Al-Risala · November 1991

حکمت کی بات

Al-Risala, November 1991, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

کانگریس کے صدر نرسمہا راؤ (P. V. Narasimha Rao) کا ایک انٹرویو ٹائمس آف انڈیا (یکم جون 1991) میں چھپا ہے ۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندستانی سماج مختلف قومیتوں کا مشترک سماج ہے ۔ اور اس سماج کے ہر جزء کو آزادی اور برابری کے ساتھ رہنا چاہیے۔ ہندوستان میں رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے ، وہ یہ کہ مل جل کر رہا جائے: We have a plural society and all segments of the society should exist in freedom and equality. The only way to exist in India is to co-exist. یہ نہایت صحیح اور درست بات ہے۔ مگر اس کا تعلق صرف ہندستانی سماج سے نہیں ہے ، بلکہ دنیا کے ہر سماج سے ہے۔ یہی طریقہ پاکستان اور افغانستان کے لیے بھی صحیح ہے اور یہی طریقہ یورپ اور امریکہ کے لیے بھی ۔ چاہے ایک خاندان کا معاملہ ہو یا پوری زمین کا معاملہ ، اس دنیا میں زندہ رہنے کی یہی واحد صورت ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے زندگی گزاری جائے ۔ اگر برداشت اور رواداری (ٹالرنس) کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے تو اس زمین پر نہ ایک خاندان بن سکتا اور نہ ایک ملک ۔

اس دنیا میں اختلاف کا موجود ہونا اتنا ہی فطری ہے جتنا خود انسان کا موجود ہونا ۔ انسان ہوں گے وہاں اختلاف ہو گا ، خواہ یہ انسان ایک مذہب اور کلچر کے ہوں یا کئی مذہب اور کلچر کے ۔ ایسی حالت میں انسان کو دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہے ۔ یا تو وہ اختلاف کو برداشت کرے یا اختلاف کو برداشت نہ کرکے دوسروں سے ہمیشہ لڑتا جھگڑتا رہے ۔ ہمارے لیے انتخاب کا موقع اختلاف اور بے اختلاف میں نہیں ہے ۔ بلکہ اختلاف کو برداشت کرنے یا اختلاف کو برداشت نہ کرکے مرجانے میں ہے ۔ اگر ہم زندگی چاہتے ہیں تو وہ صرف اختلاف کو برداشت کرنے ہی میں مل سکتی ہے ۔ اس کے بعد دوسرا جو امکان ہے وہ لڑکر اپنے کو برباد کر لینے کا ہے ۔ اس کے سوا کسی تیسرے انتخاب کا ہمارے لیے موقع نہیں ۔

Printed page