Patna: The City of Despair
Al-Risala, October 1991, pp. 30–36
By Maulana Wahiduddin Khan
مضمون میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ صدی کے نصف اول میں پٹنہ کی آبادی تقریبًا ایک لاکھ تھی۔ اب اس کی آبادی ایک ملین سے اوپر ہے۔ اسی نسبت سے انتظامی سروسوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ورک کلچر (work culture) پیدا نہ ہونے کی بنا پر شہر گندگی، اور بدعنوانی کا اڈہ بنا ہوا ہے۔ پٹنہ کی سڑکوں پر ٹریفک جام ہونا ایک معمول کا واقعہ بن چکا ہے۔ سڑکوں پر گندگی شاید ملک کے تمام شہروں سے زیادہ ہے۔ اس قسم کی تفصیلات دیتے ہوئے مضمون نگار نے لکھا تھا کہ پہلے یہ حال تھا کہ
گایوں اور بھینسوں کو سڑکوں پر پھرنے اور گندگی کرنے کی اجازت نہ تھی۔ مگر اب حالات مختلف ہیں۔ مذہبی اور سیاسی اسباب سے ہم گایوں اور بھینسوں کو سڑکوں پر گھومنے سے نہیں روک سکتے: Today for religious and political reasons we may not object to cows and buffaloes having the run of the city. شہری انتظام اور تمدنی امور کو سائنسی تحقیقات کے تابع ہونا چاہئے نہ کہ مذہبی عقائد کے تابع۔ بھی ان چیزوں کو مذہبی عقیدہ کے تابع کیا جائے گا، انسانی دنیا میں وہی خرابیاں پیدا ہوں گی جس کا ایک چھوٹا سا نقشہ اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔
روز نامہ قومی آواز دہلی، لکھنؤ اور پٹنہ سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۹ جولائی ۱۹۹۱ میں صفحہ اول پر ایک تصویر ہے جس میں ایک امتحان کا منظر دکھایا گیا ہے۔ طلبہ کی نصف تعداد میز پر ہے اور بقیہ نصف زمین پر بیٹھی ہوئی نقل کرنے میں مصروف ہے۔ پاس ہی دو پولیس مین اور چند نگراں کھڑے تصویر کے نیچے یہ الفاظ درج ہیں : بدھ کو پٹنہ کے ایک مقامی مرکز پر امتحان کے دوران انٹڑ کے طلبہ پولیس اور نگران کی موجودگی میں کھلے عام نقل کرتے ہوئے تصویر : یو این آئی) امتحان میں نقل کرنے کا مرض بہت سی دوسری ریاستوں میں بھی ہے۔ مگر کہا جاتا ہے کہ بہار میں یہ رواج سب سے زیادہ ہے ۔ ہندوستان میں بیشتر لوگ پڑھتے نہیں ، اور جو لوگ پڑھتے ہیں وہ نقل کر کے امتحان پاس کرنا چاہتے ہیں۔ اس بد مذاقی نے علم کا معیار اتنا زیادہ گرا دیا ہے کہ اب پڑھے ہوئے اور بغیر پڑھے ہوئے انسان میں بہت زیادہ فرق باقی نہیں رہا۔
۳۰ جولائی ۱۹۹۱ کو بہار و دھان سبھا نے ایک عجیب قسم کا بل پاس کیا۔ اس کا نام ہے ــ Bihar Bhoodan Yagya (Amendment) Bill 1991 اس قانون کا تعلق اس پندرہ لاکھ ایکڑ زمین سے ہے جس کو اچاریہ و نو با بھاوے ( ۱۹۸۲- ۱۸۹۵) نے لوگوں سے دان (عطیہ) کے طور پر حاصل کیا تھا۔ ابتدائی قانون میں اچاریہ و نو با بھاوے کا نام شامل تھا مگر موجودہ ترمیمی قانون میں کسی "ٹیکنکل" سبب سے ان کا نام حذف کر دیا گیا ہے۔
