سیاسی بے غرضی
Al-Risala, September 1991, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۲ ربیع الاول ۱۱ھ کو مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ آپ کے بعد مسلمانوں کا امیر کون ہو۔ اس وقت مدینہ میں مسلمانوں کے دو بڑے گروہ تھے۔ انصار کا خیال تھا کہ امارت ان کا حق ہے۔ کیونکہر سول اور مہاجر صحابہ کو جب کہ چھوڑنا پڑا تو انصار نے اس پورے قافلہ کو اپنے شہر مدینہ میں جگہ دی۔ وہ ہر اعتبار سے ان کے مددگار بن گئے۔ حیثیت اس وقت اگر چہ ایک "لٹے ہوئے قافلہ“ کی تھی مگر انصار نے ان کی عزت اور احترام میں کوئی کمی انصار کی مسلسل حمایت اور قربانی کے ذریعہ اسلام مضبوط ہوا اور اس کی شاندار تاریخ بنی۔ ان اسباب کی بنا پر انصار کا یہ خیال تھا کہ امارت ان کا حق ہے۔ انصار کے لوگ اس معاملہ کو طے کرنے کے لیے اپنے قبیلہ کی چو پال (سقیفہ بنی ساعدہ) میں جمع ہوئے۔
یہاں تک معاملہ پہنچ چکا تھا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسرے مہاجرین کو خبر ہوئی۔ فوراً سقیفہ بنی ساعدہ پہنچے۔ کیونکہ اس معاملہ میں معمولی غفلت بھی نہایت دور رس نتیجہ پیدا کرنے کا سبب بن سکتی تھی۔ انصار کا یہ خیال درست تھا کہ ان کو مخصوص فضیلتیں حاصل ہیں۔ مگر دینی فضیلت ایک الگ چیز ہے اور سیاسی قیادت اس سے مختلف دوسری چیز۔ دینی فضیلت کسی بھی شخص کے اندر مگر سیاسی قیادت صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جن کے حق میں قیادت کے تاریخی اسباب جمع
حضرت ابو بکر سقیفہ بنی ساعدہ پہنچے۔ تو وہاں انصار کے بزرگ قائد سعد بن عبادہ بھی موجود تھے۔ کا رجحان یہ تھا کہ سعد بن عبادہ کو امیر المومنین بنایا جائے۔ حضرت ابو بکر نے سعد بن عبادہ سے کہا کہ کیا تم کو یاد نہیں کہ تمہاری موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ : قريش ولاة هذا الامر اور الناس تبع لقريش۔ یعنی عرب میں سیاسی سرداری صرف قریش ہی کر سکتے ہیں۔ عرب کے لوگ ان کے سوا کسی اور کی ماتحتی قبول کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے۔ حضرت ابو بکر نے انصار سے کہا کہ تمہاری دینی خدمت اور اسلام کے اندر تمہارا مقام مسلم ہے۔ لیکن عرب کے لوگ قریش کی قیادت کے سوا کسی اور کی قیادت سے آشنا نہیں ہیں۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تقریر کے بعد تمام انصار اس پر راضی ہو گئے کہ
مہاجرین (قریش) میں سے کسی شخص کو امیر بنایا جائے۔ یہ ایک بے حد انقلابی فیصلہ تھا جس کی معلوم انسانی تاریخ میں کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔
انصار پہلے اس معاملہ کو صرف ’’مدینہ‘‘ کے حالات کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے ، اب انھوں نے اس معاملہ کو پورے ملک کے نقطہ نظر سے دیکھنا شروع کیا۔ ان کے بے لاگ ذہن اور حقیقت پسندانہ مزاج نے انھیں بتایا کہ مدینہ میں اگر چہ مقامی طور پر انصار کو سب یادت حاصل ہے مگر وسیع تر سطح پر پورا عرب کسی قریشی سردار ہی کی سرداری قبول کر سکتا ہے۔ انصار نے اس معاملہ کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ یا سیاسی حق تلفی کا مسئلہ نہیں بنایا۔ چنانچہ انھوں نے فوراً حضرت ابو بکر کی تجویز کو مان لیا۔ عرب میں اسلام کو جو غلبہ حاصل ہوا اس میں بلاشبہ انصار کا بہت بڑا حصہ تھا۔ اس میں ان کی عظیم قربانیاں شامل تھیں۔ ایسی حالت میں یہ عین فطری تھا کہ غلبہ حاصل ہونے کے بعد انصار یہ چاہیں کہ امیر المومنین کا عہدہ ان کے پاس ہو یا کم از کم اقتدار میں قابلِ لحاظ حد تک انھیں شریک کیا جائے۔ چنانچہ ایک انصاری نے جب دیکھا کہ امیر کا عہدہ انصار کو دینے پر اختلاف ہے تو اس نے کہا کہ ایک امیر تم میں سے ہو اور ایک امیر ہم میں سے (منا امیر ومنکم امیر) مگر وسیع تر مصالح کو جاننے کے بعد تمام انصار مہاجرین (قریش) کی امارت پر راضی ہو گئے۔ وہ اس پر راضی ہو گئے کہ سیاسی قیادت کا عہدہ یک طرفہ طور پر مہاجرین کو دے دیا جائے، اور انصار کا اس میں کوئی حصہ نہ ہو۔ کسی نظام کو چلانے کے لیے اس قربانی کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر یہ قربانی صرف وہی لوگ دے سکتے ہیں جو اپنے اندر سیاسی بے غرضی کی صفت رکھتے ہوں۔ انصار نے اس نادر صفت کا ثبوت اگر ان کے اندر سیاسی بے غرضی کی یہ غیر معمولی صفت نہ ہوتی تو پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد انصار اور مہاجرین میں ٹکراؤ شروع ہو جاتا۔ اسلام کی تاریخ بننے سے پہلے ہی مدینہ میں دفن ہو جاتی۔ مگر انصار نے اپنے سیاسی حق سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہو کر اسلام کی تاریخ کو آگے بڑھا دیا۔ تحریک اپنے آغاز میں ہو تو اس میں عہدہ کی کشش نہیں ہوتی۔ مگر جب وہ کامیابی کے مرحلہ میں پہنچتی ہے تو اس میں عہدہ اور اقتدار کی کشش شامل ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ہر تحریک میں کامیابی کے بعد مناصب کی رسہ کشی شروع ہو جاتی ہے۔ اصحاب رسول تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جو عظیم کامیابی کے مرحلہ تک پہنچے مگر انھوں نے مناصب کو دوسروں کے حوالے کر کے اپنے لیے بے منصب حیثیت قبول کر لی۔