Al-Risala · November 1991

اخلاق پر اثر

Al-Risala, November 1991, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

جانوروں کا گوشت سادہ طور پر محض ایک خوراک نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ اخلاقیات سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے۔ بکری کا گوشت کھانے سے بکری والی صفات بنتی ہیں اور بھیڑیا کا گوشت کھانے سے بھیڑیا والی صفات۔ اسی طرح خنزیر کا گوشت بھی آدمی کے اندر مخصوص اخلاقی صفت پیدا کرتا ہے۔ یہ صفت انسانی زندگی کے لیے نا پسندیدہ ہے۔ اس لئے اس کو شریعت میں حرام قرار دیا گیا ہے۔

اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک تقابلی مطالعہ کیجئے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خنزیر کا گوشت زیادہ تر مغربی قوموں میں کھایا جاتا ہے۔ مشرقی قوموں میں بحیثیت خوراک اس کا رواج ناقابل ذکر حد تک کم ہے۔ مغربی قوموں میں خنزیر کی حیثیت ایک عام غذا کی ہے۔ اس کے برعکس مشرقی قوموں کی عام غذا غلہ اور سبزی اور دودھ جیسی چیزیں ہیں۔ مشرق کی جن قوموں (مثلاً مسلمان) میں گوشت کھایا جاتا ہے۔ وہ صرف حلال گوشت ہے جس میں خنزیر کا گوشت شامل نہیں۔

اب دونوں قوموں کا اخلاقی حیثیت سے تقابل کیجئے۔ مشرقی قوموں میں مذہب اور روحانی علوم کا ارتقاء ہوا۔ دوسری طرف مغربی قوموں میں ایسے علوم کا ارتقاء نہ ہوسکا۔ درمیان زیادہ تر ٹیکنکل علوم کو ترقی حاصل ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حلال غذا آدمی کے اندر ذوق لطیف پیدا کرتی ہے اور حرام غذا ذوق کثیف پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح قدیم زمانہ میں زیادہ تر مشرقی قوموں کو سیاسی اور فوجی غلبہ حاصل تھا۔ موجودہ زمانہ میں غلبہ کی حیثیت زیادہ تر مغربی قوموں کو حاصل ہو گئی ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو مشرقی قوموں کے غلبہ کا زمانہ نسبتاً زیادہ پر امن نظر آئے گا۔ مشرقی قوموں نے کبھی اس بے رحمانہ درندگی کا ثبوت نہیں دیا جس کا نمونہ موجودہ مغربی قوموں میں دکھائی دیتا ہے۔

مغربی قوموں نے تاریخ کی سب سے زیادہ بھیانک لڑائیاں چھیڑی ہیں۔ انھوں نے ہلاک ہتھیاروں کو پہلی بار انڈسٹری کی حیثیت دے دی۔ آج یہ لوگ عالمی سطح پر قوموں کو صرف اس لئے لڑاتے ہیں تاکہ یہ قومیں بھاری قیمت پر ان سے ہتھیار خریدیں اور ان کی وار انڈ سٹری کامیابی کے ساتھ

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حلال غذا آدمی کے اندر پر امن نفسیات پیدا کرتی ہے، اور حرام غذا آدمی کے اندر تشدد کی نفسیات پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

زیر طبع کتابیں الربّانية حیاتِ بشری کا ربانی طریقہ صفحات ۲۲۳ کاروانِ ملّت صفحات ۲۰۰ ڈائری (جلداول : ۸۳-۱۹۸۳) صفحات ۳۹۶ ڈائری (جلد دوم : ۸۶-۱۹۸۵) صفحات ۴۹۱

Printed page