میں نے بہار کے بارہ میں مختلف اخباروں میں نہایت سخت رپورٹیں پڑھیں۔ بہار میں کرپشن اپنی انتہا پر ہے: مجرمین سیاسی لیڈر بنے ہوئے ہیں۔ پوری ریاست فنکشننگ انار کی کا منظر پیش
کر رہی ہے ۔ ریاستی حکومت کے لئے زیادہ ضروری تھا کہ وہ ریاست سے بدعنوانی کو حذف کرے، ایک کاغذی دستاویز سے ونوبابھاوے کا نام حذف کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
بہار میں لوک سبھا کی 54 سیٹیں ہیں ۔ ان میں سے بیشتر سیٹیں جنتا دل اور اس کے اتحادیوں کو ملی ہیں ، جنتا دل کی ۲۸ سیٹ ہے، اس بار لوک سبھا کے دسویں الیکشن میں کانگریس کو بہار میں صرف ایک سیٹ مل سکی۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ یہاں کے مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر جنتا دل کو ووٹ دیا۔ ایک سیاسی مبصر جی ایس راج ہنس کا آرٹیکل (ہندوستان ٹائمس (22 جولائی ۱۹۹۱) میں چھپا اس کا عنوان ہے ۔ بہار میں کانگریس کا اتنا برا حال کیوں ہوا :
(Why Congress did so badly in Bihar)
اس آرٹیکل میں کانگریس کی ہار کا ایک سبب یہ بتایا تھا کہ جنتا دل کے لیڈر اور چیف منسٹر لالو پرشاد یادو نے بڑی چالاکی سے مسلم کارڈ کھیلا۔ انہوں نے ایل کے اڈوانی کی رتھ یاترا بہار میں روک دی اس سے پہلے کہ وہ یوپی میں داخل ہو ۔ اس طرح انھوں نے سارے ملک میں مسلمانوں کی احسان مندی حاصل اس کے بدلے میں بہار کے مسلمان ایک طرف سے لالو پرسا داور ان کی پارٹی کی طرف چلے گئے جب کہ الکشن کا اعلان ہوا :
Mr Laloo Prasad Yadav played the Muslim card very deftly. He stopped Mr Advani's Rath Yatra in Bihar before it could enter UP and thus earned the gratitude of the Muslims all over the country. In turn, the Muslims of Bihar went all out for Mr Laloo Prasad Yadav and his party when the elections were announced. رتھ یاترا کے روکنے یا نہ روکنے کا کچھ بھی تعلق مسلمانوں کے حقیقی مسائل سے نہیں ہے۔ تمام تر صرف ایک جذباتی مسئلہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ”مسلم کارڈ “ کا تصور ہی مسلمانوں کی بے شعوری کی زمین پر پیدا ہوا ہے۔ اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ مسلمان اگر اس معاملہ میں حساس ہو جائیں کہ ہمیں سد فی صد تعلیم یافتہ بننا ہے ۔ ہم کو جدید صنعتوں میں آگے بڑھنا ہے ۔ ہمیں اپنی ایک اعلی صحافت پیدا کرنا اگر مسلمانوں کی حساسیت اس طرح کے امور میں ہو تو لیڈروں کے لئے یہ امکان ہی ختم ہو جائے گا کہ وہ الکشن کے موقع پر کوئی شعبدہ دکھا کر مسلم کارڈ کا کھیل کھیلیں۔ مسلم کارڈ صرف اس وقت ممکن
ہوتا ہے جب کہ قوم ظاہر فریب الفاظ پر خو ش ہوتی ہو۔ حقیقی اور واقعی عمل پر خوش ہونے والے کبھی کسی کے ہاتھ میں اس قسم کا کارڈ نہیں بنتے۔
