Working for Time was always on my wish list.
Al-Risala, November 1991, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر آدمی کسی چیز کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہے۔ وہ اس کی تمنا میں جیتا ہے۔ وہ اس کا خواب اس کے صبح و شام اس کی یادوں میں گزرتے ہیں۔ وہ اس انتظار میں رہتا ہے کہ کب وہ دن آئے جب کہ وہ اپنی اس محبوب چیز کو پالے۔ یہ چیز اس کی فہرست آرزو میں سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ درج ہوتی ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جس کے لیے کوئی نہ کوئی چیز اس طرح مرکز تمنا بنی ہوئی نہ ہو ۔
مومن وہ ہے جس نے جنت کو اپنی فہرست آرزو (وش لسٹ) میں لکھ رکھا ہو۔ معیاری نعمتوں کی وہ دنیا جہاں وہ اپنے رب کو دیکھے گا۔ جہاں سچے انسانوں سے اس کی ملاقات ہوگی۔ جہاں وہ خدا کی رحمتوں کے سایہ میں زندگی گزارے گا۔ وہ دنیا جو لغو اور تاثیم سے پاک ہوگی۔ صحب اور نصب کو ختم کر دیا جائے گا۔ جس کا ماحول چاروں طرف حمد اور سلامتی سے بھرا ہوا ہوگا۔ خوف اور حزن کو حذف کیا جا چکا ہوگا۔ جہاں ایسی آزادی ہوگی جس پر کوئی قید نہیں۔ لذتیں ہوں گی جن کے ساتھ محدودیت شامل نہیں ۔
جب کسی شخص پر زندگی کی حقیقت کھلتی ہے تو وہ یہ بھی جان لیتا ہے کہ اس کے لیے سب سے بڑی چیز وہ جنت کا حریص بن جاتا ہے۔ اور جنت اسی کے لیے ہے جو حرص کے درجہ میں جنت کا طلبگار بن گیا ہو۔