ایک سفر
Al-Risala, October 1991, pp. 35–30
By Maulana Wahiduddin Khan
مئی 1991 کے آخری ہفتہ میں پٹنہ سے مسٹر ایم ٹی خان نے ٹیلیفون پر بتایا کہ پٹنہ کے الرسالہ ریڈرس فورم کی طرف سے یہ طے کیا گیا ہے کہ شہر میں ”الرسالہ سمپوزیم“ کے نام سے ایک اجتماع کیا جائے۔ یہ تجویز مجھے پسند آئی۔ میں نے فورا اس کی تائید کی۔ اس کے بعد چند بار ٹیلیفون پر مزید گفتگو ہوئی۔ آخر کار یہ طے پايا کہ پٹنہ میں ۲۸ جولائی 1991 کو الرسالہ سمپوزیم منعقد کیا جائے۔ پٹنہ کے ساتھیوں کی خواہش پر مزید یہ طے ہوا کہ میں بھی اس میں شرکت کروں۔
۲۶ جولائی 1991 کی شام کو نئی دہلی سے مگدھ ایکسپریس کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ اپنے کیبن میں داخل ہوا تو پہلا احساس یہ تھا کہ انڈیا کا فرسٹ کلاس باہر کے ملکوں کے سکینڈ کلاس سے بھی کمتر ہے۔ چھوٹے چھوٹے ملکوں، مثلاً سنگاپور اور کوريا میں آپ جائیں تو ہر طرف آپ کو یہ محسوس ہو گا کہ آپ ایک ترقی یافتہ ملک میں چل رہے ہیں۔ وہاں کی ہر چیز جدید معیار کے مطابق نظر آئے گی۔ مگر انڈیا میں کوئی بھی چیز جدید معیار ترقی کے مطابق نہیں۔
اس پسماندگی کی علامت وہ فقره تھا جو میرے ٹکٹ کی پشت پر لکھا ہوا تھا۔ وہ ہندی میں یہ تھا کہ ٹکٹ پر انکٹ پر ستھان سے میں پر یوز تن ہو سکتا ہے۔ اس کا ایک تجربہ مجھ کو یہ ہوا کہ مگدھ ایکسپریس جاتے ہوئے شاید اتفاقاً وقت پر پٹنہ پہنچ گئی۔ مگر واپسی میں یہی گاڑی دو گھنٹہ لیٹ ہو کر دہلی پہنچی۔ ملکوں میں اس قسم کی تاخیر نا قابل برداشت سمجھی جاتی ہے ، کیوں کہ وہ قومی دولت کے ضیاع کے ہم معنی مگر جہاں پانے کی تڑپ نہ ہو وہاں کھونے کا احساس بھی اپنے آپ ختم ہو جاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں فرانس تباہ ہو گیا تھا۔ مگر اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ تیز رفتار ٹرین فرانس میں ہے۔ جاپان کی بولیٹ ٹرین کے مقابلہ میں فرانس نے ٹی جی وی ٹرین بنائی ہے۔ ان ٹرینوں کی اوسط رفتار ۲۷۰ سے ۳۰۰ کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ ۱۹۸۱ میں پیرس اور لیونز کے درمیان اس تیز رفتار ٹرین نے ۴۰ ملین مسافر منتقل کئے اور ایک بھی ایکسیڈنٹ نہیں ہوا۔ فرانس ریلوے نے مسافر کے بغیر نوٹس کے طور پر ایک ٹرین پیرس اور تو رس کے درمیان چلائی۔ یہ ٹرین ۵۱۵ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل کر اپنی منزل پر پہنچ گئی۔ یہ رفتار بعض ہوائی جہازوں سے بھی زیادہ ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانس یورپ کا ایک کمزور ملک بن گیا تھا۔ اس کی ریلوے یورپ کی سب سے زیادہ ناقص ریلوے تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فرانس نے اپنے اوپر افریقہ کے مقبوضات (الجیریا وغیرہ) کا بوجھ لاد رکھا تھا جن کو وہ فرانس کا حصہ کہتا تھا۔ فرانس کے سابق صدر جنرل ڈیگال نے طے کیا کہ افریقی مقبوضات کو آزاد کر دیا جائے۔ ڈیگال کا یہ فیصلہ فرانس کے قومی وقار کے خلاف تھا۔ کہا کہ ڈیگال فرانس کو پست اور ذلیل کر دینا چاہتا ہے۔ ڈیگال نے ۱۹۷۰ میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا :
فرانس اس وقت ڈھلوان پر جا رہا ہے۔ میرا مشن یہ ہے کہ اس کو او پر اٹھاؤں، جب کہ دوسرے لوگ اس لئے چیخ پکار کر رہے ہیں کہ اس کو دوبارہ نیچے کی طرف دھکیل دیں (ٹائم میگزین ۱۵ جولائی ۱۹۹۱) ڈیگال نے اپنی نامقبولیت کا خطرہ مول لے کر افریقہ کے مقبوضات کو آزاد کر دیا۔ اس کے فوراً بعد فرانس ترقی کرنے لگا۔ آج فرانس دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے۔ ترقی کے لئے حال کی بے ترقی کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ اس قربانی کے بغیر کسی کو ترقی کا اعلی مقام حاصل نہیں مل سکتا۔
ٹرین کے ایک ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہمارے ملک کے جس پہلو کو دیکھا جائے اس پر پسماندگی کی چھاپ پڑی ہوئی نظر آئے گی۔ اس کا سبب بنیادی طور پر ایک ہے۔ اور وہ ملک کی یہ بدقسمتی ہے کہ ۱۹۴۷ میں جب ملک آزاد ہوا تو اس کی لیڈرشپ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں چلی گئی جوذ ہنی طور پر پوری طرح سوشلسٹ تھا۔ سابق وزیر اعظم جواہرلال نہر و آزادی سے پہلے اپنی آپ بیتی میں لکھ چکے تھے کہ ہمارے مسائل کا کوئی بھی حل اشتراکی نظام (Socialist order) کے سوا نہیں ہے، پہلے قومی دائرہ میں ، اور پھر ساری دنیا میں ، جس میں دولت کی پیدائش اور تقسیم ریاست کی نگرانی میں مفاد عامہ کے لحاظ سے کی جائے (آٹو بائیو گرافی ، لندن ۱۹۳۶ ، صفحہ ۵۲۳) جس اشتراکی نظام نے روس کو برباد کیا ، اسی نے انڈیا کو بھی برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
میرے ایک ہم سفر نے ۲۷ جولائی ۱۹۹۱ کا ہندی اخبار "آج" خریدا۔ میں نے دیکھا تو اس کے اندر کے صفحہ پر ایک مضمون تھا جس کا عنوان تھا: پنڈت نہرو بنام من موہن سنگھ۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ موجودہ وزیر مالیات نے کس طرح نہرو کی سابقہ اقتصادی پالیسی کو بدل کر اس کو بالکل دوسرے رخ پر ڈال دیا ہے۔ انڈیا ٹوڈے (۱۵ اگست) نے اس انقلابی واقعہ پر سرخی لگائی ہے کہ لائسنس راج کا خاتمہ (Ending the Licence Raj) ٹائم میگزین (۵ اگست) نے اس کے بارہ میں دو صفحہ کی رپورٹ چھاپی ہے اور اس کی سرخی یہ ہے :
After nearly a half-century of socialist controls, a new government ven- tures to catch the free-market winds sweeping the world. (p. 22)
کانگریس پارٹی کا ٹاڈنٹ ڈوی سلی سشن جنوری ۱۹۵۵ میں آوڈی (مدراس) میں ہوا تھا۔ موقع پر سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے تالیوں کی گونج میں یہ رزولیوشن منظور کروایا کہ ہندوستان میں سوشلسٹ طرز کا سماج (Socialistic pattern of society) بنایا جائے گا (نیشنل ہیرالڈ ۲ جنوری ۱۹۵۵)
اسی زمانہ میں راقم الحروف نے ۴۸ صفحہ کی ایک کتاب (ہندوستان کی منزل) شائع کی تھی ۔ اس میں بتایا تھا کہ سوشلزم ہمارے ملک کو تباہ کر دے گا۔ آج یہ الفاظ واقعہ بن چکے ہیں۔ اب موجودہ وزیر اعظم نرسمہا راؤ اس سوشلسٹ کھنڈر پر ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں اس کی کامیابی کے بارہ میں زیادہ پر امید رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ ۱۹۱۷ میں جب روس میں اشتراکی انقلاب آیا تو اس نے اتنے طاقت ور انداز میں اس کی فرضی خوبیوں کا پروپگنڈا کیا کہ ساری دنیا میں سوشلزم کا لفظ ترقی پسندی کا نشان بن گیا۔ مگر 75 سال بعد آج ہر شخص سوشلزم کو بربادی کا جیل خانہ سمجھ رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک نظر یہ لفظی طور پر انتہائی حسین ہونے کے باوجود عمل طور پر انتہائی حد تک تباہ کن ہو سکتا ہے۔ درمیان میں ایک چھوٹے اسٹیشن پر گاڑی رکی۔ حالاں کہ یہ اس کے رکنے کا اسٹیشن نہ تھا۔ منٹ بعد مقابل کی پٹری سے ایک اور ٹرین شور مچاتی ہوئی آئی اور آگے چلی گئی۔ معلوم ہوا کہ اس دوسری
