Al-Risala · November 1991

لحم خنزير

Al-Risala, November 1991, pp. 25–28

By Maulana Wahiduddin Khan

خنزیر کا گوشت کھانا اسلام میں حرام ہے۔ حوالہ کے لئے قرآن کی حسب ذیل آیتیں ملاحظہ ہوں: البقره 173، ، المائده ۳ ، الانعام ۱۴۵ ، النحل ۱۱۵۔ موجودہ زمانہ کے عیسائی حضرات اگرچہ خنزیر کا گوشت عملاً استعمال کر رہے ہیں۔ مگر مذہبی حکم کے اعتبار سے ان کے یہاں بھی خنزیر کا گوشت ممنوعہ غذاؤں میں سے ہے۔ بائبل کے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں:

اور سور کو کیوں کہ اس کے پاؤں الگ اور چر سے ہوئے ہیں، پر وہ جگالی نہیں کرتا۔ تمہارے لئے ناپاک ہے۔ تم ان کا گوشت نہ کھانا۔ اور ان کی لاشوں کو نہ چھونا۔ وہ تمہارے لئے ناپاک ہیں (احبار ۱۱: ۷)

اور سور تمہارے لئے اس سبب سے ناپاک ہے کہ اس کے پاؤں تو چر سے ہوئے ہیں۔ جگالی نہیں کرتا۔ تم نہ توان کا گوشت کھانا اور نہ ان کی لاش کو ہاتھ لگانا (استثناء ۱۴: ۸) حلال جانور گویا قدرت کے زندہ کارخانے ہیں۔ وہ انسان کے لئے پروٹینی خوراک فراہم کرنے کا قیمتی ذریعہ ہیں۔ یہ حیوانات غیر غذا (non-food) کو غذا (food) میں تبدیل کرتے ہیں۔ بکری گھاس کھاتی ہے اور اس کو دودھ اور گوشت میں تبدیل کرتی ہے۔ مکوڑے کھاتی ہیں اور ان کو گوشت میں تبدیل کرتی ہیں۔ مچھلیاں پانی کے معمولی جانور کھاتی ہیں اور ان کو قیمتی سفید گوشت میں تبدیل کرتی ہیں۔

مگر خنزیر کے اندر یہ صلاحیت نہیں۔ خنزیر نہ گھاس کھاتا ہے اور نہ کیڑے مکوڑے ۔ خوراک گندگی ہے۔ اس کا گوشت گندگی سے بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خنزیر کے کھانے کا اثر آدمی کے مزاج پر پڑتا ہے اور اس کا اخلاق بگڑ جاتا ہے۔

خنزیر بیماری کا سبب بھی ہے۔ کیوں کہ اپنی گندی خوراک کی وجہ سے وہ اکثر بہت سی متعدی اور حر ایسی بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے :

Pigs are subject to many infectious and parasitic diseases. (10/1282)

موجودہ زمانہ میں خنزیر کو سائنٹفک فارموں میں رکھا جاتا ہے اور اس کو گندی خوراک سے بچا کر دوسری خوراک کھلائی جاتی ہے۔ مگر واضح ہو کہ دوسری خوراک "غیر غذا" نہیں ہوتی بلکہ خود غذا ہوتی ہے۔ یعنی جو خوراک آدمی کھاتا ہے، عین وہی خوراک نام نہاد سائنٹفک فارموں میں خنزیر کو کھلائی جاتی ہے۔ گویا خنزیر یہ غذا کو غذا میں تبدیل کرتا ہے، جب کہ حلال جانوروں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ غیر غذا کو غذا میں تبدیل کرتے ہیں۔

خنزیر گھاس یا کیڑے مکوڑے نہیں کھاتا۔ وہ غلہ کھا کر اس کو گوشت میں تبدیل کرتا ہے۔ مگر یہاں بھی اس کا معاملہ دوسرے غذائی حیوانات سے مختلف ہے۔ اس کا تبدیل کیا ہوا گوشت زیادہ ترچر بی ہوتا ہے۔ اس کا بہت کم حصہ گوشت کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ فطرت کی خلاف ورزی خنزیر کا لفظ اکثر زبانوں میں برا مفہوم رکھتا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ خنزیر عام طور پر گندگی اس بنا پر اس کے نام کے ساتھ گندگی کا تصور وابستہ ہو گیا۔ انگریزی میں کہتے ہیں: Pig turns man into a pig. یعنی سور (کا گوشت) آدمی کو بھی سور بنا دیتا ہے۔ وبسٹر ڈکشنری میں لفظ پگ (pig) کا چھوٹ مفہوم حسب ذیل الفاظ میں لکھا ہوا ہے۔

A person regarded as acting or looking like a pig, a greedy or a filthy

یعنی سور جیسا آدمی، لالچی اور گندہ آدمی۔ فرانسیسی میں خنزیر کو کوشوں (couchon) کہتے ہیں۔ یہ لفظ فرانسیسی زبان میں پگ سے بھی زیادہ برے معنی رکھتا ہے۔

خنزیر کو گندہ خوراک سے بچانے کے لئے موجودہ زمانہ میں اعلیٰ قسم کے بڑے بڑے فارم بنائے گئے پگ کیپنگ (Pig-keeping) اب ایک مستقل فن بن گیا ہے۔ پگ فارموں میں ان کے لئے خاص طور پر صاف ستھری غذاؤں کا انتظام کیا جاتا ہے اور دوسری سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم خنزیر کے فارم مغربی دنیا میں اب تنقید کا موضوع بن رہے ہیں۔ لندن کے اخبار گار جین (۲۹ مئی ۱۹۸۳) میں دو کالم کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ــ کیا خنزیر ختم ہونے والے ہیں: Are pigs doomed? مضمون نگار Ralph Whitlock نے دکھایا ہے کہ مغرب میں خنزیر کے جدید فارم اب دن بدن ناقابل

برداشت ہوتے جارہے ہیں کیونکہ خنزیر مضمون نگار کے الفاظ میں انسان کا مد مقابل (Competitor) ہے۔ وہی خوراک کھاتا ہے جو انسان کھاتا ہے۔ خنزیر نہ گھاس کھاتا ہے اور نہ گوشت۔ اس کو غلہ کی بنی ہوئی چیزیں (ڈبل روٹی وغیرہ) کھلانی پڑتی ہیں۔ مزید یہ کہ خنزیر بہت پیٹو جانور ہے۔ وہ غیر معمولی طور پر زیادہ غذا کھاتا ہے ۔ چند خنزیر اگر کسی بیکری میں داخل ہوجائیں تو وہاں کی تمام ڈبل روٹی اور پنیر کھا کر ختم کردیں گے۔ موجودہ زمانہ میں خنزیر کی خوراک میں کفایت کی خاص کوشش کی جارہی ہے۔ خنزیر کے فارموں میں کمپیوٹروں کے ذریعہ ان کی خوراک پر کنٹرول کیا جاتا ہے تاکہ وہ ضرورت سے زیادہ نہ کھا سکیں۔ ساری کوششوں کے بعد بھی خنزیر کا یہ حال ہے کہ اس کے لاشہ میں ایک پونڈ کا اضافہ کرنے کے لئے اس کو ۵ پونڈ خوراک کھلانی پڑتی ہے ، Despite all modern aids to economic production, it still takes about 5 pounds of pig food to produce one pound of weight increase in the pig's مضمون نگار کے الفاظ میں یہ خنزیر کی بنیادی کمزوری (Fundamental weakness) ہے۔ اور گائے گھاس کو گوشت میں تبدیل کرتے ہیں۔ گویا جس چیز کو انسانی معدہ براہ راست ہضم نہیں کرسکتا اس کو خود کھا کر دودھ اور گوشت کی صورت دیتے ہیں اور ہمارے لئے کھانے کے قابل بناتے ہیں۔ مگر خنزیر کے اندر یہ صلاحیت نہیں۔ وہ خود انسان کی غذا (ڈبل روٹی وغیرہ) کھاتا ہے۔ اور وہ بھی اس طرح کہ ۵ پونڈ انسانی غذا کھا کر صرف ایک پونڈ گوشت انسان کو واپس کرتا ہے۔ خنزیر صرف یہ کرتا ہے کہ سستی خوراک کو مہنگی خوراک بنا دے :

The pig can only translate a cheap food into an expansive one مضمون نگار نے لکھا ہے کہ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا انفجار ہے۔ حتیٰ کہ وہ ایٹمی جنگ سے بھی زیادہ بڑا خطرہ ہے۔

The population explosion is a far greater threat than that of nuclear war. زمین پر انسانی آبادی ہندسی نسبت (Geometrical progression) سے بڑھ رہی ہے۔ اندازہ کے مطابق ۲۰۱۵ میں دنیا کی موجودہ آبادی دگنا ہو جائے گی۔ ایسی حالت میں خنزیر کا مستقبل، مضمون نگار کے نزدیک، اکیسویں صدی میں یہ نظر آتا ہے کہ ان کی بہت تھوڑی تعداد کو چھاچھ اور ٹکڑوں کی خوراک مل سکے گی۔ اور بقیہ تمام خنزیر غذائی اشیاء کی قلت کے سبب دوبارہ گندگی کھانے والے جانور (scavenger)

بن کر رہ جائیں گے۔

معلوم ہو ا کہ خنزیریا تو گندگی کھاتا ہے یا انسانی خوراک۔ خنزیر کو خدا نے اس لیے بنایا تھا کہ وہ گندگی کو اپنی خوراک بناکر صفائی کرم چاری،، کا کام انجام دے۔ مگر انسان نے اس کو اپنی خوراک بنا لیا اور اس کی خاطر جدید طرز کے بڑے بڑے فارم بنائے۔ قدرت کے انتظام میں یہ مداخلت صرف اس قیمت پر ہوئی کہ انسان اپنی خوراک کا زیادہ حصہ اس کو کھلا کر اس سے اپنے لیے کم خوراک حاصل کرے۔ خدا نے اپنی دنیا میں جو نظام قائم کیا ہے، وہ حد درجہ حکمت پر مبنی ہے۔ اس میں مختلف پہلوؤں کی مجموعی رعایت پائی جاتی ہے۔ یہ نظام اتنا کامل ہے کہ ایک جز میں کوئی فرق کیا جائے تو دوسرے تمام اجزاء میں اختلال پیدا ہو جاتا ہے۔

ایسی حالت میں انسان کے لیے واحد درست طریقہ یہ ہے کہ وہ قدرت کے نظام میں دخل اندازی سے بچے، وہ اس کی مکمل پیروی کرے۔ اگر آدمی نے قدرت کے اس نظام کو بدلنے کی کوشش کی تو وہ صرف اس قیمت پر ہو گا کہ اس کے بعد ماحول میں ایسی خرابی پیدا ہو جائے جس پر قابو پانا اس کے لئے ناممکن ہو۔

Printed page