۲۷ جولائی کی شام کو پٹنہ کے اردو لائبریری ہال میں پریس کانفرنس ہوئی۔ اردو، ہندی، انگریزی اخبارات کے نمائندے موجود تھے۔ میں نے اپنے ابتدائی خطاب میں کہا کہ ہمارا مشن فکری بیداری (intellectual awakening) ہے۔ انڈیا ۱۹۴۷ء میں آزاد ہو گیا۔ مگر تقریباً پچاس سال کے بعد بھی وہ اب تک ایک ترقی یافتہ ملک نہ بن سکا۔ یہاں کے مسائل گھٹنے کے بجائے اور زیادہ بڑھ اس کی وجہ یہی ہے کہ سیاسی آزادی تو حاصل کر لی گئی مگر افراد کے اندر تعمیر شعور کا کالم بالکل نہیں کیا گیا۔ اس سلسلہ میں مختلف تفصیلات دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ذہنی تعمیر کا کام مسلسل اور متواتر عمل چاہتا ہے۔ مگر اس نوعیت کی کوئی کوشش ہمارے یہاں ابھر نہ سکی۔ اخبارات یہ کام کر سکتے ہیں۔ ہمارے اخبارات کا یہ حال ہے کہ تمام اخبارات کے اوپر سیاست جیسے موضوعات چھائے رہتے ہیں۔ تعمیری موضوعات کے لئے ان کے یہاں کوئی کام نہیں۔
میرے ابتدائی خطاب کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔ بابری مسجد سے متعلق سوال کے سلسلہ میں میں نے کہا کہ اس کا حل میرے نزدیک وہی ہے جس کو میں نے نہ صرف اپنے میگزین میں شائع کیا ہے بلکہ مشتر کہ میٹنگوں میں پیش کیا ہے اور ہندوستان ٹائمس وغیرہ میں بھی اس کو شائع کرایا ہے۔ یہ ہے کہ مورخین کے ایک بورڈ کو بطور ثالث مقرر کیا جائے اور وہ جو فیصلہ کریں اس کو دونوں فریق بلا بحث مان لیں۔
اگلے دن صبح کو مقامی اردو، ہندی اور انگریزی اخبارات میں اس پریس کانفرنس کی رپورٹ ٹائمس آف انڈیا (۲۸ جولائی) نے اپنی رپورٹ کی سرخی میں بورڈ والی تجویز کو نمایاں کیا اور ان الفاظ میں اس کی سرخی قائم کی:
(Historians should resolve Ayodhya issue)
ہندوستان ٹائمس (۲۸ جولائی) نے دوسری باتوں کے علاوہ اس تنقید کا بھی ذکر کیا جس کی زد خود اس کے اپنے اوپر بھی پڑتی تھی۔ اس نے لکھا کہ مولانا نے اخباروں سے اپیل کی کہ وہ انسانی دلچسپی کے واقعات کو نمایاں کریں اور ان کو نصیحت کی کہ وہ صرف سیاست میں گم ہو کر نہ رہ جائیں:
The Maulana called upon the media to highlight human-interest stories and exorted it not to remain obsessed only with politics ۲۸ جولائی کو ڈاکٹر عبدالحی کمرشل کامپلیکس میں درس قرآن کا پروگرام تھا۔ نے جدید طرز پر ایک وسیع بلڈنگ بنائی ہے جو کئی منزلہ ہے۔ اس کی تیسری منزل پر ایک خوبصورت ڈاکٹر صاحب کا یہ عمل ایک نمونہ ہے جو بہت سے دوسرے لوگوں کے لئے قابل تقلید ہے۔ شاعر نے کہا تھا :
خانه شرع خراب است که ارباب صلاح در عمارت گریٔ گنبد اسلاف خود اند مگر ڈاکٹر عبدالحی صاحب نے اپنا گنبد بنانے کے ساتھ خانہ شرع بنانے کی نہایت عمدہ مثال قائم کی ہے۔ اس مسجد میں ہفتہ وار درس کا باقاعدہ نظام قائم ہے۔ میں نے اپنے درس میں قرآن کی اہمیت اور عظمت پر کچھ باتیں عرض کیں ۔ اس کا ٹیپ ان لوگوں کے پاس موجود ہے۔ دوسرے تمام پروگر اموں کا بھی ٹیپ لیا جاتا رہا۔
