دنیا کے لیے رحمت
Al-Risala, September 1991, pp. 48–51
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبروں کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ ان کی مخاطب قوم اگر ان کو نہ مانے تو اس کو زمینی یا آسمانی عذاب کے ذریعہ ہلاک کر دیا جائے ۔ چنانچہ پچھلے زمانوں میں ایسا ہوا کہ پیغمبروں کی مخاطب قومیں اپنے انکار کے سبب سے بار بار ہلاک کی جاتی رہیں (العنکبوت ۴۰) آخر کار اللہ نے چاہا کہ ایک ایسا پیغمبر بھیجے جس کے بعد ہلاکتا کا مذکورہ سلسلہ ختم ہو جائے ۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم یہی خاص پیغمبر اسی لیے قرآن میں آپ کو دنیا والوں کے لیے رحمت (الانبیاء ۱۰۷) کہا گیا ہے ۔ اس آیت سے متعلق مفسرین کے کچھ اقوال یہاں نقل کیے جاتے ہیں :
قولہ تعالیٰ (وما ارسلناك الا رحمة | "اور ہم نے تم کو بس رحمت بنا کر بھیجا ہے" اس کی للعالمين) قال سعيد بن جبير عن ابن | تفسیر میں عبد اللہ بن عباس نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم عباس قال : كان محمد صلى الله عليه | تمام انسانوں کے لیے رحمت تھے۔ جو آدمی آپ پر وسلم رحمة لجميع الناس فمن آمن | ایمان لایا اور آپ کی تصدیق کی اس نے سعادت به وصدق به ومن لم يؤمن به | حاصل کی اور جو آدمی آپ پر ایمان نہیں لایا وہ زمین سلم مما لحق الأمم من الخسف | میں دھنسنے اور غرق ہونے کے اس عذاب سے والغرق (الجامع لاحکام القرآن ۳۵۰/۱۱) | بچ گیا جو دوسری قوموں کو پیش آیا۔ فان قيل فاي رحمة حصلت لمن كفر به۔ | اگر یہ کہا جائے کہ اس کو کون سی رحمت ملی جس نے فالجواب ما رواه أبو جعفر بن جرير | آپ کا انکار کیا۔ تو اس کا جواب وہ ہے جو ابن جریر عن ابن عباس ، قال من آمن بالله | نے عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے۔ واليوم الآخر كتب له الرحمة | نے کہا کہ جو آدمی اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لایا في الدنيا والآخرة۔ ومن لم يؤمن | اس کے لیے دنیا اور آخرت میں رحمت لکھ دی گئی۔ بالله ورسوله عوفى مما اصاب الامم | اور جو آدمی اللہ اور رسول پر ایمان نہیں لایا۔
وقيل هو رحمة للمومنين فى الدارين وللكافرين فى الدنيا بـتـاخـيـر عذاب الاستصال والمسخ والخسف ( تفسير النسفى (۹۱/۳)
فكان رحمة للعالمين حتى الكفار رُحِمُوا به حيث أخر عقوبتهم ولم يستأصلهم بالعذاب (كالمسخ والخسف والغرق (صفوة التفاسير (۲۴۷/۲) اور کہا گیا ہے کہ آپ اہل ایمان کے لیے دونوں عالموں میں رحمت ہیں۔ اور اہل انکار کے لیے دنیا میں رحمت، کیونکہ ان پر مہلک عذاب اور مسخ اور دھنسائے جانے کا عذاب ٹال دیا گیا۔
آپ منکرین تک کے لیے رحمت تھے۔ آپ کی وجہ سے ان کی سزا مؤخر ہوگئی اور ان پر عذاب متأصل نہیں آنا، مثلاً مسخ ، دھنسانا اور غرق کرنا۔ روى البخاري في التاريخ عن أبي هريرة ، قال : إنما بعثت رحمة ولم أبعث وقال ابن عباس: هو رحمة للكافر في الدنيا بتأخير العذاب عليهم ورفع المسخ والخسف والاستئصال ( التفسير المظہری ۲۴۴/۶)
بخاری نے اپنی تاریخ میں ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں، میں عذاب بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ اور عبد اللہ بن عباس نے کہا کہ آپ منکرین کے لیے دنیا میں ان پر عذاب ٹل جانے کی وجہ سے رحمت ہیں اور مسخ اور خسفاً اور مہلک عذاب اٹھا لیے جانے کی وجہ سے۔ ر (appointment) کا مگر دنیا میں "رسول رحمت" کا دور لانا سادہ طور پر تقرری (appointment) کا معاملہ نہ تھا۔ یہ ایک نئی تاریخ کو ظہور میں لانے کا معاملہ تھا۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ ایک طاقت ور انسانی ٹیم رسول رحمت کی کامل معاونت کرے اور اسباب وعلل کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مطلوبہ تاریخی انقلاب لے آئے۔ اصحاب رسول اپنے اعلیٰ شعور اور اپنی بے پناہ قربانیوں کے ذریعہ یہی طاقت ور ٹیم بنے۔ انھوں نے رسول رحمت کے خدائی منصوبہ کو عملاً قائم کیا۔ قرآن کے مطابق ، موجودہ دنیا انسان کے لیے آزمایش گاہ ہے۔ یہاں انسان کو آزادی دے کر دیکھا جا رہا ہے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے اور کون برا عمل ۔ انسان کے اسی ریکارڈ کے مطابق اس کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ خدا کے پیغمبر انسان کو اسی نوعیت حیات کی خبر دینے کے لیے آتے تھے۔ جب آخری رسول پر پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم کیا گیا تو اس کے بعد اللہ نے چاہا کہ دین پیغمبر کو ذاتِ پیغمبر کا بدل بنا دیا جائے۔ زندہ پیغمبر کے بجائے پیغمبر کا لایا ہوا ہدایت نامہ لوگوں کے لیے ہدایت کا
ذریعہ بن جائے ۔
یہ صرف اس وقت ممکن تھا جب کہ خدا کا دین ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ دین بن چکا ہو۔ زمانوں میں ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ کیونکہ پیغمبروں کو انسانوں کی اتنی بڑی تعداد نہیں ملی جو دین کی حمایت کر کے عالم اسباب میں اس کی حفاظت کا انتظام کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر کا دین اس کے بعد مٹایا جاتا رہا۔ آج پچھلے پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر کی تاریخ موجود نہیں ، اور نہ کسی پیغمبر کی کتاب محفوظ حالت میں پائی جاتی ہے ۔
اس مقصد کے لیے ضرورت تھی کہ خدا کے دین کو مجرد نظریہ کی سطح سے اٹھا کر اس کو عملی انقلاب کے درجہ تک پہنچا دیا جائے ۔ اس کے لیے ضرورت تھی مخالف دین طاقتوں کا زور توڑ دیا جائے تاکہ وہ ماضی کی طرح اس دین کو مٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں ۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ خدا کے دین کی پشت پر ایک طاقت ور امت کھڑی کر دی جائے جو تمام مخالفین کے علی الرغم اس کی محافظ اور امین بن سکے ۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ خدا کے دین کی بنیاد پر ایک مکمل تاریخ وجود میں آجائے تاکہ خدا کے دین کی پشت پر ایک عملی نمونہ موجود رہے جو ہر دور کے انسانوں کی رہنمائی کرتا رہے ۔ یہ منصوبہ بلاشبہ تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ تھا۔ اصحاب رسول نے ہر قسم کی رکاوٹوں اور مشکلوں کے باوجود پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اس کو مکمل کیا۔ اس کے لیے انھوں نے اپنا وطن اور اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑ دیا۔ قریش آپ کے دشمن ہوگئے ۔ مگر صحابہ نے اپنے جان و مال کو لٹا کر پیغمبر کی مدد کی۔ حنین کی جنگ میں دشمنوں نے آپ پر تیروں کی بارش کر دی۔ اس وقت صحابہ کی ایک جماعت نے آپ کو چاروں طرف سے اپنے گھیرے میں لے لیا۔ ان کے جسموں پر تیر اس طرح لٹک رہے تھے جس طرح ساہی کے جسم پر کانٹے لٹکتے ہیں۔ مگر انھوں نے پیغمبر کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ روم و ایران کی طاقتور سلطنتیں خدا کے دین کی دشمن ہو گئیں۔ صحابہ نے ان طاقتور چٹانوں کو توڑ ڈالا ، وغیرہ۔ صحابہ کرام نے ہر قربانی کی قیمت پر پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دیا۔ انھوں نے اپنے بے پناہ عمل سے وہ تاریخی حالات پیدا کیے جس کے بعد سنت اللہ کے مطابق نبیوں کا سلسلہ ختم ہوا اور انسانیت بار بار دنیوی ہلاکت کے انجام سے بچ گئی ۔ نبوت رحمت کا قیام ایک خدائی منصوبہ تھا، مگر یہ اصحاب رسول ہی تھے جنھوں نے عالم اسباب میں اس منصوبہ کو مکمل کیا۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔
عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر مولانا وحید الدین خاں کے قلم سے دین کی سیاسی تعبیر تذکیر القرآن جلد اول دین کیا ہے " جلد دوم قرآن کا مطلوب انسان اسلام دین فطرت ۔
مذہب اور جدید چیلنج تاریخ کا سبق مذہب اور سائنس نمبر جدید امکانات نمبر اسلامی اخلاق فسادات کا مسئلہ انسان اپنے آپ کو پہچان نمبر تعمیر ملت راز حیات (مجلد)