ٹرین کو گزارنے کے لئے ہماری ٹرین روکی گئی تھی۔ یہی اس دنیا میں سفر کا قاعدہ ہے۔ یہاں ہر گاڑی کو دوسری گاڑی کے لئے راستہ دینا پڑتا ہے۔ جو گاڑی اس "رعایت" کے لئے تیار نہ ہو وہ خود بھی تباہ ہوگی اور دوسری گاڑی کو بھی تباہ کرنے کا ذریعہ بن جائے گی۔
یہی اصول انسانی زندگی کا بھی ہے۔ انسانی عمل کی شاہراہ پر بھی بیک وقت بہت سے انسان اپنا اپنا سفر طے کر رہے ہیں۔ یہاں بھی کسی کے لئے محفوظ سفر کی ضمانت صرف یہ ہے کہ جب بھی دوسرے کسی انسان سے ٹکراؤ کا اندیشہ ہو تو وہ فوراََ فریق ثانی کی رعایت کے مذکورہ اصول پر عمل کرتے ہوئے اس کو گزرنے کا جو آدمی ایسا نہ کرے وہ کبھی اپنی مطلوبہ منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔ گاڑی الہ آباد پہنچی تو ، ۴ جولائی کی صبح نمودار ہو چکی تھی۔ اس سے پہلے چاروں طرف تاریکی کا غلاف پڑا ہوا تھا۔ اب چاروں طرف روشنی کی بہار نظر آنے لگی۔ کیسی عجیب ہے یہ دنیا جو اللہ تعالیٰ نے بنائی اور پھر اس کو انسان کی تحویل میں دے دیا۔ کوئی ہے جو اللہ کا شکر ادا کرے۔ ایک صاحب نے کہا کہ خدا نے ہم کو پیدا کر کے ہم کو جنت دوزخ کے جھنجھٹ میں کیوں ڈالا۔ نے ہم کو پیدا ہی نہ کیا ہوتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اوپر اللہ کے بے شمار احسانات ہیں اور سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے انسان کے لئے ابدی جنت کے حصول کے امکانات کھول دئے۔ نے انسان کو غیر موجود سے موجود کیا۔ اس کو حیرت انگیز صلاحیتیں عطا کیں۔ اور پھر اس کو احساس لذت دیا جو ساری کائنات میں انتہائی نادر چیز ہے۔ اور اسی کے ساتھ اس نے ایک ابدی لذت گاہ (جنت) اللہ نے اس ابدی لذت گاہ کی ایک انتہائی وقتی قیمت مقرر کی۔ اس نے کہا کہ جو شخص موجودہ دنیا کی مختصر مدت میں حالت غیب میں خدا کا اعتراف کرے گا اور کسی مجبوری کے بغیر خود اپنے اختیار سے اس کے آگے جھک جائے گا، اس کو موت کے بعد اس ابدی لذت گاہ میں بسنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ کتنی بڑی چیز کی کتنی چھوٹی قیمت ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ صدیاں گزر گئیں اور آدمی اس جہان لذت کو پانے کا شوق نہ کر سکا۔
آخرت کی اس دنیائے لذت کو پانے کا موقع انسان کو صرف ایک بار ملا ہے۔ اس کے بعد یہ موقع ابدی طور پر ختم ہو جائے گا۔ مگر اس واحد قیمتی موقع کو انسان انتہائی بے دردی کے ساتھ کھو رہا ہے۔ کیسا عجیب ہے وہ انسان جو سب سے بڑی نعمت کے ساتھ سب سے بڑی بے اعتنائی کرے۔
مسٹر مہیش گوپ (Mahesh Gope) میرے ہم سفر تھے۔ ان کا تعلق ائرفورس سے ہے۔ دہلی میں ائرفورس کے ہیڈ کوارٹر میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار وہ ایک نیتا کے ساتھ سفر کر رہے اتفاق سے نیتا صاحب کے کچھ نوٹ گم ہو گئے۔ وہ دوسرے مسافر پر شبہ کرنے لگے۔ مسٹر مہیش گوپ نے تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ خود نیتا جی کی غفلت سے نوٹ پھسل کر سیٹ کے نیچے چلے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی کوئی بات بگڑے تو آپ اپنے آپ کو بلیم دیجئے۔ ہمارے سماج میں ساری خرابی اسی سے آئی ہے کہ آدمی فور اًدوسرے کو بلیم دینے لگتا ہے۔