۲۸ جولائی کی شام کو ایک پر وگرام سنہا انسٹی ٹیوٹ (اے این سنہا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اسٹڈیز) میں رکھا گیا تھا۔ یہ اجتماع ڈاکٹر ڈی ڈی گرو کی صدارت میں ہوا۔ اس کا عنوان تھا : اسلام اور بقاء باہم (Islam and co-existence) اجتماع میں تقریباً ۵۰ فیصد ہندو اور ۵۰ فیصد
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ انسانوں کے درمیان پر امن باہمی بقا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ ان کے پاس عمل کے لئے پر امن طریق کار ہو۔ اس کے بعد میں نے بتایا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام قوموں میں اپنے عمل کے لئے صرف تشدد دانہ طریقہ (وائلنٹ میتھڈ) کا پیغمبر اسلام نے تاریخ میں پہلی بار غیر متشددانہ طریقہ (نان وائلنٹ میتھڈ) لوگوں کے سامنے پیش کیا اور اس پر عمل کر کے دکھایا کہ پر تشد د طریق کار کے مقابلہ میں بے تشد د طریق کار زیادہ مفید اور زیادہ کار آمد ہے۔ اس سلسلہ میں سیرت کی بہت سی مثالیں پیش کیں۔ آخر میں سوال و جواب ہوا اور صدر کی اختتامی تقریر پر کارروائی ختم ہوئی۔
۲۸ جولائی کی شام کو ڈاکٹر عبدالحی کمرشل کامپلیکس کے ہال میں دوبارہ ایک پر وگرام ہوا۔
اس کا عنوان تھا " اسلام اور عصری چیلنج۔ مسٹر ایل دیال آئی اے ایس (سابق چیف سکریٹری ) نے اور جناب محمد شفیع قریشی گورنر بہار نے خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ جدید سائنس اور جدید علوم کی بنیاد پر اسلام کے لئے جو فکری چیلنج پیدا ہوا وہ اسلام کے لئے کوئی مخالف انقلاب نہ تھا بلکہ ایک مددگار انقلاب تھا۔ طرح برسات کے ساتھ کیچڑ آتی ہے۔ اسی طرح اس مفید انقلاب کے ساتھ کچھ نا خوش گوار باتیں بھی مگر مسلم دانشورا ور رہنما اس کے نا خوش گوار پہلوؤں میں الجھ کر رہ گئے، وہ اس کے مفید پہلو کو اسلام کے حق میں استعمال نہ کر سکے۔ مختلف مثالوں کے ذریعہ اس کو واضح کیا۔ ۲۹ جولائی کی صبح کو ایوب گرلز کالج میں خواتین اور طالبات سے خطاب کا پروگرام تھا۔ عنوان تھا " اسلام اور خواتین " میں نے سادہ انداز میں بتایا کہ اسلام نے عورت کو کتنا زیادہ عزت اور احترام کا مقام دیا ہے۔ اور یہ کہ اسلام کے دائرہ میں رہ کر عورت انتہائی بڑے بڑے کام کر سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں نے حضرت ہاجرہ کی مثال تفصیل کے ساتھ پیش کی اور کہا کہ کسی شخص کا یہ قول سب سے زیادہ جس خاتون پر صادق آتا ہے وہ حضرت ہاجرہ ہیں : There is a woman at the beginning of all great things. ایوب گرلز کالج کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس کے منتظمین کی یہ بات مجھے بہت پسند آئی کہ وہ لوگ غریب خاندان کی لڑکیوں کو خصوصی طور پر اپنے یہاں داخلہ دیتے ہیں اور ان کی طرح مدد کرتے ہیں تاکہ وہ تعلیم یافتہ ہو کر اپنے خاندان کے معیار کو بلند کر سکیں۔ چنانچہ اس کالج میں تقریباً ۵۰ فیصد طالبات غریب خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
