پیغمبر کا طریقہ
Al-Risala, January 1991, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
قَالَ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ امام مسلم اپنی صحیح میں کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن ابی عمر نے کہا، ان حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ سے مروان فزاری نے بیان کیا، ان سے یزید بن کیسان نے كَيْسَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ان سے ابن ابی حازم نے اور ان سے ابو ہریرہ نے کہا کہ قَالَ - قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ مشرکوں کے قَالَ : اِنِّي لَمْ أُبْعَثُ لَعَّانًا وَ اِنَّمَا بُعِثْتُ خلاف بد دعا کریں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھ کو لعنت کرنے رَحْمَةً - والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ مجھ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے اصحاب پر ان کے دشمنوں نے جو مصیبتیں ڈالیں اور جو ظلم کیا وہ آج کے ظلم اور مصیبت سے بہت زیادہ تھا۔ حتی کہ مقدس صحابہ ان مظالم کو دیکھ کر کہہ اٹھے کہ ان کے خلاف بد دعا کی جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ذہن کی تصحیح کی۔ آپ نے فرمایا کہ ہمارا کام دنیا کو خدا کی رحمتوں کے سایہ میں داخل کرنا ہے نہ کہ ان کی ہلاکت اور بربادی کا سامان کرنا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ آپ کے خلاف لوگوں نے ظلم کیا، اس کے باوجود آپ نے ان کے ساتھ خیر خواہی کی۔ لوگوں نے آپ پر مصیبتیں ڈالیں، اس کے باوجود آپ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی اعلیٰ سلوک کا یہ نتیجہ تھا کہ آپ کو دنیا میں اعلیٰ ترین کامیابی حاصل ہوئی۔ قومیں آپ کے آگے جھک گئیں۔ ظلم اور سرکشی کرنے والے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے آپ کے ساتھی اور معاون بن گئے۔
مسلمانوں کو بھی اپنے پیغمبر کے اسی نمونہ پر عمل کرنا ہے۔ ہم کو اقوام عالم کا خیر خواہ بننا ہے، خواہ بظاہر وہ ہمارے ساتھ بد خواہی کریں۔ ہمیں لوگوں کے حق میں ہدایت کی دعا کرنا ہے، خواہ وہ ہمارے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کریں۔ ہمیں دوسروں سے محبت کرنا ہے، خواہ ہمیں دوسروں کی طرف سے نفرت و عداوت کا تجربہ ہو رہا ہو۔
یہی پیغمبر کا طریقہ ہے، اور پیغمبر کا طریقہ اختیار کرنے کے بعد ہی مسلمان خدا کی نصرتوں کے مستحق قرار پا سکتے ہیں جن کا وعدہ خدا نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ ان کے لیے کیا ہے۔
RNI 28822/76 January 1991 No. 170 Rs. 5 عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر مولانا وحید الدین خاں کے قلم سے تذکیر القرآن جلد اول Rs 150/- دین کی سیاسی تعبیر Rs 15/ حیات طیبہ 5/- جلد دوم 150/- دین کیا ہے 4/- باغ جنت 5/- اللہ اکبر 40/- قرآن کا مطلوب انسان 10/- نار جہنم 5/- پیغمبر انقلاب 35/- تجدید دین 15/- مذہب اور جدید چیلینج 40/- اسلام دین فطرت 5/- عظمت قرآن 25/- تعمیر ملت 5/- دین کامل 45/- تاریخ کا سبق 5/- الاسلام 35/- مذہب اور سائنس ظہور اسلام 35/- عقلیات اسلام 30/- اسلامی زندگی 25/- فسادات کا مسئلہ 4/- احیاء اسلام 20/- انسان اپنے آپ کو پہچان 4/- راز حیات (جلد) 55/- تعارف اسلام 4/- صراط مستقیم 35/- اسلام پندرہویں صدی میں خاتون اسلام 40/- راہیں بند نہیں 5/- سوشلزم اور اسلام 35/- ایمانی طاقت 5/- اسلام اور عصر حاضر 25/- اتحاد ملت 5/- حقیقت حج 30/- سبق آموز واقعات 5/- اسلامی تعلیمات 25/- زلزلہ قیامت 7/- اسلام دور جدید کا خالق 20/- حقیقت کی تلاش 5/- رسدیات پیغمبر اسلام 4/- تعمیر کی طرف آخری سفر 8/- راه عمل اسلامی دعوت 25/- 5/- تبلیغی تحریک خدا اور انسان 20/- 5/- میوات کا سفر حل یہاں ہے 30/- 5/- اقوال حکمت سچیراستہ 20/- 4/- تعبیر کی غلطی دینی تعلیم 45/- 5/- 5/- نمبر ۱ ایمان 25/- نمبر ۲ جدید امکانات 25/- نمبر ۳ اسلامی اخلاق 25/- نمبر ۴ اتحاد 25/- نمبر ۵ تعمیر ملت 25/- نمبر 6 سنت رسول 25/- نمبر میدان عمل 25/- نمبر پیغمبرانہ رہنمائی 25/- الرساله مجلد فی جلد 75/- God Arises Rs 60/- The Prophet of Revolution Religion and Science 30/- Tabligh Movement 20/- The Way to Find God 5/- The Teachings of Islam 6/- The Good Life 6/- The Garden of Paradise .6/- The Fire of Hell 6/- The Ideal Character 5/- Man Know Thyself! अपने आपको पहचान 3/- सच्चाई की तलाश 5/- مكتبه الرساله سی ۲۹ نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی ۱۱۰۰۱۳
مولانا وحیدالدین خان صدر اسلامی مرکز صدر اسلامی مرکز نہ ایک کہ مشتِ خاک دنیا کی اکثر برائیاں حسد سے پیدا ہوتی ہیں اور دنیا کی اکثر اچھائیاں فیاضی سے