نمونہ انسانیت
Al-Risala, September 1991, pp. 46–47
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اصحابی کالنجوم بایھم اقتديتم اھتدیتم (میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں۔ ان میں سے جس کسی کی بھی تم پیروی کرو گے تم ہدایت پاجاؤ گے) حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اسلام کا نمونہ ہیں۔ ان کو دیکھ کر، ہم جان سکتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی رضا کو پانے کے لیے اس دنیا میں کیا کرنا چاہیے۔ ایک تابعی نے اسی حقیقت کو ان لفظوں میں بیان کیا: والقدوة هم ۔ یعنی صحابہ ہی تو نمونہ ہیں۔ ایمان کیا ہے اور مومن کسے کہتے ہیں، اس کا نہایت واضح بیان قرآن میں موجود ہے۔ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مزید یہ اہتمام فرمایا کہ سچے ایمان کا عملی نمونہ دنیا میں قائم کر دیا۔ یہ عملی نمونہ اسی انسانی گروہ کے ذریعہ قائم کیا گیا ہے جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب رسول کے اسلام کو قبول کیا اور اس کی تصدیق فرمائی۔ اس طرح اس نے عمل کی زبان میں تمام انسانوں کو بتا دیا کہ اس کو کون سا ایمان وا سلام مطلوب ہے۔
اس نمونہ کے سامنے آنے کے بعد اب ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کو اصحاب رسول کے ایمان سے ملا کر دیکھے۔ اگر اس کا ایمان اصحاب رسول کے نمونہ کے مطابق ہے تو ٹھیک ہے۔ اور اگر وہ اس نمونہ کے مطابق نہیں ہے تو وہ خدا کے یہاں قبول کیے جانے کے لائق نہیں۔ اصحاب رسول کی یہ حیثیت کہ وہ تمام انسانی نسلوں کے لیے ستارہ قرار دیے گئے اور اعلان کیا گیا کہ تمام لوگ ان سے روشنی حاصل کریں، یہ کوئی سادہ سی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اصحاب رسول نے وہ انتہائی مہنگی قیمت ادا کی جو کسی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ لوگوں کے لیے ستارہ ہدایت اس قیمت کی ادائیگی کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ ان کے حق میں یہ اعلان کیا جائے کہ وہ تمام نسلوں کے لیے ستارہ ہدایت ہیں، اور اب قیامت تک تمام لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان کے نمونہ سے روشنی لے کر اپنی زندگیوں کی تعمیر کریں۔
آج ایک شخص محمد (قابل تعریف) پیغمبر پر ایمان لا کر مومن کہلاتا ہے، صحابہ کو مومن بننے کے لیے مذمم (قابل مذمت) پیغمبر پر ایمان لانے کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑا۔ آج ہم مذہبی آزادی کے
حول میں دین دار بنے ہوئے ہیں، انھیں مذہبی جبر کے ماحول میں دین کو اختیار کرنا پڑا۔ آج ہم ایک پر فخر اسلامی تاریخ کے مالک ہیں، انھیں ایک ایسے اسلام سے وابستہ ہونا پڑا جس کی سرے سے کوئی تاریخ ہی نہ تھی۔
آج لوگوں کو اسلام کے نام پر بڑے بڑے اعزازات مل رہے ہیں، انھیں اسلام کی خاطر اپنے آپ کو بالکل بے قیمت کر دینا پڑا۔ آج اسلام کی علم برداری سے ہر جگہ لوگوں کو قیادت اور استقبال کا تحفہ حاصل ہو رہا ہے ، انھیں ایک ایسے اسلام کا علم بردار بننا پڑا جس نے ان کی موجودہ عزت و رفعت کو بھی مٹی میں ملا دیا۔
صحابہ نے جس اسلام کو اختیار کیا اس کو اختیار کرنا اخلاص کے بغیر ممکن نہ تھا۔ انھوں نے جس دین کو اپنا دین بنایا اس کا محرک اللہ کی رضا کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ ان کا اسلام مکمل طور پر بے داغ اسلام تھا۔ ان کی للہیت ہر امتحان میں پوری اتری تھی، یہی وجہ ہے کہ وہ تاریخ کے وہ منتخب گروہ قرار پائے جس کی تقلید کی جائے۔ جس کے نمونہ کو ہمیشہ کے لیے اپنا رہنما بنا لیا جائے۔
جو لوگ معمول کے حالات میں اسلام کو اختیار کریں، وہ کبھی اسلام کا نمونہ نہیں بن سکتے اسی طرح جو لوگ اس دور میں اسلام کا نام لیں جب کہ اسلام کا نام لینے سے قیادت ملتی ہے۔ فائدے حاصل ہوتے ہیں، اور سماج میں عزت کا مقام حاصل ہوتا ہے، وہ بھی نمونہ بننے کے کیونکہ نمونہ کے لیے خالص ہونا ضروری ہے۔
اسلام کا نمونہ صرف وہ لوگ بن سکتے ہیں جو غیر معمولی حالات میں اسلام پر قائم رہیں۔ دور میں اسلام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کریں جب کہ اس کے ساتھ وابستگی کے بعد ملی ہوئی عزت بھی ختم ہو جائے۔ جب آدمی عوام کے درمیان اپنی مقبولیت کھودے۔
اصحاب رسول اسی قسم کے غیر معمولی لوگ تھے جنہوں نے غیر معمولی حالات میں اسلام کا ساتھ دیا۔ انھوں نے کھونے کی قیمت پر اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ وابستہ کیا۔ وہ اعلیٰ انسانیت پر کھڑے ہوئے۔ وہ اپنے معیاری قول و عمل کی بنا پر اس قابل ٹھہرے کہ وہ تمام قوموں اور تمام نسلوں کے لیے رول ماڈل وہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ابدی مثال بن جائیں۔