پٹنہ میں مجموعی طور پر تقریری پروگرام ہوئے ۔ ہر پروگرام میں امید سے زیادہ تعلیم یافتہ افراد نے شرکت کی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ پٹنہ میں الرسالہ کی دعوت اللہ کے فضل سے کافی پھیل قومی اشو اور " اسلام خطرہ میں " جیسے نعروں پر بھیڑ جمع کرنا بہت آسان ہے۔ مگر اقر المروف کے پروگراموں میں جو لوگ جمع ہوئے وہ الرسالہ کے تعمیری مشن کے نام پر جمع ہوئے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ مشن کی آواز اب لوگوں کے درمیان بذات خود ایک مؤثر اور قابل لحاظ آواز بن چکی ہے۔
مسٹر ایم ٹی خان (کنوینر) نے کہا کہ ۱۹۸۶ میں جب ہم لوگوں نے آپ کو پٹنہ بلایا تھا، ہمارا پہلا اس سے ہم نے کئی سبق لئے۔ چنانچہ موجودہ سفر میں ہم نے تین نئے پروگرام رکھے ۔ پریس کانفرنس ۔ دوسرے غیر قارئین الرسالہ سے اپروچ کرنا ، مسلم اور غیر مسلم دونوں سے۔ نے انہیں ہندی، انگریزی اور اردو الرسالہ دے کر آبزرور کی حیثیت سے سمپوزیم میں آنے کی دعوت دی ۔ تیسرا پروگرام عورتوں میں خطاب کا انتظام تھا۔ دعوت نامہ کو بھی انھوں نے تعارف کے طور پر استعمال کیا۔ چنانچہ اس موقع پر جو دعوت نامہ چھپا گیا اس کی پشت پر الرسالہ مشن کے سات اہم نکات لکھے ہوئے تھے۔ ایک یہ تھا :
مذکورہ اجتماعات میں کچھ سوالات کیے گئے جن کا جواب دیا گیا۔ میری قیام گاہ پر بھی پٹنہ اور پٹنہ کے باہر کے افراد برابر آتے رہے۔ ان سے سوال و جواب کی صورت میں گفتگو جاری ان سب کو سمپوزیم کے سوال و جواب کے ساتھ یکجا طور پر درج کیا جا رہا ہے۔ تا ہم خواہ وہ سوال و جواب کا معاملہ ہو یا تقریر کا معاملہ، ان کی کامیابی کے لئے سب سے زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ سامع ایک تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت رکھتا ہو۔ کا ذہن تیار نہ ہو تو بولنے والے اور سننے والے کے درمیان ایک فکری بعد (intellectual gap) پیدا ہو جاتا ہے۔ اور جہاں فکری بُعد پایا جائے وہاں کسی کو کچھ سمجھانا انتہائی مشکل ہے (لقمان ۷) مثلاً اگر کوئی شخص فخر کی نفسیات میں جی رہا ہو تو تواضع کی بات اس کے لئے قابل فہم نہیں ہو سکتی۔ کوئی شخص ظلم کی اصطلاحوں میں سوچنے کا عادی بن گیا ہو تو چیلنج کی اصطلاح میں سوچنا اس کے لئے سخت دشوار ہو گا۔ کوئی شخص اپنے بڑوں کو تنقید سے بالا تر سمجھ لے تو وہ اس پر راضی نہیں ہو سکتا کہ اپنے بڑوں کے کسی اقدام کو غلط ٹھہرائے۔ جہاں متکلم اور سامع کے درمیان اس قسم کا فرق ہو وہاں متکلم کی بات سامع کے لئے اجنبی بن جائے گی ۔ اس کے لئے متکلم کی بات کو سمجھنا اسی طرح ناممکن ہو جائے گا جس طرح ایک اردو داں کے لئے روسی یا جاپانی کلام کو سمجھنا۔