دلدار نگر اسٹیشن پر گاڑی رکی تو اچانک پلیٹ فارم پر نعرہ تکبیر، اللہ اکبر۔ نعرہ رسالت، محمد رسول اللہ کی آوازیں آنے لگیں۔ معلوم ہوا کہ ایک صاحب حج کر کے آئے ہیں اور اسی ٹرین سے یہاں حاجی صاحب کے استقبال کے لئے بہت سے مسلمان پلیٹ فارم پر جمع تھے۔ جیسے ہی حاجی صاحب اپنی بوگی سے باہر آئے، مسلمانوں کے نعروں سے پلیٹ فارم گونج اٹھا۔ میں نے سوچا کہ خدا اور رسول کا نام صحابہ کرام کے لئے ”عمل“ کا عنوان تھا، موجودہ مسلمانوں کے لئے وہ ”نعرہ“ کا عنوان بن گیا ہے۔ یہی وہ اصل خرابی ہے جس کی بنا پر آج یہ حالت ہو رہی ہے کہ دین کے مظاہر تو مسلمانوں کے یہاں خوب ہیں مگر دین کی حقیقت کا ان کے یہاں کوئی وجود نہیں۔ ایک رات اور آدھا دن ٹرین میں گزارنے کے بعد 27 جولائی کی دوپہر کو پٹنہ پہنچا۔ جو ساتھی اسٹیشن پر موجود تھے ان میں سے ایک صاحب کالی وردی میں تھے۔ ان کے کوٹ پر ریلوے سروس کا بِلا لگا ہوا تھا۔ اسٹیشن پر ان کے دفتر کے کمرہ میں کچھ وقت گزارنے کے بعد ہم لوگ عدالت گنج کے لئے روانہ ہوئے جہاں مسٹرا یم ٹی خان کے مکان پر مجھے قیام کرنا تھا۔ شام کو ایک صاحب ملنے کے لئے آئے۔ وہ سفید کپڑے میں ملبوس تھے۔ میں ان کو پہچان نہ سکا ۔ انھوں نے بتایا کہ میں وہی ہوں جو ریلوے اسٹیشن پر آپ سے ملا تھا۔ لباس کے فرق کی بنا پر ان کو پہچاننے میں مجھے مشکل ہوئی۔ یہ ایک سادہ انسانی تجربہ ہے۔ مگر اسی قسم کے تجربہ کی مضمون بندی کر کے شاعر نے اس سے وحدت وجود کا مسئلہ نکال لیا اور کہا :
بہ رنگے کہ خواہی جامه می پوش من انداز قدت را می شناسم ایک شخصیت کا مختلف لباس پہننے کے باوجود ایک رہنا، بجائے خود ایک واقعہ ہے۔ مگر اس مثال
سے یہ الہیاتی نظریہ اخذ کرنا صحیح نہیں کہ ظاہری پیکر خواہ کتنے ہی مختلف ہوں، سب کے اندر ایک ہی عظیم ہستی چھپی ہوئی ہے۔
میرا طریقہ ہے کہ جب مجھے کسی مقام کا سفر کرنا ہوتا ہے تو اس مقام کے بارے میں کتابوں سے معلومات حاصل کرتا ہوں۔ چنانچہ پٹنہ کے بارے میں مختلف کتابیں دیکھیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) میں پٹنہ کے بارے میں ایک صفحہ کا مضمون ہے۔ اس کے لکھنے والے پروفیسر پرویناتھ پوری ہیں۔ یہ شہر، 487ق م میں پاٹلی پتر کے نام سے آباد کیا گیا۔ پھر وہ پاتن بنا اور آخر میں پٹنہ ہو گیا۔ مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ پٹنہ کی تاریخ کے بارے میں ساتویں صدی سے لے کر 1541 تک کچھ معلوم نہیں۔ ہے، جب کہ افغان حکمران شیر شاہ سوری نے پٹنہ کے نام سے دوبارہ اس کی بنیاد ڈالی: Nothing is known of its history from the 7th century untill 1541, when it was refounded as Patna by the Afghan ruler Sher Shah. (13/1076)
شیر شاہ سوری نے تقریبا نو سو سال بعد پٹنہ کو از سر نو آباد کیا۔ مگر اس نے اس شہر کا نام شیر آباد نہیں رکھا بلکہ پٹنہ رکھا۔ لیکن بعد کو اور نگ زیب (وفات ۱۷۰۷) آیا تو اس نے پٹنہ کا نام اپنے پوتے عظیم کے نام پر عظیم آباد رکھ دیا۔ حالاں کہ اس کے بعد 1765 میں یہ شہر ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضہ میں جا کر دوبارہ پٹنہ بن جانے والا تھا۔ اور خود شہزادہ عظیم کے لئے مقدر تھا کہ وہ تاریخ کے اندھیرے میں گم ہو کر رہ جائے۔ پٹنہ میں شہری اعتبار سے جو کچھ میں نے دیکھا اس کی نمائندگی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ایس کے سنہا کے ایک مضمون سے ہوتی ہے۔ یہ مضمون ٹائمس آف انڈیا کے پٹنہ ایڈیشن (۲۸ جولائی ۱۹۹۱) میں چھپا تھا۔ اور اس کا عنوان تھا — پٹنہ نراش کا شہر: