حکومت کے باوجود
Al-Risala, September 1991, pp. 36–34
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کو دیں گے جو زمین میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا۔ اور آخری انجام ڈرنے والوں کے لیے ہے (تلك الدار الآخرة نجعلها للذين لا يريدون علوا في الأرض ولا فسادا والعاقبة للمتقين) القصص ۸۳ اس طرح کی آیتیں اور احکام قرآن میں بہت ہیں۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ زمین میں بڑا کون بنتا ہے اور کون ہے جو زمین میں فساد کرتا ہے۔ اگرچہ ایک عام انسان بھی اپنے دائرہ میں علو اور فساد کا مظاہرہ کرتا ہے۔ مگر یہ کام زیادہ بڑے پیمانہ پر وہ لوگ کرتے ہیں جن کو زمین میں اقتدار ملا ہوا ہو۔ جن کو وہ اختیار حاصل ہو جس کے بل پر کوئی شخص زمین کو فساد سے بھر دیتا ہے ۔ اس اعتبار سے صحابہ کرام کا گروہ تاریخ کا واحد گروہ ہے جو اس مطلوب انسانی قدر کا اعلیٰ نمونہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اقتدار ملا، مگر اقتدار نے ان کے اندر گھمنڈ پیدا نہیں کیا۔ ان کو زمین میں بڑائی ملی، مگر انھوں نے ایک عام آدمی کی طرح دنیا میں زندگی گزاری ۔ وہ اعلیٰ اختیارات کے مالک تھے، مگر اختیار پانے کے باوجود وہ مفسد اور ظالم نہیں بنے۔ یہاں خلیفہ دوم عمر فاروق کا ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے جو اس معاملہ میں ایک علامتی مثال کی حیثیت رکھتا ہے : عن الفضل بن عميرة ، ان الاحنف بن قيس قدم علی عمر بن الخطاب في وفد من العراق - قد موا عليه في يوم صائف شديد الحر وهو محتجز بعباءة يهنا بعيرل من ابل الصدقة - فقال : يا احنف ضع ثيابك وهلم فأعن امير المؤمنين على هذا البعير فانه لمن ابل الصدقة ، فيه حق لليتيم والمسكين والارملة - فقال رجل من القوم - يغفر الله لك يا امير المومنين، فهلا تأمر عبدا من عبيد الصدقة فيكفيك هذا ۔ قال عمر : وأي عبد هو أعبد منى - فضل بن عمیرہ کہتے ہیں کہ احنف بن قیس ایک عراقی وفد کے ساتھ عمر بن الخطاب کے پاس مدینہ آئے۔ وہ گرمی کے موسم میں آئے تھے جب کہ گرمی بہت سخت تھی۔ عمر اپنی کمر پر ایک چغہ باندھے ہوئے تھے۔
اونٹ کی مالش کر رہے تھے جو کہ بیت المال کا اونٹ تھا۔ انھوں نے کہا کہ اے احنف، ، اپنے کپڑے اتار دو اور اس اونٹ کے معاملہ میں امیر المومنین کی مدد کرو ، کیونکہ یہ بیت المال کا اونٹ ہے۔ اس میں یتیم اور مسکین اور بیواؤں کا حصہ ہے ۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ آپ کو معاف کرے اے امیر المومنین ، کیوں نہیں آپ نے بیت المال کے غلاموں میں سے کسی غلام کو حکم دے دیا ، وہ آپ کی طرف سے اس کام کو انجام دے دیتا ۔ عمر نے جواب دیا : مجھ سے زیادہ غلام کون ہے۔
اقتدار پانے کے بعد آدمی بگڑ جاتا ہے ۔ یہ مظہر اتنا عام ہے کہ لارڈ ایکٹن ( ۱۹۰۲ - ۱۸۳۴) کا یہ قول ضرب المثل بن گیا ہے کہ اقتدار بگاڑتا ہے اور کامل اقتدار بالکل ہی بگاڑ دیتا ہے : Power corrupts and absolute power corrupts absolutely. مگر تاریخ میں گروہ کے اعتبار سے صحابہ کرام کی مثال ایک استثنائی مثال ہے کہ ان کو زمین پر اقتدار ملا ، لیکن اقتدار ان کو بگاڑنے ولا لانہ بن سکا۔ انھیں لوگوں کے اوپر حکومت حاصل تھی ، مگر وہ محکوموں میں سے ایک محکوم بن کر لوگوں کے درمیان رہے ۔ صحابہ کے دور میں خلیفہ اور امراء اور حکام کے یہاں اس کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔
صحابہ کرام تاریخ کی واحد مثال بن گئے جن کے حوالہ سے حکمرانوں کو سادہ اور معمولی زندگی گزارنے کی تلقین کی جائے ۔ ۱۹۳۷ میں پہلی بار ہندوستان میں کانگریس کی وزارت بنی تو مہاتما گاندھی نے اپنے انگریزی اخبار میں کانگریسی وزیروں کو سادہ زندگی کا مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ میں آپ لوگوں کے سامنے رام چندر اور کرشن کا حوالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ وہ تاریخی شخصیتیں نہیں ہیں میں مجبور ہوں کہ سادگی کے نمونہ کے لیے ابو بکر اور عمر کا نام پیش کروں ۔ وہ اگرچہ بہت بڑی سلطنت کے مالک تھے مگر انھوں نے مفلسوں کی طرح زندگی گزاری (ہریجن ۲۷ جولائی ، ۱۹۳۷)
حکومت و اقتدار کے باوجود معمولی زندگی گزارنا کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ تمام مشکل کاموں میں سب سے زیادہ مشکل کام ہے ۔ اس معیار پر وہ لوگ پورے اترتے ہیں جن کے لیے عہدہ اعزاز کی چیز نہ ہو بلکہ ذمہ داری کی چیز ہو۔ جو زندگی کے ذرائع کو سامان راحت نہیں بلکہ سامان آزمائش سمجھتے ہوں ۔ جو اپنے نفس کی خواہش پر چلنے کے بجائے اپنے ایمانی شعور کے تحت عمل کرتے ہوں۔ وہ ربانی لوگ تھے جنہوں نے اس مشکل طریقہ کو اس کی تمام مشکلوں کے باوجود اپنی زندگی میں اختیار کیا۔