معاہدہ کی پابندی
Al-Risala, September 1991, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب دوسری قوم سے تمہارا کوئی معاہدہ ہو تو تم اس معاہدہ پر قائم رہو۔ نہ کرو کہ اوپر اوپر معاہدہ کی حالت باقی رکھو اور اندر سے خفیہ طور پر اسے توڑ دو۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم کو کسی قوم سے بد عہدی کا ڈر ہو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو، ایسی طرح کہ تم اور وہ دونوں برابر ہو جائیں ۔ بے شک اللہ بد عہدوں کو پسند نہیں کرتا (الانفال ۵۸)
یعنی تم کو دشمن کے خلاف جو کارروائی کرنا ہے ، معاہدہ کو بالاعلان توڑنے کے بعد کرو نہ کہ معاہدہ کو باقی رکھتے ہوئے ۔ اس آیت کے ذیل میں مفسرین نے دور صحابہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ کچھ لفظی فرق کے ساتھ احمد ، الترمذی اور ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ تینوں روایتوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں ہم اس کا ترجمہ درج کرتے ہیں :
سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ امیر معاویہ اور رومی حکومت کے درمیان ایک میعادی عہد نامہ تھا۔ معاویہ اپنی فوج کو لے کر رومی علاقہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ ان کا ارادہ تھا کہ سرحد کے قریب جاکر ٹھہریں اور اچانک ان کے اوپر حملہ کر دیں ، معاویہ جب سرحد پر پہنچے تو ایک شخص گھوڑے پر سوار ہو کر ظاہر ہوا اور بلند آواز سے کہنے لگا کہ اللہ اکبر، اللہ اکبر، اسلام میں عہد کو پورا کرنا ہے ، عہد کو توڑنا نہیں ہے (الله اکبر الله اكبر وفاء لا غدر)
لوگوں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عمرو بن عنبسہ تھے ۔ اس کے بعد امیر معاویہ نے ان کو اپنے خیمہ میں بلایا۔ اور ان سے پوچھا کہ آپ کا مطلب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو وہ نہ اس کی کوئی گرہ باندھے اور نہ اس کی کوئی گرہ کھولے، یہاں تک کہ اس کی مدت پوری ہو جائے ۔ یا پھر وہ عہد کو برابری کے ساتھ اس کی طرف پھینک دے (من كان بينه وبين قوم عهد فلا يشـد عقدة ولا يحلها حتى ينقضى امدها او ينبذ اليهم على سواء) تفسیر ابن کثیر ۳۲۰/۲، ، الجامع لاحکام القرآن ۳۲/۸ اس وقت امیر معاویہ سرحد روم پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور اگلی صبح کو حملہ کرنے والے تھے ۔ مگر اس انتباہ کے بعد وہ حملے سے رک گئے اور اپنی فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا (قال : فرجع
معاویة بالن) مشکاۃ المصابیح، الجز ء الثانی، صفحہ ۱۶۵ بین الالالالاقوامی دنیا میں ہمیشہ سے یہ رواج چلا آ رہا تھا کہ جس قوم سے دشمنی ہو جاتی تھی، اس کے بارہ میں لوگ کسی اخلاقی اصول کی پیروی ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ ایسی قوم سے بظاہر امن اور صلح کا معاہدہ کرنے کے باوجود اندر اندر اس کے خلاف کارروائی جاری رکھتے تھے۔ اسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو جو نمونہ قائم کرنا تھا، اس میں یہ بھی شامل تھا کہ بین اقوامی تعلقات میں اخلاقی اصولوں کو پوری طرح نبھایا جائے۔ مثلاً کسی قوم سے معاہدہ ہو تو اس اس معاہدہ کی آخری حد تک پابندی کی جائے۔ اور اگر اس قوم کی طرف سے خیانت کا اندیشہ ہو تب بھی کوئی کارروائی صرف اس وقت کی جائے جب کہ اس قوم کو اس سے مطلع کر دیا جائے تاکہ معاہدہ کے دوسرے فریق کو بخوبی طور پر معلوم ہو جائے کہ اب دونوں کے درمیان سابقہ حالت باقی نہیں ہے۔
یہ بلاشبہ ایک بے حد اہم اصول تھا۔ مگر اس کو عملی طور پر قائم کرنے کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ کیونکہ یہ خود اپنے مفاد کے خلاف تھا۔ ظاہر ہے کہ اگر دشمن کو پیشگی طور پر بتا دیا جائے کہ تمہارے ساتھ امن کی حالت ختم ہو چکی ہے اور اب ہم تمہارے اوپر حملہ کرنے والے ہیں تو ایسی حالت میں دشمن چوکس ہو جائے گا۔ وہ تیاری کر کے سخت مقابلہ کرے گا۔ حتیٰ کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارا اقدام ہمارے لیے الٹا ثابت ہو جائے۔
اس صورت حال میں اس بین اقوامی اصول کو عملاً قائم کرنے کے لیے ایک بے حد با اصول قوم جو ہر دوسرے پہلو کو نظر انداز کر کے اصول کو اعلیٰ ترین حیثیت دینے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ نقصان کو گوارا کر لے مگر اصول کی خلاف ورزی گوارا نہ کرے۔
مذکورہ واقعہ ایک مثال ہے جو بتاتا ہے کہ اصحابِ رسول نے اس حوصلہ کا ثبوت دیا۔ کے لیے مطلوبہ قربانی دینے پر راضی ہو گئے۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ تاریخ میں پہلی بار بین اقوامی تعلقات میں یہ اصول عملاً قائم ہوا کہ دو قوموں میں بگاڑ اور عناد ہو تب بھی اخلاقی روایات کو نہ توڑا جائے۔ دشمن سے مقابلہ میں بھی سچائی اور شرافت کے خلاف عمل نہ کیا جائے۔
ہر اصول کی ایک قیمت ہے۔ لوگ قیمت دینا نہیں چاہتے، اس لیے وہ اس پر عمل بھی نہیں کرتے۔ صحابہ نے ہر اصول کی مطلوبہ قیمت ادا کی، اسی لیے وہ ہر اصول پر عمل کرنے میں کامیاب رہے۔