Al-Risala · November 1991

تنقید ضروری

Al-Risala, November 1991, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

دور اول میں جن محدثین نے حدیث کے راویوں کی جانچ کی اور فن رجال بنایا، وہ حدیث کے راویوں پر کھلی تنقید کرتے تھے۔ ان کی تنقید اتنی سخت ہوتی تھی کہ لوگ ان پر غیبت اور کردار کشی کے الزام لگانے لگے۔ مگر انھوں نے اپنی تنقید نہیں چھوڑی۔ ان کی یہ تنقیدیں آج بھی اسماء الرجال کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ محدثین نے اس قسم کی تنقید صرف راویوں کے بارہ میں کی۔ عام انسانوں کے بارہ میں انھوں نے کبھی اس قسم کی تنقید نہیں کی۔

ان بڑے بڑے محدثین نے ایسا کیوں کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر شخص جو یہ کہتا تھا کہ ” قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ وہ گویا ترجمان اسلام ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا۔ اور جب بھی کوئی شخص ترجمانِ اسلام یا شارح دین کے مقام سے بولے تو اس کی سخت ترین جانچ کی جائے گی۔ اس معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی مطلق پروا نہیں کی جائے گی یہ کام بہر حال کیا جائے گا، خواہ اس کی جو بھی قیمت دینی پڑے۔ کیونکہ عام انسان صرف ایک انسان ہے، اور راوی عین اپنے دعوے کے مطابق، نمائندہ اسلام۔ موجودہ پریس کے دور میں بہت سے لوگ ابھرے ہیں جن کو ” مفکر اسلام “ کہا جاتا ہے۔ دین کی تفسیر و تشریح کر رہے ہیں۔ وہ ” اسلام کیا ہے “ کا جواب دے رہے ہیں۔ ایسا کوئی شخص باعتبار حیثیت، عین اسی مقام پر آ جاتا ہے جس مقام پر قدیم راویانِ حدیث نے اپنے آپ کو کھڑا کیا تھا۔ لیے لازم ہے کہ ان کا مکمل جائزہ لیا جائے تا کہ یہ معلوم ہو کہ ان کی تشریح دین معتبر ہے یا غیر معتبر۔ قدیم راویانِ حدیث کی جرح میں زیادہ تر ان کی شخصی اہلیت کا جائزہ لیا جاتا تھا۔ تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ وہ ثقہ ہیں یا غیر ثقہ۔ مگر موجودہ مفکرین اسلام کے سلسلہ میں اس قسم کی شخصی چھان بین کی ضرورت موجودہ مفکرین کے سلسلہ میں تنقید کا اصل نشانہ ان کے افکار کو بنایا جائے گا، ان لوگوں کے افکار کو قرآن وحدیث پر جانچ کر دیکھا جائے گا کہ وہ دین کے صحیح ترجمان ہیں یا غلط ترجمان۔ جو لوگ اس قسم کی تنقید پر برہم ہوں، وہ اپنی برہمی سے صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ شخصیت پرستی کے مرض میں مبتلا ہیں، انھیں دین کا مجروح ہونا گوارہ ہے، مگر اپنے اکابر کا مجروح ہونا نہیں

Printed page