پتھر کھسک گیا
Al-Risala, January 1991, pp. 46–47
By Maulana Wahiduddin Khan
بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے بیان کیا۔ والوں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں ۔ تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں ان میں سے تین آدمی ایک سفر پر نکلے۔ چلتے چلتے رات ہو گئی تو رات گزارنے کے لئے وہ ایک غار میں داخل ہو گئے ۔ پہاڑوں پر اکثر پتھر گرنے (land slide) کے واقعات ہوتے رہتے رات کے وقت اوپر سے ایک بڑا پتھر لڑھک کر گرا اور اس کی وجہ سے غار کا منھ بند ہو گیا ۔ انھوں نے کہا کہ اس چٹان سے نجات کی ہمارے پاس اس کے سوا کوئی تدبیر نہیں ہے کہ ہم اپنے نیک عمل کا واسطہ دئے کر اللہ سے دعا کریں۔
اب ایک شخص دعا کرنے بیٹھا۔ اس نے کہا : خدایا ، میرے باپ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ میرا معمول تھا کہ روزانہ شام کو جب میں اپنے جانور چرا کر لوٹتا تو جب تک میں ان دونوں کو دودھ نہ پلا لیتا نہ خود دودھ پیتا اور نہ کسی اور کو پلاتا۔ ایک دن میں چارہ کی تلاش میں دور نکل گیا۔ شام کو واپسی میں اتنی دیر ہوئی کہ میرے ماں باپ سو گئے ۔ میں نے ان دونوں کے لئے دودھ نکال کر تیار کیا۔ جب ان کے پاس دودھ لے کر پہنچا تو دونوں کو سوتا ہوا پایا ۔ مجھے یہ گوارا نہ ہوا کہ میں ان کو جگاؤں اور مجھے کو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ میں ان سے پہلے دودھ پیوں اور اپنے بچوں کو پلاؤں۔ میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا۔ میرے ہاتھ میں پیالہ تھا اور میں اس انتظار میں تھا کہ جب وہ جاگیں تو میں ان کو دودھ پیش کروں۔ اسی حال میں صبح ہو گئی۔ بچے میرے پاؤں کے پاس بلبلاتے رہے۔ کو وہ دونوں اٹھے اور انھوں نے دودھ پیا۔ اس کے بعد ہم سب لوگوں نے دودھ پیا۔ میرے اللہ یہ عمل اگر میں نے تیری رضا کے لئے کیا ہے تو اس چٹان کی مصیبت سے تو ہم کو نجات دے دے۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی کھسک گئی مگر اتنی زیادہ نہیں کہ وہ تینوں نکل سکیں۔
اب دوسرے آدمی نے دعا شروع کی۔ اس نے کہا: خدایا ، میرے چچا کی ایک لڑکی تھی۔ وہ مجھ کو بہت محبوب تھی، اس سے مجھ کو اسی قسم کی شدید محبت تھی جو مردوں کو عورتوں سے ہوتی ہے۔ میں نے اس سے اپنے نفس کی خواہش پوری کرنی چاہی مگر وہ منع کرتی رہی۔ کچھ عرصہ بعد وہ قحط سالی کی مصیبت میں پریشان ہوئی۔ وہ مدد کے لئے میرے پاس آئی۔ میں نے اس کو ۱۲۰ دینار اس شرط پر دے کہ وہ مجھ کو اپنے اوپر قابو دے دے۔ کے لئے تیار ہوگئی۔ یہاں تک کہ جب میں اس کے اوپر پوری طرح قادر ہو گیا اور اس کے دونوں پیروں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا: خدا سے ڈر اور مہر کو اس کے حق کے بغیر نہ توڑ۔ میں اس سے باز آگیا حالاں کہ وہ مجھ کو
تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی۔ اور جو دینار میں نے اس کو دئے تھے وہ بھی اس سے واپس نہیں خدایا، اگر میں نے یہ کام تیری رضا کے لئے کیا ہے تو اس مصیبت سے تو ہم کو نجات دے دے جس میں ہم اس وقت پھنسے ہوئے ہیں۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی ہٹ گئی مگر اتنی نہیں کہ وہ نکل سکیں۔
اب تیسرے آدمی نے دعا کی۔ اس نے کہا۔ خدایا، میں نے کچھ مزدور اجرت پر رکھے ۔ کام کے بعد میں نے سب کو اجرت دے دی۔ مگر ایک مزدور اپنی اجرت چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی چھوٹی ہوئی رقم کو کاروبار میں لگا دیا۔ اس سے مجھ کو بہت زیادہ مالی فائدہ ہوا۔ کچھ عرصہ بعد وہ آدمی واپس آیا اور کہا: اے اللہ کے بندے، میری اجرت مجھ کو دے دے۔ میں نے اس سے کہا: یہ اونٹ، یہ گائیں، یہ بکریاں اور یہ غلام جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب تمھاری مزدوری ہے۔ اس نے کہا: اے خدا کے بندے، مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا کہ میں تم سے مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ یہ سب تمھارا ہی ہے۔ اس کے بعد اس نے سب چیزیں لیں اور ان کو اس طرح ہنکالے گیا کہ ان میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ خدایا، اگر یہ میں نے تیری رضا کے لئے کیا ہے تو اس مصیبت سے تو ہم کو نجات دے دے۔ اس کے بعد چٹان ہٹ گئی اور وہ تینوں باہر نکل کر روانہ ہو گئے۔ (بخاری و مسلم) یہ روایت صحیحین میں آئی ہے اور اس کے واقعہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دعا ایسی چیز ہے جو پتھر کی چٹان کو بھی اپنی جگہ سے کھسکا دیتی ہے۔ مگر یہ وہ دعا نہیں ہے جو زبان سے بس الفاظ کی صورت میں نکلتی ہے اور آدمی کی حقیقی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ دعا سے چٹان کھسکنے کا واقعہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے تابع کر دیں، جو اپنے اوپر خدا کو نگراں بنا لیں۔ حتی کہ بھوک کی شدت اور بیوی بچوں کی محبت بھی ان کو خدا کی پسندیدہ راہ سے نہ ہٹا سکے۔ انتہائی نازک جذباتی مواقع پر بھی خدا کی یاد دلانا ان کو چونکا دینے کے لئے کافی ہو، ہیجان خیز لمحات میں بھی جب خدا کا نام لے لیا جائے تو ان کے چلتے ہوئے قدم رک جائیں، اور ان کے اٹھے ہوئے ہاتھ اپنی حرکت بند کر دیں۔ آخرت کے حساب کا اندیشہ ان پر اتنا زیادہ طاری ہو کہ ایک حق دار کا حق ادا کرنے کی خاطر اگر ان کو اپنا سارا اثاثہ دے دینا پڑے تو اس سے بھی وہ دریغ نہ کریں۔ ایک آدمی اگر اپنا مطالبہ لے کر ان کے سامنے کھڑا ہو جائے تو وہ فوراً اس کو مان لیں خواہ مطالبہ کرنے والا کتنا ہی بے زر ہو اور اس کے مقابلہ میں ان کو کتنی ہی زیادہ قوت حاصل ہو۔
خدا کے بندے وہ ہیں جو اپنے نفس کو کچلنے اور اپنے فائدوں کو ذبح کرنے کی قیمت پر خدا کو اختیار کرتے ہیں۔ اور جو لوگ اس طرح خدا کو اپنا لیں وہ اگر کہیں کہ خدایا تو اس پتھر کی چٹان کو کھسکا دے تو خدا پتھر کی چٹان کو بھی ان کے لئے کھسکا دیتا ہے۔