Al-Risala · October 1991

سیاست، دعوت

Al-Risala, October 1991, pp. 24–26

By Maulana Wahiduddin Khan

پاکستان کی ایک خاتون بیگم شائستہ اکرام اللہ (۷۵ سال) کا مضمون انگریزی ماہنامہ ریڈرس ڈائجسٹ کے شمارہ مئی ۱۹۹۱ میں چھپا ہے۔ وہ تقسیم سے پہلے آل انڈیا مسلم لیگ کی ایک سرگرم کارکن تھیں۔ تقسیم کے بعد ۱۹۴۷ سے ۱۹۵۴ تک وہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کی ممبر رہیں۔ ۱۹۶۴ سے ۱۹۶۷ تک وہ مراکو میں پاکستان کی سفیر تھیں۔ مذکورہ مضمون کا عنوان ہے: "محمد علی جناح" اس مضمون میں انھوں نے مسٹر محمد علی جناح کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ بٹوارہ سے پہلے ۱۹۴۵ میں پیش آیا۔ وہ لکھتی ہیں:

I'd been invited by the government to represent India at an international peace conference in San Francisco, but the leader of our political party was telling me I shouldn't go. His reason: our party, the All-India Muslim League, was com- mitted to non-cooperation with India's British rulers; as a disciplined Leaguer, I could not be part of a government delegation. I was tempted to go, so I said, "Can't I go and not talk politics?" "Then what will you talk about?" Mohammed Ali Jinnah asked sharply. "The man in the moon?" His face softened. "I know how disappointed you are," he said, "but a principle is at stake. One day, I promise, you will go to an international conference - and with honour, repre- senting your country." That encounter took place in 1945, but even today the wonder of it moves me. Reader's Digest. New Delhi, May 1991, pp. 29-30 برٹش گورنمنٹ کی طرف سے مجھے یہ دعوت دی گئی تھی کہ میں سان فرانسسکو میں ہونے والی ایک بین الاقوامی امن کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کروں۔ مگر ہماری سیاسی پارٹی کے قائد نے مجھ سے کہا کہ مجھ کو اس کانفرنس میں نہیں جانا چاہئے۔ ان کے نزدیک اس کی وجہ یہ تھی کہ ہماری پارٹی، آل انڈیا مسلم لیگ، اس کی پابند ہے کہ وہ ہندوستان کے برٹش حکمرانوں سے تعاون نہیں کرے لیگ کی ایک باضابطہ فرد کی حیثیت سے مجھ کو ایک سرکاری وفد کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔ میں اس کانفرنس میں جانے کی طرف راغب تھی۔ اس لئے میں نے کہا کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں جاؤں مگر وہاں میں سیاست کی بات نہ کروں۔ محمد علی جناح نے تیزی سے پوچھا کہ پھر اور کون سی بات تم وہاں کرو گی۔ کیا چاند پر انسان کے بارہ میں۔ اس کے بعد انھوں نے نرمی کے ساتھ کہا کہ میں

