جوابی فارمولا
Al-Risala, October 1991, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے فرقہ پرست ہندو سازش کرکے مسلمانوں کے خلاف فساد کرتے ہیں۔ ان فسادات میں مسلمانوں کا بے حساب جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی ''سازش'' کیا ہوتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کی اس کمزوری کو جان لیا ہے کہ ان کے اندر صبر کا مادہ نہیں۔ کے خلاف اشتعال انگیزی کی جائے تو وہ فوراً مشتعل ہو کر آمادہ تشدد ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کی اسی کمزوری کو استعمال کرنے کا نام فرقہ وارانہ فساد ہے۔
فرقہ پرست ہندومنصوبہ بنا کر ایک جلوس نکالیں گے۔ وہ جلوس سڑکوں سے گزرتا ہوا مسلم محلے میں وہاں وہ مسجد کے سامنے باجا بجائے گا یا اشتعال انگیز نعرہ لگائے گا۔ اب مسلمان بھڑک کر جلوس کو روکیں گے۔ بات بڑھے گی۔ یہاں تک کہ عملی تشدد شروع ہو جائے گا۔ اب ہندوؤں کو موقع مل جائے وہ مسلمانوں پر آغاز تشدد کا الزام لگا کر ان کو جلانا اور مارنا شروع کر دیں گے۔ ان کی اس فسادی پالیسی کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ غصہ دلاؤ اور کامیابی حاصل کرو :