Al-Risala · October 1991

یک طرفہ اقدام کی ضرورت

Al-Risala, October 1991, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

صلح حدیبیہ (۶ھ) تاریخ اسلام کا مشہور واقعہ ہے۔ اس موقع پر مخالفین اسلام نے صلح کی جو شرطیں پیش کیں، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بحث کے بغیر منظور کر لیا۔ سب کی سب مخالفین اسلام کے حق میں تھیں۔ چنانچہ جو مسلمان آپ کے ساتھ تھے ان کی اکثریت پر یہ صلح بے حد شاق گزری۔ حتی کہ بعض صحابہ یہ کہہ پڑے کہ کیا ہم حق پر نہیں ہیں ۔ اور کیا فریق ثانی باطل پر نہیں ہے ۔ اگر ہم حق پر ہیں اور فریق ثانی باطل پر ہے تو ہم اس قسم کی ذلت آمیز شرائط پر صلح کیوں کریں ۔

پیغمبر اسلام اور عام مسلمانوں کے درمیان رائے کا یہ فرق کیوں ہوا۔ اس کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اسلام مسئلہ کو یک طرفہ طور پر دیکھ رہے تھے اور عام مسلمان دوطرفہ طور پر۔ عام مسلمانوں کا خیال تھا کہ کچھ ہم جھکیں اور کچھ وہ جھکیں ۔ کچھ شرطیں ہماری مانی جائیں کچھ شرطیں ان کی مانی جائیں۔ یعنی معاملہ کو دوطرفہ بنیاد پر طے کیا جائے ۔ جب کہ پیغمبر اسلام کا خیال تھا کہ ہم اس بحث کو نہ چھیڑیں کہ اس معاملہ میں کون حق پر ہے اور کون ناحق پر۔ سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم یک طرفہ طور پر فریق ثانی کی پیش کی ہوئی شرطوں پر راضی ہو جائیں ۔ مسلمانوں کی رائے خالص منطقی اعتبار سے بالکل درست تھی ۔ نظری انصاف کے اعتبار سے یقیناً یہی ہونا چاہیے تھا کہ دونوں میں سے کوئی فریق ضد نہ کرے، بلکہ اصولی بنیاد پر جو بات صحیح ہے اس پر دونوں فریق راضی ہو جائیں ۔

مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم معاملہ کو عملی نقطہ نظر سے دیکھ رہے تھے۔ آپ جانتے تھے کہ اگر اصول اور منطق کی بنیاد پر اصرار کیا گیا تو فریق ثانی ہرگز راضی ہونے والا نہیں ہے۔ اس لیے عملی اعتبار سے مسئلہ کا ممکن حل صرف یہ ہے کہ فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا جائے ۔ کا فوری فائدہ یہ ہو گا کہ دونوں فریقوں میں ٹکراؤ کی صورت حال ختم ہو جائے گی ۔ کے لیے کام کے مواقع نکل آئیں گے ۔ دوطرفہ بنیاد پر اصرار عملاً دونوں فریقوں کے درمیان ٹکراؤ کو برقرار رکھنے کے ہم معنی تھا۔ جب کہ یک طرفہ بنیاد پر راضی ہونے کا مطلب یہ تھا کہ جنگی ٹکراؤ ختم

ہو، اور میدانِ جنگ سے باہر جو ممکن دائرہ ہے، اس میں مسلمانوں کے لیے دعوت اور تعمیر کی جدوجہد کی راہیں کھل جائیں ۔

دور نبوت یہ واقعہ موجودہ حالات میں ہمارے لیے رہنما واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج جن حالات میں گھِرے ہوئے ہیں وہ انتہائی پیچیدہ ہیں۔ پچھلے پچاس سال کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ مسئلہ کا منطقی تجزیہ کرنا یا فریق ثانی کے سامنے اصولی مطالبات کا میمورنڈم پیش کرنا موجودہ حالات میں اتنا زیادہ بے فائدہ ہے کہ اس کی قیمت کا کاغذ کے اس ٹکڑے کے بقدر بھی نہیں ہے جس پر یہ منطقی اور اصولی مطالبات لکھے جاتے ہیں ۔ اصولی مطالبہ صرف اس وقت با معنی ہوتا ہے جب کہ فریق ثانی اصول کے آگے جھکنے کے لیے تیار ہو۔ اور موجودہ صورت حال میں اس کا کوئی ادنیٰ امکان بھی نہیں ۔

مسلمان اب تک جو کچھ کرتے رہے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ مسئلہ کو دو طرفہ بنیاد پر طے کرنا چاہتے جب کہ مسئلہ کا واحد قابلِ عمل حل صرف یہ ہے کہ اس کو یک طرفہ بنیاد پر طے کیا جائے ۔ مسلمان جس صورت حال سے دوچار ہیں اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں نے فرضیتِ عمل کو کھو دیا ہے۔ ان کے لیے ممکن نہیں رہا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے کوئی تعمیری منصوبہ بنائیں اور اس کی طرف اپنا سفر شروع کریں۔ اگر مسلمان اس قربانی پر راضی ہو جائیں کہ وہ فریق ثانی سے اپنے تمام جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں تو اس کا نقد فائدہ یہ ہوگا کہ مسلمان فوراً ہی اپنے لیے عمل کا موقع پالیں گے ۔ جس کو وہ تقریباً نصف صدی سے کھوئے ہوئے ہیں۔ عمل کا موقع پانا گویا سفر کے آغاز کو پانا ہے۔ اور جو لوگ اپنے سفر کے آغاز کو پالیں وہ یقیناً ایک روز اپنے سفر کے اختتام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔

یہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں جو نقصان کو برداشت کرے وہی فائدہ کو حاصل کرتا یک طرفہ طور پر مسئلہ کو ختم کرنا اسی اصول کی تعمیل ہے۔ یک طرفہ طور پر مسئلہ کو ختم کرنے پر راضی ہونا بلاشبہ اپنے اندر نقصانات کے پہلو رکھتا ہے مگر موجودہ دنیا میں کسی بھی قسم کی ترقی کا یہی واحد موجودہ دنیا کا قانون یہ ہے کہ جو لوگ صرف فائدہ چاہیں ان کے حصہ میں آخر کار صرف نقصان آئے ، اور جو لوگ ابتدائی نقصان کو برداشت کریں وہ بالآخر ہر قسم کے فائدوں کے مالک بنیں ۔

Printed page