جانتا ہوں کہ اس سے تم کو کتنی زیادہ مایوسی ہوگی۔ مگر یہاں ایک اصول خطرہ میں ہے۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ایک دن تم ایک بین اقوامی کانفرنس میں جاؤگی اور عزت و وقار کے ساتھ اپنے ملک کی نمائندگی کرو گی ۔ مسٹر جناح کے ساتھ میرا یہ سامنا 1945 میں ہوا تھا، مگر آج بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو میرے اوپر اس کا عجیب تاثر ہوتا ہے۔ مذکورہ بین اقوامی کانفرنس امن کے موضوع پر ہورہی تھی۔ یہاں موقع تھا کہ عالمی شخصیتوں کے سامنے اسلام کی امن سے متعلق تعلیمات پیش کی جائیں۔ اس عالمی اسٹیج کو اسلام کے تعمیری پیغام کے اعلان کے لئے استعمال کیا جائے۔ مگر مسٹر محمد علی جناح کے ذہن پر سیاست کا اتنا غلبہ تھا کہ انہیں اس کے سوا کوئی اور قابلِ ذکر بات معلوم ہی نہ تھی۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایک عالمی کانفرنس میں اگر سیاست کی بات نہ کہنا ہو تو پھر اور کون سی بات ہے جو وہاں کہی جائے گی ۔ تاہم یہ صرف مسٹر جناح کا معاملہ نہیں، یہی موجودہ زمانہ کے تمام مسلم قائدین کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانہ کے ہر مسلم قائد کا یہ حال ہوا کہ وہ سیاسی محرک کے تحت اٹھا ۔ اس کی پوری سوچ سیاسی رخ پر چل رہی تھی۔ اس لئے اس کو سیاست کے سوا کوئی اور کرنے کا کام معلوم ہی نہ تھا۔ ہر ایک بس سیاست کے میدان میں اپنی سرگرمیاں دکھاتا رہا۔ سیاست کے باہر اس کو کوئی کام نظر نہ آیا جس میں وہ اپنے کو یا اپنے ساتھیوں کو مصروف کرے۔ دورِ جدید کے انقلاب نے ہمارے لئے جو سے بڑا میدان کھولا وہ اسلامی دعوت کا میدان تھا۔ اس دور میں پہلی بار مذہب پر آزادانہ غور وفکر کی فضا پیدا ہوئی۔ جدید حالات نے اس کو ممکن بنایا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے اہتمام میں مذہبی اور روحانی کانفرنس کریں، اور دوسرے مذاہب کے ساتھ اسلام کے نمائندوں کو بھی دعوت دیں کہ آپ وہاں آکر اسلام کی تعلیمات پیش کریں۔ جدید مواصلاتی ذرائع نے سفر کو اور پیغام رسانی کے عمل کو بے حد آسان بنا دیا۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانہ میں پہلی بار مذاہب کی آزادانہ تحقیق کی گئی۔ اس تحقیق نے خالص علمی اور تاریخی طور پر یہ ثابت کیا کہ تمام مذاہب سب غیر معتبر ہیں۔ مذاہب کی فہرست میں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو علمی طور پر ثابت شدہ اور تاریخی طور پر قابل اعتبار ہے۔

ایسی حالت میں مسلمانوں کو یہ کرنا تھا کہ وہ ہر دوسرے مسئلہ کو نظر انداز کرکے اسلام کے

پیغام رحمت کو تمام قوموں تک پہنچائیں۔ مگر مسلمانوں سے اس کے بالکل برعکس عمل کیا۔ انھوں نے اسلام کے پیغام رسانی کے کام کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ اور نام نہاد سیاسی جہاد میں ہر تن مشغول حتی کہ ان کا یہ حال ہوا کہ ان کے بڑے بڑے رہنماؤں تک کو شعور کے درجہ میں بھی اس کا احساس نہ رہا کہ اسلام کی دعوت بھی کوئی کام ہے جس کے لئے انھیں دوسری قوموں کے درمیان متحرک ہونا چاہئے۔ آج کوئی مسلم جماعت تو در کنار ، پوری مسلم دنیا میں کوئی قابلِ ذکر فرد بھی نہیں جس کو حقیقی طور پر دعوت الی اللہ کا شعور ہو، اور وہ اس اہم ترین کام میں فی الواقع اپنے آپ کو لگائے ہوئے ہو۔ حضرت یونس علیہ السلام نے دعوت الی اللہ کے معاملہ میں جزئی اور اجتہادی کوتاہی ہوئی تھی۔ اس کے نتیجہ میں وہ مچھلی کے پیٹ میں ڈال دئے گئے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے یہی کوتاہی مکمل طور پر اور بدترین طور پر کی ہے۔ یہ بلاشبہ اللہ کی ناراضگی کی بات ہے، چنانچہ موجودہ زمانہ میں پوری ملت مسلمہ مسائل کے پیٹ میں ڈال دی گئی ۔ مسائل کی مچھلی نے ان کو نگل رکھا ہے۔ یہ حالت کسی ایک ملک ہندوستان ، پاکستان، بلادِ عربیہ، اور دوسرے تمام علاقوں کے مسلمان مسائل کے شکنجہ میں گرفتار ان کی ہر کوشش اس کی شدت میں اضافہ کر رہی ہے، وہ اس میں کوئی کمی نہیں کرتی۔ " مسائل کی مچھلی" کے پیٹ سے نکلنے کی ایک ہی صورت ہے۔ مسلمان اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ وہ اللہ کی طرف رجوع ہوں۔ وہ دوسری قوموں کو حریف اور رقیب سمجھنے کا مزاج ختم کریں۔ وہ ان سے مدعو والا معاملہ کریں۔ وہ ان کے اوپر دعوت الی اللہ کی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ یہی مسائل کے پیٹ سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا راستہ نہیں، جو انھیں اس گرفتاری سے نجات دینے والا ہو۔

ارکانِ اسلام کیسٹ حقیقت ایمان ۲۔ حقیقت نماز ۳۔ ۴- حقیقت زکوۃ ۵۔ قیمت فی کیسٹ ۲۵ روپیہ

Printed page