کہ ایک حکمراں کو عدالت میں معمولی انسان کی طرح کھڑا کیا جاسکے۔ موجودہ جمہوری زمانہ میں اگرچہ خالص قانونی اعتبار سے حکمراں اور عوام کو برابر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم آج بھی عملی طور پر یہ نا ممکن ہے کہ ایک بر سر اقتدار شخص کو عدالت میں بلایا جائے اور جج کی کرسی پر بیٹھنے والا آدمی عام انسانوں کی طرح اس کے اوپر قانون کا نفاذ کرے۔
پوری معلوم تاریخ میں یہ صرف اصحاب رسول ہیں جنہوں نے یہ استثنائی مثال قائم کی کہ ان کے ایک حاکم کو عدالت میں لایا جائے اور ایک عام انسان کی طرح مقدمہ چلا کر اس کے معاملہ کا فیصلہ کیا جائے۔
انسانی ضمیر یہ چاہتا ہے کہ ہر آدمی یکساں طور پر قانون کے سامنے جواب دہ ہو۔ انسانی ضمیر کی یہ طلب حقیقی معنوں میں صرف ایک ہی دور میں عملی واقعہ بن سکی ، اور وہ بلاشبہ اصحاب رسول کا دور ہے۔
بادشاہ پر یکساں انصاف کی بات اصحاب رسول سے پہلے صرف افسانہ کی کتابوں میں تھی۔ اصحاب رسول نے اس کو افسانہ سے اٹھا کر حقیقی زندگی کا واقعہ بنا دیا۔